حدود زندگی سے تجاوز۔۔۔تحریر: اقبال حیات آف برغذی
عورت مہرومحبت،خلوص اور وفا مہک سے معطر اللہ رب العزت کی تخلیق کانام ہے۔یہ ماں،بہن،بیٹی اور بیوی کے رنگ میں دنیا کی زندگی کو خوشگوار اور پُرلطف بنانے کا کردار ادا کرتی ہے۔اپنے تواپنے غیروں کے دُکھ درد سن کربے ساختہ اس کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔۔اس کو اگرشریک حیات کے روپ میں دیکھاجائے تو زندگی کے سہارے کے رنگ میں آتی ہے۔بہن اوربیٹی کے روپ میں پیار ومحبت کی دیوی بن جاتی ہے۔ماں کی صورت میں اللہ رب العزت کی طرف سے ایک انمول نعمت کے رنگ میں ڈھلتی ہے۔اس قسم کے رنگین اوصاف کی ملکہ ہونے کے باوجود خالق کی یہ تخلیق ہردور میں مختلف رنگوں میں ظلم وزیادتی اور ناانصافیوں کاشکار رہی ہے۔کبھی بیٹی کی پیدائش کواپنے لئے عار سمجھ کرزندہ درگور کی گئی ہے۔کھبی اسے کمترحیثیت کی مخلوق سمجھ کراس کی تضحیک کی گئی ہے۔کبھی اس کے حقوق غصب کرکے اسے فریادی بننے پر مجبور کیا گیاہے۔سرکار دوعالم ﷺ کی بعثت کے بعد آپؐ نے اس مظلوم طبقے کے حقوق کی پاسداری کویقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انسانی معاشرے میں اس کی عزت اور مقام کواُجاگر کئے۔۔ماں کی صورت میں اس کے قدموں کے نیچے جنت ہونے کا تصور دیکر اس کے حصول کواولاد کی طرف سے اس کی فرمانبرداری اورقدردانی سے مشروط فرمائے ہیں۔بیوی کے طورپر اس کے ساتھ حسن سلوک کی بنیاد پرشوہر کوبہترین انسان کی حیثیت سے نوازا ہے۔بیٹی کی حیثیت سے اسے اللہ تبارک وتعالی کی رحمت قرار دئیے ہیں۔اسلام شرم وحیا کو عورت کے لئے شب روز گزارنے کے اعزاز سے نوازتا ہے۔بیگانہ اور نامحرم مرد کی عورت پرپڑنے والی نظروں کوشیطانی تیر سے تشبیہ دی گئی ہے۔اس لئے سرکاردوعالمﷺ فرماتے ہیں کہ اس شخص پرخدا کی لعنت ہوجو کسی اجنبی نامحرم عورت کودیکھے اور اس عورت پربھی لعنت جوخود کو دکھانے پرراضی ہو۔
بازار کی زینت بننے اورنامحرم مردوں کی نظروں کاشکار ہوکر جب عورت گھرآتی ہے توخاندان مختلف قسم کی پریشانیوں اور باہمی ناچاقیوں کاشکار ہوتا ہے۔غیروں کے ساتھ گھر سے بھاگنے جیسے گھناونے اور ذلت آمیز واقعات رونما ہوتے ہیں۔یوں موجودہ دور میں جہاں عورت اپنے لئے متعین زندگی کے اسلوب کو پامال کررہی ہے وہاں مردوں کی طرف سے ان کے حقوق کی آدائیگی سے عہدہ براہ ہونے کواہمیت نہیں دی جاتی۔یہاں تک کہ بیٹی کومیراث میں حقدار کے طورپر تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔حالانکہ سرکاردوعالم ﷺ کے ایک ارشاد گرامی کامفہوم یہ ہے کہ جس شخص کے ایک بیٹی ہو اسے زمانہ جاہلیت کی طرح زندہ درگور نہ کیا ہو نہ اسے ذلیل خوا ر کیا ہو اور حقوق دینے میں لڑکوں کو اس پرترجیح نہ دی ہو۔اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کریگا۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



