چترال (نما یندہ چترال میل) پی پی پی اپر چترال کے صدر امیراللہ خان نے لویر چترال کے پی پی پی رہنماؤں عالم زیب ایڈوکیٹ، قاضی سجاد ایڈوکیٹ، سبحا ن الدین، سرورکما ل ایڈوکیٹ اور شیر نادر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے کہ گزشتہ دنوں کی بارشوں سے اپر چترال کئی دیہات میں سیلاب کی زد میں آکر متاثر ہوگئے جبکہ اس سے قبل ریشن گاؤں کا بیشتر حصہ دریا برد ہوگیا لیکن صوبائی حکومت کا کوئی وزیر دورہ کرنے کی زحمت کی اور نہ ہی متعلقہ محکمہ جات اپنے فرائض سرانجام دے کر سیلاب زدہ عوام کی مشکلات کو کم کرنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں جبکہ بلدیاتی نمائندے بے دست وپا ہیں جن کے پاس نہ فنڈز ہیں اور نہ اختیارات۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیلاب اور بارشوں سے سینکڑوں گھرانے براہ راست متاثر ہوچکے ہیں لیکن ان کے لئے راشن کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو ان کا کوئی پروا نہیں ہے جس کی وجہ سے اس صوبائی حکومت کو ملک کی تاریخ کا غافل، غیر ذمہ دار اور کرپٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ریشن میں چترال گلگت روڈ کی بندش کے بعد عیدالاضحی کے موقع پر انجینئر امیر مقام کو علاقے میں بھیجنے اور وہاں متبادل سڑک کے لئے زمین کا معاوضہ دلاکر ٹریفک بحال کرانے پر وفاقی حکومت کا اور پی پی پی کے سینئر رہنماؤں نجم الدین اور فیصل کریم کنڈی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ پی پی پی کے رہنماؤں نے پی ڈی ایم اے کو اپر اور لویر چترال میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے ایکٹیو کرنے اور متاثر ین کو معقول معاوضہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایریگیشن چینلوں کے ہیڈورکس کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف چترال کو صوبائی حکومت کی طرف سے فنڈز کی بندش اور یونیورسٹی کے ملازمین کو کئی مہینوں سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی اس غیر ذمہ داری سے ہزاروں طلباء وطالبات کا مستقبل داو پر لگ گئی ہے۔ ریشن میں چترال گلگت روڈ کو دریا بردگی سے بچانے کے لئے حفاظتی پشتے کی تعمیرکے بارے میں انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے اس بارے میں گزشتہ پانچ سالوں سے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور یہ حکومت کے لئے شرمناک بات ہے کہ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیرزادہ کے ہاتھوں گزشتہ مئی میں افتتاح ہونے کے باوجود ابھی تک اس کے فنڈز ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو ریلیز نہیں ہوئے ہیں۔
تازہ ترین
- ہومماڈل یوناٸٹیڈ نینشنز کانفرنس Model United Nations Conference,(MUN) الخدمت فاٶنڈیشن اسکول قتیبہ کیمپس چترال میں (MUN) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا
- مضامینپھول جیسے بچپن پر ظلم: بچوں سے مشقت اور بھیک منگوانے کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد
- ہومضلع لوئر چترال پولیس میں 07 نئے جوان شامل، ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان (PSP) نے تقرر نامے تقسیم کر دیے۔
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومچترال اسکاؤٹس نے چترال لیویز کو 1 کے مقابلے میں 4 گول سے ہرا کر چیمپیئن شپ اپنے نام کر لی
- ہوم*پرنس رحیم آغا خان کے دورہ لوئر چترال کے سلسلے میں آر۔پی۔او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کا تھانہ لٹکوہ اور دیدار گاہ گرم چشمہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”یہ سسٹم کیا بلا ہے “
- ہومچترال لوئر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینئر کی سیٹ سات ماہ سے خالی، عوام و کنٹریکٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا
- ہومچترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی



