یو نین سا زی کی آزا دی کا مسئلہ زیر بحث تھا لا ہو ر میں بائیں با زو سے تعلق رکھنے وا لے طلباء کی ریلی ”جب لا ل لال لہرائے گا“ والا نعرہ سامنے آیا تو سب کے رونگٹھے کھڑے ہو گئے اور اس پر لے دے شروع ہوگئی دائیں با زو کے سیاستدا نوں نے بھی کا لجوں اور یو نیور سیٹوں میں طلباء کو یو نین سازی کی آزادی کے حق میں دلا ئل دیے با ئیں با زو والوں نے بھی طلباء کے حق کا دفاع کیا خواجہ سعد رفیق واحد سیا ستدان ہیں جنہوں نے قو می اسمبلی کے ایوان میں دلا ئل اور مثا لیں دے کر کہا کہ طلباء کو یو نین سا زی کی اجا زت نہیں ہو نی چا ہئیے اگر اس بحث کی بنیاد پر غور کیا جائے تو اس میں عد لیہ کا نما یاں کر دار نظرا ٓتا ہے 1972ء سے 1984ء تک طلباء کی یو نین سازی پر کوئی پا بندی نہیں تھی کا لجوں اور یو نیورسیٹوں میں یو نین کے با قاعدہ انتخا بات ہوتے تھے طلباء کے اندر سیا سی جما عتوں کے لئے کام کرنے وا لے کارکن بھی تھے نسلی اور مسلکی بنیاد وں پر کام کرنے والے کارکن بھی تھے نما یاں مثال الطاف حسین المعروف کرشن لال کی ہے انہوں نے اپنی سیا ست کا آغاز کرا چی یو نیورسٹی میں مہا جر طلبہ کی تنظیم سے کیا اسی تنظیم کو مہا جر قومی مو منٹ بنا یا پھر اس کو ایم کیو ایم اور حق پرست کا نام دیا حق پر ستوں نے کرا چی اور حیدر آباد کو کئی سالوں تک ”نا حق“ یر غمال بنائے رکھا 1984ء میں سپریم کورٹ نے ایک حکم کے ذریعے کا لجوں اور یو نیورسٹیوں میں طلباء کی یو نین سا زی پر پا بندی لگا ئی پھر بھی انتظا میہ کو اس حکم پر عملدر آمد میں 8سال لگے صورت حا ل یہ تھی کہ کا لجوں اور یو نیوسٹیوں کے حکام بے بس ہو گئے تھے امتحا نی ہا لوں پر یو نین وا لوں کا قبضہ ہوا کر تا تھا ہا سٹلوں پر یو نین کے لیڈروں کا مستقل قبضہ ہوتا تھا یونین کے عہد یدار عملی زندگی میں کسٹمز یا پو لیس انسپکٹر بن کر بھی ہا سٹل کا کمرہ خا لی نہیں کر تے تھے 200کمروں کے ہا سٹل میں 50کمرے یونین وا لوں کے نا جا ئز قبضے میں ہوتے تھے حد یہ تھی کہ دور دراز علا قوں کے کا لجوں سے مطا لعا تی دورے پر یو نیورسٹی آنے والے طلباء اور اُن کے اساتذہ ہا سٹل میں ٹھہرنے کے لئے پرووسٹ سے رجوع کرتے تو وہ اُن کو یو نین والوں کے پا س بھیجتا تھا کیونکہ اختیارات کے ما لک یونین والے تھے بے بسی کی انتہایہ تھی کہ دا خلہ سیزن میں نئے طلباء کو ہا سٹل میں کمرہ بھی پرووسٹ نہیں دے سکتا تھا یہ کام بھی یونین کے لیڈر کرتے تھے 1992ء میں جب ہا سٹلوں سے یونین وا لوں کو بے دخل کیا گیا تو ان کے کمروں سے اسلحہ، منشیات اور دیگر قابل اعتراض چیزیں برآمد ہوئیں بقول مر زا غا لب ؎
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مر نے کے میرے گھر سے یہ سامان نکلا
یونین سا زی پر پا بندی کے حوا لے سے جو بحث چل رہی ہے اُس کو انٹر نیشنل اسلا مک یو نیورسٹی میں طفیل الرحمن کی شہا دت کے وا قعے نے نیا رُخ دیدیا ہے اب دائیں بازو والے بھی یو نین پر پا بندی کے حق میں ہیں ان کو اندیشہ ہے کہ یو نین سازی کی آزادی سے انصاف سٹو ڈنٹس فیڈ ریشن اور سرائیکی سٹو ڈ نٹس فیڈ ریشن کی طرح سیا سی اور نسل پر ستی پر مبنی تنظیموں کو تقویت ملے گی سر دست اس طرح کے خطرے سے نمٹنا دائیں با زو کی تنظیموں کے لئے مشکل ہے پا ر لیمنٹ کے اندر سیا سی جما عتوں کا کر دار مشکوک نظر آتا ہے کوئی بھی سیا سی جما عت کھل کر یو نین کے ساتھ دینے پر آما دہ نہیں تا ہم کوئی سیا سی جما عت یو نین پر پا بندی کی حما یت بھی نہیں کر تی ”جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی“ حقیقت یہ ہے کہ یو نین سا زی کی آزادی ہمارے تعلیمی ادارو ں کے لئے زہر قا تل ہے سر مایہ دار، جا گیر دارا ور با لا دست طبقے سے تعلق رکھنے والوں کے بچے یاملک سے با ہر جا کر پڑھتے ہیں یا ملک کے اندر مہنگے نجی اداروں میں پڑھتے ہیں وہاں یونین کی کوئی گنجا ئش نہیں سر کاری کا لجوں اور یو نیورسٹیوں میں غریب اور متوسط طبقے کے عوام اپنے بچوں کو دا خل کرتے ہیں یو نین سازی کی اجا زت دی گئی تو سمسٹر سسٹم کا ستیا ناس ہو گا یو نین کے لیڈر ہر استاد کو ڈرا دھمکا کر اپنے سا تھیوں کی جعلی حا ضریاں بھی لگوائینگے ان کو بزور بازو پستول کی نوک پر پاس بھی کر وائینگے اس لئے انٹر نیشنل اسلامک یو نیورسٹی کے خونین وا قعے کو سامنے رکھ کر سپریم کور ٹ کے حکم کو بحال رکھنا ملک اور قوم کے مفاد میں ہے تعلیمی اداروں میں سمسٹر سسٹم بھی کامیاب ہو گا امتحا نات بھی وقت پر ہونگے ہا سٹلوں پر دوبارہ کسی گروہ کا نا جا ئز قبضہ نہیں ہو گا یہ آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



