دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد جاوید حیات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدارا متحد ہو جاو
خدارا متحد ہو جاو
روز ازل سے انسانیت کو اتحاد کا درس دیا جاتا رہا اس کے فوائد میں امن سکون ترقی خوشحالی ناقابل تسخیر ہونا مقام پیدا کرنا وغیرہ شامل ہیں۔۔۔لفظ انسان انس سے نکلا ہے انس محبت کو کہتے ہیں۔۔۔تب انسان ایسی مخلوق جو آپس میں امن و محبت سے رہے۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی جس قوم کو بھی اتحاد کی نعمت نصیب ہوئی وہ قوم ناقابل تسخیر رہی۔۔۔اس بر عظیم میں ہم نے بھی اتحاد و اتفاق ہی کی بنیاد پر آزادی حاصل کر لی تھی۔بابائے قوم نے ہمیں اتحاد یقین اور تنظیم کا نصب العین دیا تھا۔اس کا ہم نے کبھی کبھی اظہار بھی کیا۔۔ہم نے جنگیں لڑیں ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ہم نے ریاستی بے چینی اور بین القوامی سازشوں کا مقابلہ کیا لیکن ہم پھر بھی سبق سیکھنے سے عاری ہیں کہ سب مدافعت اتحاد کی مرہون منت تھی۔ہمیں محسوس کرنا چاہیے کہ ہمارا جغرافیہ دنیا کے ممالک میں سب سے غیر محفوظ ہے۔۔ارد گرد خوفناک دشمنوں کی سازشیں ہیں۔پہلے ہی دن سے ہمارے پاس کشمیر مشرقی پنجاب اوربلوچستان کے تنازعات ہیں۔دریاووں کا مسئلہ ہے۔۔پھیلی ہوئی مشکل سرحدات ہیں۔جغرافیہ ہی کا مسئلہ تھا کہ ہمارا ایک بازو ٹوٹ گیا۔ہم سبق حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔۔اب ہمارے نہیں بلکہ ہمارے وجود کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ایک اٹیمی مضبوط پاکستان دشمنوں کی نظروں میں کھٹکتا ہے۔۔تم لوگ جمہوریت کے نام پہ اقتدار حاصل کرتے ہو اور خدارا اس کرسی کے لیے لڑتے ہو اپنے عارضی راج دائم رکھنے کی کوشش کرتے ہو۔اس سے لا پرواہ رہتے ہو کہ ملک کے باشندوں پہ کیا بیتتی ہے۔وہ کس عذاب میں مبتلا رہتے ہیں۔۔نعوذ با اللہ جب جنگ چھڑتی ہے تو عذاب کوں سہتا ہے ہمارا تجربہ ہے۔دہشت گردی میں کس کے پرخچے اڑ گئے تجربہ ہے۔ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے افراد زر سے کون بہت متاثر ہوتا ہے خدا را خیال رہے۔۔آپ کا اتحاد ہمارے لیے نعمت ہے۔آپ لڑتے ہیں۔ تو ہم تہس نہس ہو جاتے ہیں۔۔اپنے اختلافات بھول جاؤ اس مٹی کے لیے۔۔ اس کے غریب عوام کے لیے۔۔ اس کے مزدور کسانوں کے لیے۔۔اسمبلی میں سکون سے بیٹھ کے ایک دوسرے کی باتیں سنو۔اس دھرتی کے لیے سنو۔۔اپنی پالیسیاں اس دھرتی کی خاطر بناؤ۔۔دیکھو دشمن تجھے نچا رہا ہے۔۔تمہارے محافظ کو تم سے بد زن کر رہا اس پر سے تمہارا اعتماد اٹھا رہا ہے۔۔۔تمہیں قرضوں کے نیچے کچل رہا ہے۔۔۔اے قوم کے غیر سنجیدہ رہنماؤ کیا کر رہے ہو۔۔ خدا را متحد ہو جاؤ۔۔آپ اتنے اپنے آپ کو بھول گئے ہیں کہ عوام کچھ محسوس نہیں کرتے۔۔حکومت گرے حکومت قائم ہو جائے۔۔وہ مایوسی کی چکی میں پیس رہے ہیں۔۔بہتر سالوں میں آپ کے سارے وعدے جھوٹے نکلے اور تم ہرجائی نکلے۔۔روٹی کپڑا مکان،قرض اتارو ملک سنوارو،تبدیلی اور احتساب۔۔۔ کیا یہ سب مداری کے کھیل ہیں۔پتلی تماشا ہیں۔۔اللہ سنتا ہے۔۔۔ایسا نہ ہو کہ اس غریب عوام کی دعا قبول ہو کوئی انقلاب آئے۔ خدارا ایک پیچ پہ آجاؤ یہ دو دن کی زندگی ہے اقتدار بھی دو دن کا۔۔ کرسی بھی دو دن کی۔۔موج میلے بھی ایسے ہی فانی۔۔ہم آپ کو دعا دینگے کہ ہمارا نام رہے اور تمہاری شان برقرار رہے۔
تازہ ترین
- ہومماڈل یوناٸٹیڈ نینشنز کانفرنس Model United Nations Conference,(MUN) الخدمت فاٶنڈیشن اسکول قتیبہ کیمپس چترال میں (MUN) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا
- مضامینپھول جیسے بچپن پر ظلم: بچوں سے مشقت اور بھیک منگوانے کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد
- ہومضلع لوئر چترال پولیس میں 07 نئے جوان شامل، ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان (PSP) نے تقرر نامے تقسیم کر دیے۔
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومچترال اسکاؤٹس نے چترال لیویز کو 1 کے مقابلے میں 4 گول سے ہرا کر چیمپیئن شپ اپنے نام کر لی
- ہوم*پرنس رحیم آغا خان کے دورہ لوئر چترال کے سلسلے میں آر۔پی۔او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کا تھانہ لٹکوہ اور دیدار گاہ گرم چشمہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”یہ سسٹم کیا بلا ہے “
- ہومچترال لوئر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینئر کی سیٹ سات ماہ سے خالی، عوام و کنٹریکٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا
- ہومچترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی



