چکدرہ چترال ایکسپریس وے کے منصوبے کو التوا میں ڈالنے اور مبینہ طور پر سوات کی طرف منتقل کرنے کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس چترال پریس کلب میں منعقد ہوا

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نمائند ہ چترال میل) چکدرہ چترال ایکسپریس وے کے منصوبے کو التوا میں ڈالنے اور مبینہ طور پر سوات کی طرف منتقل کرنے کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس چترال پریس کلب میں منعقد ہوا جس میں اس بات پر شدید کا اظہار کیا گیا کہ سابق دور حکومت میں منظور شدہ منصوبے سے صوبے کے پانچ اضلاع کو محروم کیا جارہا ہے اور اس ظالمانہ فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو چترال سے لے کر دیر اور باجوڑ تک عوام سخت رد عمل پر مجبور ہوں گے۔ سابق ضلع ناظم مغفرت شاہ کی دعوت پر منعقدہ اس اجلاس میں مولانا عبدالرحمن (جے یو آئی) محمد حکیم ایڈوکیٹ (پی پی پی)، شہزادہ پرویز (پاکستان مسلم لیگ ن)، مولانا جمشید احمد (جماعت اسلامی)، الحاج عیدالحسین (اے این پی)، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ (ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن)، شبیر احمد (تجار یونین)، محمد صابر (ڈرائیورز یونین)، رحمت الٰہی (سی سی ڈی این)، محمد وزیر خان (چترال چیمبر آف کامرس)، وجیہ الدین (جے آئی یوتھ)اور دوسروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ارکین میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے صدور ہوں گے جبکہ مغفرت شاہ کو کنوینر اور معروف صحافی محکم الدین کو سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ اجلاس میں حکومت کو ایک ہفتے کا ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہاگیاکہ اگر چترال چکدرہ ایکسپریس وے کے منصوبے کو اس عرصے میں بحال نہ کیا گیا تو 14اگست سے چترال کے گاؤں گاؤں میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ مقررین نے کہاکہ اس تحریک میں تمام ایک پیج پر ہوں گے اور یہ ہر قسم کی سیاست سے بالاتر ہوگی۔