آج کل حکومت وقت نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ حکومت کی زیر انتظام سکولوں کے اساتذہ اپنے بچوں کو حکومتی سکولوں میں پڑھانے کے پابند ہوں گے۔ اس شوشے کے بعد دونوں جانب سے ہوائی فائرنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اس انارکی کی زد میں آکر ٹیچر ڈے بھی ایسے گزر گیا جیسے آیا ہی نہ ہو۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ استاد کو سب سے زیادہ قابل قدر ہستی مانا جاتا ہے اتنی قابل قدر ہستی ہی جب ایک نان ایشو پر فائرنگ شروع کرے تو کہاں ٹیچر اور کہاں کا ڈے۔حالانکہ ہمیں اس بات پر یقین ہی نہیں پکی والی یقین ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت ایسا کوئی کام کبھی نہیں کرے گی جس سے ملک میں تھوڑی سی بھی بہتری کی گنجائش نکلتی ہو۔ یہ شوشہ بھی صرف اس لئے چھوڑا گیا ہے کہ کچھ دن اساتذہ کو بھی مصروف رکھا جائے تاکہ جس طرح یکسو ہو کر وہ اپنا یونین چلاتے ہیں اسی طرح یکسو ہو کر حکومت وقت پر تنقید کا سلسلہ شروع نہ کرسکیں۔ حکومت پہلے ہی سے اپنے لئے اتنے سارے محاذ کھولے ہوئے ہیں وہ ایک اور محاذ اساتذہ کی جانب سے کھلوانے کا متحمل نہیں ہوسکتی۔
بالفرض اگر حکومت یہ احسن اقدام اٹھانے کا ارادہ رکھتی بھی ہے تو حکومت کو یہ شوشہ چھوڑنے سے پہلے اپنا ہوم ورک تیار رکھنا تھا۔ تیاری اتنی ناقص تھی کہ حکومت کے پاس اساتذہ کے اس سوال کا بھی جواب موجود نہیں تھا کہ اساتذہ آخر کیوں اپنے بچو ں کو سرکاری سکولوں میں پڑھائیں۔ حکومت کی لاچاری دیکھیں کہ ان کے نمائندے پلٹ کر یہ جواب تک نہیں دے سکے کہ اساتذہ آخر کیوں اپنے بچوں کو ان بچوں کے ساتھ بٹھانے پر تیار نہیں جن کے والدین کے ٹیکس کے پیسوں سے ان کی تنخواہ بنتی ہے۔ کوئی نیا شوشہ چھوڑنے سے پہلے حکومت کو کم از کم اتنی تیاری تو کرنی چاہئے کہ آسانی سے عوام کو بے وقوف بناسکیں۔ ہر اعلان کے بعد عوام میں حکومت کا گراف کس تیزی سے گر رہا ہے اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔ حکومتی شوشے کے بعد اساتذہ کا بھی پہلا ڈیمانڈ یہی تھا کہ حکومت میں شامل تمام وزاراء، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور تمام حکومتی اراکین کے بچے بھی سرکاری سکولوں میں پڑھیں گے تو ہمارے بچے بھی ہمارے ہی زیر نگرانی تعلیم پائیں گے۔ یعنی اس ملک میں انسان صرف اساتذہ اور حکومت میں شامل افراد ہی ہیں۔ جن لوگوں کے بچے ان اساتدہ کے پاس پڑھنے جاتے ہیں نہ وہ بچے اور نہ ہی ان کے والدین انسان کہلانے کے لائق ہیں۔کیونکہ یہاں جن بچوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے وہ یا تو وزراء اور حکومتی ارکان کے بچے ہیں یا پھر اساتذہ کے۔ عام آدمی یا ان کے بچے کا ذگر سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
مگر اس میں سب سے حیرت انگیز اساتذہ کا رویہ بلکہ ان کی جانب سے دی جانے والی دھمکی ہے کہ ”وہ کسی صورت اپنے بچوں کو سرکاری سکولو ں میں نہیں پڑھائیں گے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔“ میرے حساب سے بھی یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے مگر استاد دھمکی نہیں دیتا بھائی! دلائل دیتا ہے۔ آپ اپنے بچے کو اپنی زیرنگرانی چلنے والی سکول میں کیوں نہیں پڑھائیں گے؟ اس کی کوئی تو وجہ ہوگی۔ آپ نصاب پر سوالات اٹھا سکتے ہیں۔ معیار تعلیم پر دلائل دے سکتے ہیں۔اساتذہ کی قابلیت پر بحث کرسکتے ہیں۔سکول عمارت کی خستہ حالی پر بات کرسکتے ہیں۔ آپ کے گھر سے سکول کی دوری بھی موضوع بحث ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ بہت سارے مسائل ایسے موجود ہیں جس پر آپ دلائل دے کر اپنے بچے کو اس ادارے سے دور رکھ سکتے ہیں جہاں پڑھنا بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔کیا ان لوگوں کے سوالوں کا جواب دینا بھی آپ کے فرائض میں شامل نہیں جو اپنا پیٹ کاٹ کر آپ کو تنخواہ دے رہے ہیں۔ کہ آخر آپ کی زیرنگرانی چلنے والی سکول میں بچوں کو پڑھانا کیونکر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بنیادی حق صرف ملازمین کے بچوں کا ہوتا ہے یا مالک بھی بنیادی انسانی حقوق رکھتے ہیں؟۔
کمال دیکھئے کہ ماچس کی ایک ڈبیہ 2 روپے کی آتی ہے۔ عام آدمی ایک ڈبہ ماچس خرید کر 36 پیسے ٹیکس ادا کرتی ہے۔ اس 36 پیسے سے سرکار کے نام پر چلنے والے تمام اداروں کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ بنتی ہے۔اور یہ 36 پیسے ادا کرکے تنخواہ پر ملازم رکھنے والے ”مالک“ کے دونوں ”ملازمین“ آپس میں اس بات پر لڑ رہے ہیں۔ کہ ہم اپنے بچوں کو مالک کے بچوں کے ساتھ بیٹھنے نہیں دیں گے۔مالک کے بچوں کو جو پڑھایا جارہا ہے وہ ملازمین اپنے بچوں کو پڑھانے پر راضی نہیں ہیں۔یہ دونوں ملازمین اپنے بچوں کوایسے اداروں میں جانے کی ہرگز اجازت دینے کو تیار نہیں جہاں سے وہ دونوں ”رزق حلال“ کما کر بچے پال رہے ہیں۔ حیرت انگیز بات نہیں ہے؟!
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



