جسٹس قلندر علی خان پشاور ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ جیل، چترال کا دورہ اور اطیمنان کا اظہار کیا

Print Friendly, PDF & Email

(چترال میل رپورٹ)جسٹس قلندر علی خان پشاور ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ جیل، چترال کا دورہ اور اطیمنان کا اظہار کیا۔ اسد حمید خان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چترال اور ناصر خان سینئر سول جج چترال بھی ہمراہ تھے۔ ریاض احمد سپر نٹنڈنٹ جیل نے جناب جسٹس قلندر علی خان کا جیل پہنچنے پر استقبال کیا۔ اپنی بریفینگ میں سپر نٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ جیل چترال میں 164 قیدیوں کے رکھنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ فی ا لوقت 54 ملزمان مختلف مقدمات میں جوڈٖیشل حوالات میں ہیں۔ جناب جسٹس قلندر علی خان نے جیل کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے قیدیوں سے فرد اًفرداً ملاقات کی اور ان کے مسا ئل دریافت کئے۔ قیدیوں کی طرف سے پیش کیے گئے گزارشات پر بر موقع احکامات جاری کرتے ہوئے جناب جسٹس پشاور ہائی کورٹ پشاور نے متعلقہ حکام کو قیدیوں کو درپیش مسا ئل بروقت حل کرنے کی ہدایات کیں۔ اس موقع پر جیل ہسپتال کا بھی تفصیلی دورہ کیا گیا۔ ہسپتال میں موجود میڈیسنز اور موجود دیگر سہولیات کا معائنہ کیا گیا جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ سپر نٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل چترال نے بتایا کہ سال 2017 ء سے میڈیکل آفیسر کی آسامی خالی ہے۔ جس پر جسٹس قلندر علی خان صاحب نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سیکرٹری ہیلتھ خیبر پختو نخواہ فی الفور ڈسٹرکٹ جیل چترال میں میڈیکل آفیسر کی تعیناتی کو یقینی بنائیں۔ امن و امان کی مخدوش صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس قلندر علی خان صا حب نے ڈی پی او چترال کو ہدایت کی کہ ڈسٹرکٹ جیل سے محرم ا لحرام کے لیے لیئے گئے ریگولر پولیس فی ا لفور واپس ڈسٹرکٹ جیل میں تعینات کی جا ئے۔ جناب جسٹس صاحب نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ہدایت کی کہ خواتین، بچوں اور بزرگ ملزمان کے مقدمات پر ترجیحی بنیادوں پر فیصلہ کرنے کی کو شش کریں۔ اس مو قع پر انہوں نے قیدیوں کو فراہم کی گئی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چترال جیسے دور افتادہ علاقے میں سہولیات قیدیوں کو پہنچانا قابل تحسین کا وش ہے۔