بے باک۔۔ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا!۔۔ تحریر۔ احتشام الرحمن

Print Friendly, PDF & Email

اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ انسان ہزاروں پلانز بناتا ہے لیکن ان ہزاروں پلانز میں اسکی موت کی پلاننگ نہیں ہوتی ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی طرح بھی فرار ممکن نہیں۔ لیکن خالد کے پلانز انفرادی نہیں ہوتے تھے بلکہ آپکی سوچ کا محور ہمیشہ معاشرہ ہوتا تھا۔ آپ جہاں بھی ہوتے آپکا دل لوگوں کے ساتھ دھڑکتا۔ خالد بن ولی، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر، 20 اکتوبر کو ہم سے بچھڑ گئے۔ آپ ایک ہردلعزیز انسان، ہنس مکھ شخصیت، اچھے شاعر، بہترین پولو پلئیر، دیانتدار اور فرض شناس آفیسر، لیکن سب سے بڑھ کر ایک عظیم انسان تھے۔خالد بن ولی سے میری بمشکل آٹھ دس ملاقاتیں ہوئیں ہوں، لیکن آپ سے یہ چند ملاقاتوں کا پلڑا دوسروں سے روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتوں سے بھاری پڑ جائے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیتوں سے نوازا تھا جو دوست تو کیا آپ کے دشمنوں کو بھی آپکا گرویدہ بناتے تھے۔ آپ کیلئے یہ جملہ صد فیصد درست ہوگا کہ آپ تو ‘دوستوں کے بھی دوست تھے’۔ میرے نزدیک خالد بن ولی صرف میرے ہی دوست تھے، لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ آپ سے صرف ایک بار ملنے والا بھی یہی دعویٰ کر سکتا ہے۔۔ کہ وہ ‘صرف اسی کا دوست’ تھا کیونکہ آپ کی شخصیت ہی الگ تھی۔ آپ تو سب پر اپنی جان نچھاور کرنے والوں میں سے تھے۔ دوستوں کے دوست تھے، یاروں کے یار تھے۔میری آپکی عملی دوستی شاید اتنی گہری نہیں تھی جتنی ہماری علمی دوستی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری سوچ میں بھی ہم آہنگی ہوتی تھی۔ زیادہ تر باتیں فیس بک پر ہوتی تھیں۔ ہم پلانز بناتے۔ ان پلانز کا محور معاشرہ ہوتا۔ آپ ہمیشہ ایک دوست سے بڑھ کر حوصلہ افزائی کرتے۔ چند لمحوں کیلئے ملتے بھی تو ان باتوں کو عملی جامہ پہنانے پر بات چیت ہوتی۔آپ سے وابستہ ہر ایک بات مجھے یاد ہے تاہم دو تین باتیں ایسی ہیں جو میرے نزدیک آپکی اعلیٰ ظرفی اور انسانیت کے ایک اچھے نمونے کے طور پر آپکی شخصیت پر مہر ثبت کرتے ہیں۔ایک بار ملے تو میں نے گلہ کیا کہ ‘خالد بھائی ہم باتیں تو بہت کر رہے ہیں لیکن انکو عملی جامہ نہیں پہناتے ہیں۔ جو کچھ کہا ہے اسکا دسواں حصہ بھی ہم نے عملی طور نہیں کیا ہے’۔آپ نے جواب میں کہا: ‘یار، ایک تو معاشرہ اس لیول تک نہیں پہنچا ہے کہ وہ مجھے اور تمہیں یا کسی اور کو برداشت کریں۔ دوسری بات دھماکے سے تباہی ہی ہوتی ہے۔ جو کام slow اور gradual طریقے سے کیا جائے وہ پر اثر ہوتے ہیں’۔آپ ایک علم دوست اور کتاب دوست انسان تھے اسلئے ان جگہوں پر جانا آپکا معمول ہوا کرتا تھا جہاں علم کی شمع روشن ہو رہی ہوتی تھی۔جب بھی آپ چترال آتے ‘شہید اسامہ وڑائچ کیریئر اکیڈمی’ آتے۔ نہ صرف ملنے آتے بلکہ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر کلاس لیکر بچوں کے اندر علم کی شمع روشن کرنے کی کوشش کرتے۔
ایک بار آپ اکیڈمی تشریف لائے تو میں اور فدا نے کہا چلو ہم بھی چلتے ہیں اور آپکی علم سے خود کو مستفید کرتے ہیں۔ کلاس گئے۔ گفتگو کا آغاز حسب معمول فدا نے کیا۔ اس کے بعد ایک ڈسکشن کا آغاز ہوا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جو شیرینی آپکی روزمرہ کی گفتگو میں تھی وہی شیرینی آپکے لیکچر میں بھی تھی۔ وہ لیکچر گیارہویں جماعت کے بچوں کے لئے تھا لیکن میری زندگی کے یادگار لیکچرز میں سے ایک ہے۔
