چترال (نمائندہ چترال میل) کالاش ویلی بمبوریت کے گرمائی چراگاہ سے نامعلوم افراد نے تقریباً دو سو مال مویشیوں اور ایک شخص کو مبینہ طور پر اغوا کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چار افراد کے مال مویشی گرمائی چراگاہ میں چر رہے تھے۔ کہ نامعلوم افراد نے انہیں ایک جگہ جمع کیا۔ اور لے گئے۔ اس دوران مبینہ طور پر چرواہے کو بھی پکڑ کر اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق چوری شدہ مال مویشیوں کی تعداد ایک سو پچاس ہے۔ اور کسی فرد کو اغوا نہیں کیا گیا ہے۔ اور یہ واقعہ پیر کے روز کافی لیٹ ٹائم پر واقع ہوا۔
اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ کہ اغوا کار مقامی ہیں یا کسی اور ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ چترال میں گرمیوں کے موسم میں جب مال مویشی گرمائی چراگاہوں میں ہوتے ہیں تو اکثر اوقات مال مویشیوں کی چوری اور اغوا کی وارداتیں ہوتی ہیں۔ چار سال پہلے آٹھ جولائی کے دن سینکڑوں مال مویشیاں چوری کی گئیں اور کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو چرواہوں کو پہلے اغوا اور پھرقتل کیاگیا تھا۔ حالیہ اغواکاروں کی گرفتاری کیلئے اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



