دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔محمد جاوید حیات۔۔۔۔ہماری تربیت ”
چترال کے مشہور بزرگ شاعر بابا سیا ر نے کہا۔۔
مستانا ام سیار چو کشادم لب از عدم
مادر بجا? شیر بکامم شراب ریخت
ترجمہ: اے سیار دنیامیں انکھیں کھولا تو مست مست تھا میری ماں نے میرے خلق میں دودھ کی جگہ شراب دے ڈالی تھی۔۔
ماں کی گود پہلی تربیت گاہ’ باپ کا کاندھا پہلا سکول۔۔پھر باقاعدہ سکول۔۔آگے معاشرہ,گلی کوچے ہمسا? رشتہ دار, دوست احباب سب تربیت کی آماجگاہ ہوتے ہیں انسان ان سے سیکھتا ہے۔بات کرنا محبت نفرت کرنا,عزت احترام کرنا خدمت کرنا۔۔۔۔اس ل? انسان کو ” معاشرتی حیوان ”کہا گیا ہے۔۔سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم تربیت سے عاری نظر آتے ہیں۔ہم محبت سے نفرت کرتے ہیں اور نفرت کرکے خوش ہوتے ہیں ہم گالی دیتے ہو? فخر محسوس کرتے ہیں کسی کی تعریف ہم سے نہیں ہوسکتی۔ہم کسی کی حمایت میں اندھے ہو جاتے ہیں کسی کی مخالفت میں بھی اندھے بہرے ہوجاتے ہیں۔ہم حقیقت ماننے کے ل? کبھی تیار نہیں ہوتے۔ہماری تربیت کہاں سے ہو?ی کیسے ہو?ی۔ماں نے کیوں نہیں بتایا کہ بیٹا کسی کو گالی مت دیا کرو۔باپ نے کیوں نہیں بتایا کہ کسی کی چیز چوری نہ کرو۔استاد نے کیوں نہ?یں بتایا کہ ملک و قوم سے وفاداری کرو۔انہوں نے اپنی کلاس میں آخر کیا پڑھایا۔Natural science پڑھایا لیکن ہم ایک پنسل خود نہیں بنا سکتے۔social science پڑھایا لیکن ہم شہری حقوق, ملکی مفادات, قومی فلاح, انسانی رشتے سب سے نابلد ٹہرے۔ادب پڑھایا لیکن ہم حیوانی خصلتوں سے باہر نہ نکل سکے۔۔آخر ہماری یہ تربیت گاہیں۔۔۔یہ کیا ہیں۔۔یہ ماں کی گود۔۔یہ تو اجھڑی گود ہے کہ اس کا بیٹا گالیاں دے رہا ہے اس کا بیٹا کرپشن کر رہا اس کے بیٹے نیقوم کا کباڑا نکالا ہے۔کہ اس کا بیٹا ذاتی مفادات کی خاطر قوم کو داو پہ لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔کہ اس کا بیٹا کرسی کی خاطر دشمن سے dictation لے رہا ہے۔کہ اس کا بیٹا نظام سسٹم قانون آ?ین سے بالاتر ہوکر شخصیت پرستی میں دیوانہ ہو رہا ہے۔یہ کیسی ماں ہے یہ تو دعا?یں بھی نہیں دیتی۔یہ کیسا باپ کیسا استاد اور کیسے ادارے ہ?یں۔یہ کیسی ڈگریاں ہ?یں۔ان ڈگری والوں سے ان پڑھ لوگ تربیت یافتہ ہیں اس کے نزدیک انسانیت کی قدر ہے۔ہمارے دفتروں میں بیٹھے أفیسرز ہماری عدالتوں کے ججز ہماری پارلیمنٹ میں موجود لیڈرز ہمارے سیاسی کارکن ہمارے نوجوان یہ تو سب تربیت سے عاری ہیں۔ہماری تقریریں ہمارے نعرے ہمارے منشور ہمارے سیاسی ضابطے سب بے ترتیب ہیں۔ہمارے اقتدار کی جنگ ہماری کرسی کی کھینچاتانی ہماری جد و جہد انسانوں جیسی نہیں ہیں۔ہماری منزل کیا ہے۔ہم چاہتے کیا ہ?یں۔ہم کرتے کیا ہیں۔کیا دنیا کی کو?ی دوسری قوم ہم جیسی بے ترتیب ہے۔اب یہ بے ترتیب سیاسی منظر نامہ ہماری جھڑوں تک ہلا دیا ہے۔آپس میں نفرتیں عداوتیں اور ضد انتہا کو پہنچ گ?ی ہے۔آفیسرز دفتروں میں لڑ رہے ہیں دکاندار بازاروں میں لڑ رہے ہیں۔اساتذہ سکولوں میں دست و گریبان ہیں۔بحث مباحثے ہ?یں گالم گلوج ہیں۔قوم و ملک کو کو?ی نہیں سوچتا۔بٹھو سینیر نے اٹم بم بنانے کی ابتداکی اگر ایسا کہا جا? تو دوسری پارٹی والا سر توڑنے کو تیار ہوگا۔نواز شریف نے موٹر ویز کی ابتدا کی اگر ایسا کہا جا? تو مخالف تمہارا گریبان پکڑے گا کویڈ 19 ٹنشن میں خان کی پالیسی کامیاب رہی اور اقوام متحدہ میں تقریر یادگار تھی اگر ایسا کہا جا? تو ادھر سے گالیاں سننی پڑیں گی۔صوبے میں اے این پی کی حکومت أ?ی تو چترال میں یادگار کام کیے یوں کہوگے تو مار پڑے گی۔یہ عدم برداشت اور حقائق چھپانے کی فضا ہمیں لے ڈوبے گی۔کو?ی نہیں سوچتا کہ یہ ملک ہمارا ہے اس کے ل? جس نے اچھا کام کیا وہ بھی ہمارا ہے اور جس نے کچھ برا کیا وہ بھی ہمارا یے۔یہ کو?ی نہیں سوچتا۔نفرت کی سوچ پیدا کی گ?ی ہے عداوت کی تربیت دی گ?ی ہے۔اگر خدا نخواستہ مورچوں میں بیٹھے جوان ایک دوسرے سے اس گندی سیاست کی وجہ سے نفرت کریں۔کلاس روم میں بیٹھے بچے اپنے سیاسی باپ کی باتیں سن سن کر ایک دوسرے سے نفرت کریں گھروں میں بیٹھی بیٹیاں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں تو یہ قوم بکھر جا? گی۔اس قوم کی مان ٹوٹ جا?گی غیرت جواب دے گی۔اتحاد پارہ پارہ ہو جا? گا۔اللہ کے ل? اس قوم پر رحم کرو۔۔تمہارا ہوس اقتدار کرسی کی لالچ اور دو دن کی زندگی میں عارضی شان وشوکت ہمیں پارہ پارہ نہ کرے۔ہم انسانی اقدار سے محروم ہوتے جا رہے ہ?یں اگر کو?ی شہری اپنے وزیر اعظم کو گالی دے تو اس کو اس ملک میں رہنے کا کیا حق ہے۔۔ہم انگشت بدندان ہ?یں کہ ہماری یہ کیسی تربیت ہو?ی ہے اور ہورہی ہے۔۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