کلاس کے بعد گپ شپ کے دوران میں نے آپ سے پوچھا: ‘خالد بھائی آپ نے سول جج کا عہدہ کیوں چھوڑا’؟آپ نے اسکا جواب یوں دیا۔ ‘یار، بہت سارے مسائل میں سے ایک مسلہ یہ ہوتا ہے کہ اس عہدے پر رہ کر آپ لوگوں کے ساتھ socialize نہیں کر سکتے ہیں۔ اور لوگوں سے ملے بغیر زندگی کو سمجھنا مشکل ہے۔ اور میری زندگی کا مقصد ہی زندگی کی تلخ حقائق کو سمجھنا ہے۔ اس پر بھی کمپرومائز کیا جا سکتا ہے، لیکن’۔’لیکن’، میں نے پوچھا۔خالد بھائی نے ‘لیکن’ کے جواب میں ایک واقعے کا ذکر کیا: ‘میرے سامنے ایک کیس آیا۔ جیسے ہی میں اپنی کرسی پر بیٹھا تو اس کیس کے ایک وکیل کیس شروع ہونے سے پہلے میرے پاس آیا اور کھوار میں کہا۔ ‘کیچہ اسوس سر جی۔ اوا دی چھتراری کیہ’۔ (کیسے ہو سر جی۔ میرا تعلق بھی چترال سے ہے)۔آپ نے کہا: ‘میں نے اگرچہ کیس کا فیصلہ حق پر دیا تھا لیکن اس مختصر گفتگو کے دوران مخالف وکیل اور اسکے کلائنٹ کے تاثرات اور انکی بے بسی کئی راتوں تک مجھے سونے نہیں دیے۔ ساری ساری رات سوچتا رہتا کہ میں نے کسی کا حق تو اس سے نہیں چھینا؟ نا انصافی تو نہیں کی؟ اگر کبھی کوئی غلط فیصلہ کیا تو اللہ کے حضور کیا جواب دوں گا۔ اسکے کچھ دن بعد میں نے استعفیٰ دیدیا۔ استعفی دینے کے بعد مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میرے اوپر سے کے-ٹو پہاڑ کی کوئی چوٹی کا بوجھ ہٹا دیا گیا ہو’۔آپ کو معاشرے میں عدم برداشت اور دوسری برائیوں اور ناانصافیوں کا پورا ادراک تھا۔ لیکن آپ اپنی سرکاری مجبوریوں یا معاشرے کی وجہ سے خاموش تھے۔ ان باتوں کا اظہار وہ خلوت میں کیا کرتے تھے۔ آپکے دل میں لوگوں کیلئے عموماً اور نوجوانوں کیلئے خصوصاََ ایک درد پایا جاتا تھا۔
جان کیٹس نے 25 سال کی عمر میں وہ مقام حاصل کیا تھا جس کا حصول دوسروں کیلئے محض ایک خواب ہوتا ہے۔ آپکی کامیابی اور genius کو recognition آپکی موت کے کئی سال بعد ملی۔ بقول ایک نقاد، ‘کیٹس کی نو عمری کی موت کی ایک وجہ آپ پر بے انتہا اور بے وجہ تنقید تھی’۔خالد بن ولی نے بھی 34 سال کی عمر میں وہ مقام حاصل کر لیا تھا جو عام لوگوں کیلئے ایک خواب ہی ہوتا ہے۔ آپکی موت کی وجہ نہ تو تنقید تھی نہ کچھ اور۔ کیونکہ آپ تو سب کے دلوں کی دھڑکن اور سب کے آنکھ کا تارا تھے۔ آپ پر تو آپکے ناقدین بھی انگلی نہیں اٹھا سکتے، چہ جائیکہ کہ کوئی شکوہ، شکایت یا تنقید کرے۔ہمارے یہاں ایک کہاوت ہے کہ ‘اپنوں کی نظر سب سے زیادہ لگتی ہے’۔ آپکی کئی ایک خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ دوسروں کو وہ مان اور سمان دیتے کہ سب آپ کو ‘صرف اپنا’ دوست، بیٹا، بھائی اور memtor سمجھتے۔ آپ کو آپکے اپنوں (دوستوں، بھائیوں، بہنوں اور بڑوں) کی نظر لگ گئی۔آپ ایک پھول کی طرح تھے لیکن دوسرے پھولوں کی طرح آپ کی شخصیت میں کانٹے نام کی کسی چیز کا کوئی وجود تھا ہی نہیں۔ آپ کی موجودگی ایک خوشبو کی طرح تھی۔ ہر جگہ کو معطر کرتے۔ سب کو اپنی خوبصورت مسکراہٹ سے اپنی طرف کھینچ لیتے۔ یقیناً آپ ایک خوشبو کی طرح پھیل گئے۔ ہمیں اس خوشبو سے عادی کر کے خود ہم سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ گئے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور مجھ جیسے کمزور دل دوستوں، بڑوں، بہن اور بھائیوں کو صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین!