پرا نا سکول سے مراد کورونا سے پہلے کا سکول نہیں بلکہ 50سال پہلے کا سکول ہے کیونکہ 50سال پہلے کا سکول گاوں کا فلا حی مر کز بھی ہو تا تھا پوری برادری سکول کے ساتھ منسلک ہوتی تھی گاوں میں جر گہ ہو اہم مشورہ ہو کوئی بڑا معا ملہ ہو اس کی تاریخ سکول کی چھٹی اور سکول ما سٹر کی رخصت یا فراغت کو دیکھ کر طے کی جا تی تھی کمیو نیٹی کے لو گ سکول ما سٹر کو صر ف بچوں کا استاذ ہی نہیں پو رے گاوں کا سر براہ بھی مانتے تھے جب بچے دیکھتے تھے کہ گاوں کے بڑے لو گ، معتبر ات، عمائدین اور سیا سی و سما جی رہنما ہمارے استاذ کو اپنا رہبر ما نتے ہیں تو بچے بھی استاذ کی عزت اور خد مت کر نے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جا تے تھے 1950اور 1960ء کی دہائیوں میں ہمارے پرائمیری سکول کا استاذ گاوں کے چوہدری، ملک یا خان کے برابر عزت اور تکریم کا ما لک ہو تا تھا گاوں کے پرائمیری سکول میں ہم کو پتہ ہو تا تھا کہ قریبی دیہات کے سکولوں میں اساتذہ کرام کے کیا نام ہیں؟ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ہمارے اساتذہ ان کے نام لیتے تھے بلکہ وجہ یہ تھی کہ لو گ ان کے نا م لیتے تھے اپنے چھوٹے مو ٹے جھگڑوں کے فیصلے ان کے پا س لے جا تے تھے کسی بڑے افیسر کے دورے کی بات کرتے تو سب سے پہلے سکول کے استاذ کا نا م لیتے تھے یہ سلسلہ ہمارے جا نے کے بعد بھی جا ری رہا صو بائی گورنر اسلم خٹک دورے پر آئے تو سکول کے استاذ نے گاوں کے عما ئدین کی قیا دت کر کے ان سے ملا قات کی، وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو آئے تو سکول کے استاذ کو گاوں کے وفد کا سر براہ بنا یا گیا سب سے کلا سیکی مثال صو بائی گور نر جنرل فضل حق کے دورے کی ہے گاوں کے وفد کی سر براہی یو نین کونسل کا چیئر میں کر رہا تھا قطار میں کھڑے لو گوں سے ہا تھ ملا تے ہوئے جب استاذ کے پا س پہنچا تو ان کے وضع قطع اور لباس کو دیکھ کر پو چھا کیا کام کر تے ہو؟ انہوں نے کہا سکول ٹیچر ہو ں فضل حق نے پو چھا کس گریڈ کا سکول ہے؟استاذ نے کہا پرائمیری سکول ہے فضل حق نے پو چھا کتنے طلباء ہیں؟ استاذ نے کہا 86فضل حق نے مو قع پر مو جو د افیسر کو بلا یا اور حکم دیا کہ سکول کو مڈل کا درجہ دیا جائے تیسرے دن پرائمیری سکول کو مڈل کا درجہ دیا گیا اس واقعے میں جہاں صو بائی گورنر کی قیا فہ شنا سی کا کمال نظر آتا ہے وہاں اس کی انتظا می قابلیت اور اس کے حکم کی عملداری کا نمو نہ بھی ملتا ہے مجھے یا د ہے ہمارے سکول کا زما نہ ایسا تھا جب امریکی سفارت خا نے کی طرف سے جسما نی سزا پر پا بندی نہیں لگا ئی گئی تھی اساتذہ گھر کا کام دیکر اگلے روز نا لا ئق بچوں کو جسما نی سزا دیتے تھے غیر حا ضر ی پر بھی جسما نی سزا ہو تی تھی ہمارے استاذ نے اپنی لا ٹھی کا نام مو لا بخش رکھا تھا ہم اس کو بینج کہتے تھے استاذ کہتا تھا کہ مو لا بخش بہشت سے آئی ہے تاریخ میں پہلی سزا باوا آدم کو ملی تھی سکول میں جس بچے کو سزا دی جا تی اُس کا باپ، چچا یا بھائی اگلے دن استاذ کا شکریہ ادا کرنے آتا تھا اور دوسرے بچوں کے سامنے استاذ سے کہتا تھا اس کو خوب ما رو یہاں تک کہ یہ انسان بن جائے میں تمہارایہ احسان عمر بھر نہیں بھو لوں گا مجھے یا د ہے ایک دن کسی ما رنہ کھا نے والے بچے کی ماں سکول آئی تھی اس نے انڈو ں کی ٹو کری استاذ کے سامنے رکھ دی اور کہنے لگی میرے بچے کو آپ نے ایک بار بھی نہیں ما را یہ کیسے پڑھے گا ایک دن اس کو بھی خوب مارو ایک ہاتھ پر چار دوسرے ہاتھ پر چھ بینج لگاؤ تا کہ یہ پڑ ھا ئی میں دھیاں دے استاذ نے انڈوں کی ٹوکری اس کو واپس کر دی اور مارنے کا فلسفہ بتا دیا استاذ نے خا تون کو سمجھا یا کہ جو بچے ما ر کھا تے ہیں وہ سبق میں کو تا ہی کرتے ہیں یا غیر حا ضرہو تے ہیں یا تختی اچھی طرح لکھ کر نہیں لا تے تمہارا بچہ لا ئق بھی ہے گھر کا کام بھی کر تا ہے شرارت بھی نہیں کر تا غیر حا ضر بھی نہیں ہوتا یہ ایسا بچہ ہے جو دوسروں کی سزا سے عبرت اورسبق حا صل کر تا ہے تم بھی اس کو شا باش دیدو اور آگے پڑ ھاؤ آگے جا کر بڑا آد می بنے گا اور واقعتا اس خا تون کا بیٹا کا میاب آد می بن گیا نصف صدی کے بعد ایسا زما نہ آیا کہ گاوں میں استاذ کی کوئی عزت نہیں ٹریکٹر چلا نے والا بھی استاذ سے زیا دہ مقبول آدمی ہو تا ہے اگر استاذ کسی بچے کو جسما نی سزا دیدے تو اُس کا باپ سکول آکر استاذ کو دھمکی دیتا ہے کہ میں تمہاری شکا یت لگا دوں گا بڑے افیسر کی مجلس میں استاذ کو بلا نے کا دستو ر نہیں رہا، گاوں کے چھو ٹے مو ٹے معا ملا ت میں استاذ کی رائے لینے کا کوئی رواج نہیں ہے گاوں میں اگر ٹی ایم اے کا ٹھیکہ دار ہے تو وہ استاذ سے بڑا آدمی ہے گاوں میں اگر کوئی کونسلر ہے تو وہ استاذ پر رعب جھا ڑ تا ہے آج مجھے پرا نا سکول بہت یا د آتا ہے جب ہمارا سکول گاوں کا فلا حی مر کز تھا اور ہمارا استاذ اہم معا ملات میں لو گوں کی رہنما ئی کر تا تھا۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



