چترال (محکم الدین) یو نیسکو کے زیر انتظام پہلی مرتبہ بمبوریت کے مقام کلاشہ دور میں کالاش قبیلے کی طرف سے ” ورلڈ انڈیجنس پیپلز ڈے ” انتہائی جوش و جذبے سے منایا گیا۔ جس میں تینوں وادیوں سے کالاش قبیلے کے مذہبی پیشوا، عمائدین مردو خواتین اور سکول کے بچے بچیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر کالاشہ دور لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مذہبی پیشوا اور قاضیوں نے قبیلے کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ کالاش رسومات کی آدائیگی میں پچاس فیصد کمی آئی ہے۔ بعض رسوم ادا نہیں کئے جاتے، اور بعض ایسی چیزیں رسوم میں شامل کی گئی ہیں۔ جو کالاش مذہب کا حصہ نہیں ہیں۔ جن کی وجہ سے کالاش قبیلے کو بہت مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر کالاش مذہب میں ممنوع اشیاء خصوصا مُرغی اور انڈے کو بطور خوراک استعمال سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں کہا۔ کہ کالاش مذہب کے معروف مذہبی پیشوا راہک دیہار نے ان کو کھانے سے منع کیا ہے۔ لیکن آج کی نوجوان نسل اس پر عمل نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا۔ کہ مذہب کے اندر ان چیزوں کی پابندی نہ کرنے سے نفرت اور کدورتیں بڑھتی ہیں۔ باہمی اتفاق میں بھی خلل پڑتا ہے ۔ یہی وجہ ہے علاقہ مختلف مسائل سے دوچار ہو چکا ہے۔ سیلاب اور دیگر آفات نے گھرے میں لے لیا ہے۔ انہوں نے قریبی رشتے (فرسٹ کزن)کے ساتھ اور برادری کے اندر شادی پر پابندی کی خلاف ورزی کی وجہ سے رونما ہونے والے مسائل کا بھی تذکرہ کیا۔ اور کہا۔ کہ مستقبل میں ان سے بچنے کی اجتماعی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کالاش عقیدے کے مطابق پیوریفیکیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ جس کے تحت گھروں اور عبادت گاہوں میں ایسے مقامات میں خواتین اور مردوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن غفلت و لاپرواہی سے ان حدودو قیود کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اور کالاش مذہبی پیشواوں کے مطابق اس سے کمیونٹی کو بہت بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ واضح رہے۔ کہ 4100کالاش آبادی اندرونی طور پر تقریبا بیس برادریوں میں منقسم ہیں۔ جن میں سے بارہ برادریوں کے لوگ صرف بمبوریت میں آباد ہیں۔ اور کالاش مذہب میں اپنے قریب ترین رشتے ( چچا زاد، پھوپی زاد اور خالہ زاد) سے شادی کرنا منع ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں کی پرواہ نہیں کی جا رہی۔ جس کی وجہ سے مذہب میں غیر معمولی تبدیلی آرہی ہے۔ کالاش قاضیوں نے اس موقع پر سینہ بسینہ چلنے والی اپنے اسلاف کی قدیم لوک کہانیاں، بہادری کے قصے اور مذہبی روایات کو نوجوان نسل میں منتقل کرنے کی غرض سے بیان کئے۔ اور خوشی و غمی کے رسوم کے سلسلے میں ہدایات دیں۔ جنہیں عام کالاش مردو خواتین خصوصا سکول کے بچے بچیوں نے انتہائی دلچسپی اور انہماک سے سنا ۔ بعد آزان بچوں میں تقریر، آرٹ اینڈ ڈیزائننگ اور پوسٹر پینٹنگ کے مقابلے ہوئے۔ جنہیں بہت سراہا گیا۔ تقریب سے کالاش قاضی فضل اعظم، داود شاہ، شیردول،جم شاہی، کونسلر ملت گل، اور شاہی گل نے بھی خطاب کیا۔ کالاشہ دور کے چیرمین بختوار شاہ نے یونیسکو کی طرف سے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ یہ یونیسکو کی طرف سے کلاشہ دور کے زیر اہتمام پہلا پروگرام تھا۔ جو بہت زیادہ کامیاب رہا۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں پروموشن بیجز لگانے کی تقریب
- ہومچترال فٹ بال لیگ کا اختتام، جنگ بازار ایف سی نے پاکستان نیوی کو پنالٹیز پر شکست دے کر چیمپئن کا تاج اپنے سر سجا لیا
- مضامیندھڑکنوں کی زبان: ۔۔۔نظام ادھوری ہے۔۔۔تحریر: محمد جاوید حیات
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد
- ہومڈی پی او چترال اپر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ، منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات
- مضامیندادبیداد۔ مسائل کا حل۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پولیس لویر چترال کی طرف سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال تحصیل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- ہومنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ کی حوصلہ افزائی، ڈی پی او چترال اپر کی جانب سے کمنڈیشن سرٹیفکیٹ اور کیش ریوارڈ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔قناعت سب سے بڑی نعمت۔۔۔محمد جاوید حیات










