چترال (محکم الدین) گردش زمانہ اور حالات و واقعات بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ ایسے ہی اچانک رنج و الم کے شکار بمبوریت کے مقام بتریک کے ایک کالاش خاندان نے تمام مسلم اور غیر مسلم مخیر حضرات سے امداد کی اپیل کی ہے۔ اور کہا ہے۔ کہ اُنہیں سہارا دے کر مزید بکھرنے سے بچایاجائے۔ خاندان کے واحد کفیل افضل خان کے مطابق اُن کے خاندان پر اُفتاد اُس وقت آن پڑی۔ جب اُن کے بڑے بھائی پارسل خان جنگل کے ایک تنازعے میں ایک شخص کے قتل کے مجرم ٹھہرے۔ اور اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ جس کا صدمہ برداشت نہ کرتی ہوئی والدہ اور بہن بیمار پڑ گئے۔ اور اسی غم میں فوت ہو گئے۔ ماں، بہن کی علالت، تدفین کی رسومات کی آدائیگی، بھائی کیلئے وکلاء کی فیس گھر کے اخراجات ناقابل برداشت تھے۔ اس لئے گاءوں کا ایک شخص اس شرط پر سات لاکھ روپے قرض دینے پر راضی ہوا۔ کہ چودہ من اخروٹ جس کی مالیت ایک لاکھ 80ہزار روپے بنتی ہے۔ سالانہ سود پر ادا کرنے پڑیں گے۔ اور اگر دو سال آدائیگی نہ ہو ئی۔ تواصل زر اور سود کے بدلے میں وہ میری ایک قطعہ زمین پر قبضہ کریں گے۔ مجبوری اتنی ناقابل برداشت تھی۔ کہ مجھے یہ شرائط ہر صورت ماننے پڑے۔ دو سال مشکل سے سو د ادا کرتا رہا۔ لیکن گذشتہ دو سالوں سے سود کی آدائیگی نہ ہونے کے سبب قرض خواہ اصل زر اور سود سمیت 9 لاکھ کی مجموعی قرض کے عوض زمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ایک طرف قرض خواہ کا بوجھ اور دوسری طرف بڑے بھائی پارسل خان کی جیل میں ہارٹ اٹیک سے ہلاکت نے بیوہ اور یتیم بچوں کی مستقل ذمہ داری نے خاندان کو مزید معاشی مسائل سے دوچار کردیا ہے۔ اور وہ انتہائی طور پر کسمپرسی کی حالت سے دوچار ہیں۔ مجبوری اور غم و صدمے سے نڈھال افضل خان نے اشک بار آنکھوں سے تمام مخیر حضرات سے اپیل کی ہے۔ کہ ان کے مجبور خاندان کو مزید مصائب سے دوچار ہونے سے بچانے کیلئے قرض کے 9لاکھ روپے کی آدائیگی میں اُن کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا۔ کہ ان کا گزارہ محنت مزدوری پر ہے۔ اور وہ لاہور کے مختلف فیکٹریوں میں مزدوری کرتے ہیں۔ جس سے اُن کے گھر کے اخراجات ہی پورے نہیں ہو رہے۔ ایسے میں قرض کی بڑی رقم ادا کرنا اُن کیلئے ایک کوہ گران ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی۔ کہ خدا کی زمین اچھے اور رحم دل لوگوں سے خالی نہیں۔ اور ضرور مخیر بہن بھائی اُن کے خاندان کے بیوہ یتیم بچوں کو اس مصیبت سے نکالنے کیلئے مد د کریں گے۔ واضح رہے۔ کہ پارسل خان کو مقامی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی۔ اور وہ جیل میں سزا کاٹنے کے دوران حرکت قلب بند ہونے سے کچھ عرصہ قبل انتقال کر گئے تھے۔ ان کی بیوہ یتیم بچے اور خاندان کے دوسرے افراد مشکل میں ہیں۔ مخیر حضرات درج ذیل موبائل نمبر 0344 9701411——-03449702200 اور 03424187316 پر رابطہ کرکے خاندان کی مدد کر سکتے ہیں
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



