چترال (نما یندہ چترال میل) کالاش ویلی رمبور کے عمائیدین نے صوبائی حکومت، وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ اور این ایچ اے حکام سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ کالاش ویلی رمبور روڈ پر 76 سال بعد جو کام عوامی مطالبے پر شروع کیا گیا ہے۔ اسے بلا کسی مصلحت اور تاخیر کئے الائمنٹ شدہ مقامات سے گزار کر آخری گاوں شیخاندہ رمبور تک پہنچایا جائے اور اس کے الائمنٹ میں بیجا تبدیلی کرنے کا مطالبہ کرنے والے افراد کی باتوں پر کان نہ دھرا جائے۔ کیونکہ ان کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ چترال پریس کلب میں ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رمبور اور بمبوریت کے عمائیدین سابق کونسلر عبیداللہ، سابق کونسلر عنایت اللہ، اقلیتی کونسلر نابیگ ایڈوکیٹ، سابق اقلیتی کونسلر شہزادہ خان، عبدالمتین، فضل اکبر اور عبد الجمیل نے کہاکہ 76 سال شدید انتظار اور سفری صعو بتیں برداشت کرنے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلی محمود خان اور معاون خصوصی وزیر زادہ کی خصوصی دلچسپی اور انتھک کوششوں کی بدولت روڈ کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے۔ جس کیلئے ہم دل و جان سے ان کے شکر گزار ہیں تاہم ہم حکومت اور متعلقہ ادارے کے علم میں یہ بات لانا چاہتے ہیں کہ چند افراد ناسمجھی یا خود غرضی کی بنا پر رمبوربڑان کورو میں روڈکے الائمنٹ تبدیل کرنے کا بے تکا مطالبہ کر رہے ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ روڈ کی زدمیں آنے والے عبادت گاہیں سب کیلئے مقدس ہیں اور گھر سب کو پیارے ہیں لیکن ان کی قربانی دیے بغیر روڈ کی تعمیر ممکن نہیں ہے اس لئے این ایچ اے اپنے الائمنٹ پر عمل کرے۔ اس میں رد و بدل کا مطالبہ کرنے والے دراصل اس روڈ کو نامکمل دیکھنا چاہتے ہیں خصوصا شیخاندہ رمبورکو سڑک سے محروم رکھنا چاہتے ہیں جو کہ کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ اقلیتی رہنما نابیگ ایڈوکیٹ اور شہزادہ خان کالاش نے کہا کہ کالاش قبیلے کے لوگ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ اور ان کے مذہب میں بتوں کی موجودگی یا پرستش کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اور نہ کالاش گھروں میں بت رکھے جاتے ہیں کہ انہیں روڈ کیلئے مسمار کرنے سے کالاش تہذیب و ثقافت کو کوئی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا، معاون خصوصی وزیر زادہ اور این ایچ اے سے پر زور مطالبہ کیا کہ بڑان کورو رمبور میں پہلے سے طے شدہ روڈ الائمنٹ کو کسی صورت تبدیل نہ کیا جائے بصورت دیگر شدید احتجاج کیا جائے گا۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



