گھر میں جب ٹی وی کے کمرے میں داخل ہوتا ہوں تو ٹی وی لگی ہوئی ہوتی ہے۔۔بچے ہیں کہ اس کی سکرین پہ نظریں جمائے ہوئے ہوتے ہیں۔۔ایک کے ہاتھ میں ریموٹ ہوتا ہے۔مجھے دیکھ کر کوئی کچھ نہیں کہتا نہ کوئی حرکت ورکت ہوتی ہے کہ ابو نام کا بندہ آگیا۔۔ابو کا کیا آئے گا جائے گا۔۔وہ جو فاصلے تھے مٹ گئے ہیں۔وہ بھی آکے ایک کونے کھدرے میں بیٹھ جائے گا۔۔یہی ایک کمرہ ہے گھر نام کی جھونپڑی میں اور کمرہ نہیں کہاں جائے گا۔۔میں خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ جاتا ہوں۔سکرین پہ نظرین جاتی ہیں اگر خیر سے کرکٹ کا میچ نہ ہو تو کوئی ڈرامہ لگا ہوا ہوتا ہے۔ننگے تڑنگے پتلون پہنی بیٹیاں ہیں۔پھر بیٹے ہیں۔پھر ماں بہن بیٹی کا کردار بھی ہے۔۔ ایک بھائی ہے۔ایک باپ ہے۔۔معاشرے کی کوئی مجبوری ہے۔۔ کوئی ناسور ہے۔۔ ظلم و زیادتی ہے۔اس کو ڈرامے کی شکل میں پیش کرکے لکھاری اس کے خلاف جد و جہد کرنا چاہتا ہے۔۔چلتے پھرتے کرداروں کے منہ سے جو الفاظ اور جملے ادا ہوتے ہیں۔۔معیاری نہیں ہیں کہ ماں بیٹے کو کیسے مخاطب کرے۔بہن بھائی سے کیسی بات کرے۔۔ابو کا جملہ حکم کہلائے یا نہ کہلائے۔۔بیوی شوہر کا احترام کیسے کرے۔شوہر بیوی کا کیسا خیال رکھے۔۔یہ سب ذرا”ماڈرن سٹائل“ ہیں۔اقدار تکنیکی ہیں۔۔سن کے لگتا ہے کہ بس ”اداکاری“ ہے۔۔نقل ہے۔جھوٹ ہے۔دل سے کوئی کچھ نہیں کرتا۔افلاطون نے ان کو دیس سے نکال دیا تھا۔۔کہ یہ نقل کی نقل ہے۔دل کرتا ہے کہ اس کردار کے منہ سے میں بولوں۔یہ جملہ یوں نہ ہو یوں ہو۔۔بس نہیں چلتا۔نہ قلم میں طاقت ہے کہ واقعی سے ڈرامہ لکھا جائے جس میں زندگی اپنی اصل شکل میں پیش ہو۔۔۔غربت غربت ہو۔۔۔امیری واقعی میں امیری ہو۔۔۔محبت محبت کے روپ میں ہو۔۔عشق عشق ہو کہ دیکھنے والے عش عش کر اٹھیں۔وقفہ ہوتا ہے تو ریموٹ والا چینل بدلتا ہے۔۔ breaking news ہے یعنی تازہ خبر۔یا تو چوری ڈکیتی کی خبر۔۔یا بارش سیلاب کی۔۔یا کسی حکمران کی نااہلی کی۔۔۔پھر جھوٹ پہ جھوٹ۔۔یا اللہ یہ معاشرہ ہے کہ جنگل ہے۔۔پھر نغمے ہیں کہ سننے سے متلی آجائے۔سیر سپاٹے ہیں۔ساتھ جو تبصرے ہوتے ہیں جی بے زار ہوتا ہے کہ تبصرہ کرنے والا کس زبان میں بات کر رہا ہوتا ہے پتہ نہیں چلتا کہ وہ انگریزی میں بات کر رہا ہے کہ اردو یا کسی دوسری زبان میں۔۔جلسے جلو س دکھائے جاتے ہیں۔۔ ایک بے ہنگم شور اور ایک بے ربط اجتماع ہے۔۔آگے سیاسی بیانات ہیں بس کہ جھوٹ کا پلندہ۔۔ ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کی مشق جو جتنا پروپیگنڈہ کرے وہ سیاسی مستنڈہ ہے۔۔ کا میاب لیڈر ہے۔۔سیاست کو گلی کوچوں میں لانی ہے۔۔بس افواہ کو۔۔ صداقت کو نہیں۔۔خلوص اور خدمت کو نہیں۔۔دوسرے کے اچھے کام بھی کوئی حیثیت نہیں رکھیں گے۔ماضی کو گالی دو۔مستقبل کا خواب دکھاؤ۔۔خواہ تعبیر ممکن ہو نہ ہو۔۔میں ٹی وی دیکھتا ہوں۔۔یہ لو جیو نیوز ہے۔۔یہ اے آر وائی ہے۔یہ سماء ہے۔یہ آج ٹی وی ہے۔یہ ہوم ہے۔یہ پیس ہے۔۔یہ لو ”ٹیبل ٹاک“ ہے مختلف پارٹیوں کے نمائندے ہیں۔ان سے سوال پوچھا جاتا ہے۔وہ ایک دوسرے کی کمزوریوں اور غلطیوں کو دھراتے ہیں۔اپنا گریبان تار تار کرتے ہیں۔ایک دوسرے کو کیا کیا نہیں کہا کرتے۔۔یہ لو گ کہ جنہوں نے باری باری عنان اقتدار سنبھال چکے ہیں۔۔اگر چور ہیں تو اس حمام میں۔۔۔اگر صادق امین ہیں تو اللہ اللہ خیر صلا۔۔یہ کیسی قوم ہے۔۔یہ اس قوم کے کیسے بڑے ہیں۔بائیس کروڑ قوم کا وزیر اعظم بیرون ملک گیا ہے اگر اس کی عزت ہوتی ہے تو بایئس کروڑ قوم کی عزت ہے۔۔اگر اس کی خدا نخواستہ توہین ہو رہی ہے تو پوری قوم کی توہین ہے۔۔اپنے گھر کی بیدی لنکا ڈھائے۔یہ سوال ہے کہ ہم با شعور ہیں کہ شعور سے خالی روبوٹ ہیں۔اگر نمائندے نااہل ہیں توان کومنتخب کرنے والے کس کھاتے میں ہیں۔اگر اہل ہیں تو ان کو چننے والے مطمئین کیوں نہیں ہیں۔دل کرتا ہے کہ یہ ٹی وی ہی بند کیا جائے۔لوگ کہیں گے کہ اس سے آگاہی ہوتی ہے۔۔جواب ہے کس چیز سے آگاہی۔۔نااہلی سے۔۔نفرت سے آگاہی۔۔لگتا ہے کہ ہمارا ملک ہے۔۔ان کا نہیں ہے جو اس سے مخلص نہیں ہیں۔۔ اس سمے لگتا ہے کہ ان کا ملک ہے جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ہمارا ملک تھوڑی ہے۔۔دونوں سوچیں زہر ہیں۔حب الوطنی کے جذبے کا قاتل۔۔ تو کیا ہمارا میڈیا حب الوطنی میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہا۔۔جواب ہرمحب وطن کے پاس ہے۔۔۔شاید دینے سے معذور ہو۔۔سب اپنی ٹی ویاں بند کرکے ایک لمحے کوسوچا کریں۔۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



