چترال کی سول سوسائٹی اور اداروں سے کشمیر کاز کے حوالے سے اعتماد حاصل کرنے آیا ہوں۔ چیرمین جموں اینڈ کشمیر کونسل معظم لاء محمد امیر معظم بٹ کا چترال یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ایک بڑ ے اجتماع سے خطاب

Print Friendly, PDF & Email

چترال (محکم الدین ) چیرمین جموں اینڈ کشمیر کونسل و چیرمین معظم لاء چیمبر محمد امیر معظم بٹ نے کہا ہے۔ کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے اس میں نئی جان ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جو ڈائیلاک کے ذریعے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے میں مدد گار ہو ،تاہم اس کیلئے پاکستان کے تمام طبقہ فکر کو ایک بات پر منظم ہونا پڑے گا۔ کہ کشمیر ہماری شاہرگ ہے۔ اور ہم اپنی شاہرگ دُشمن کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے۔ لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ کشمیر کا حل عسکریت میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز چترال یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں فیکلٹی ممبران اور طلبہ کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُن کے ہمراہ لیگل ٹیم کے ممبران ماجد معصوم خٹک، محمد واقف سلیم، زارا اشتیاق صدیقی، سید رومان شاہ اور محمد اسد اللہ موجود تھے۔ معظم بٹ نے کہا۔ کہ میں کشمیر کے مسئلے کو Endorseکرنے کیلئے آیا ہوں۔ جو مسئلہ باوجود کئی جہنگوں، پاکستان کے دولخت ہونے، شملہ اور دیگر معاہدات کے باوجود حل نہیں ہوا۔ اُس کو ایک نئی جہت اور جذبے کے ساتھ قانون کی زبان سے شروع کیا جائے۔ اور بین الاقوام کو اس بات پر مجبور کیا جائے۔ کہ کشمیر کا مسئلہ اب ہر صورت میں حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا،کہ پاکستان کی حکومت کی بدقسمتی یہ ہے۔ کہ اس نے اپنے ہر مسئلے کے لئے ہوم ورک نہیں کیا۔ چاہے وہ انڈیا کے ساتھ پانی کی تقسیم کا مسئلہ ہو یا کلبھوشن یادیو کے کیس کا معاملہ۔ انہوں نے کہا۔ کہ کشمیر کا مسئلہ اب صرف ہندوستان اور پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا۔ بلکہ یہ چین، روس، امریکہ،برطانیہ کا بھی مسئلہ بن گیا ہے۔ اس لئے اس کیلئے متحد ہ اور متفقہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ہندوستان کا جو بھی رہنما پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کے حل کے حوالے سے سنجیدہ پیش رفت کرتا ہے اُسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ جس کی مثال مہاتما گاندھی کے دورہ پاکستان کی تیاری پر اُسے قتل کرنے کی صورت میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ااہم شخصیات اس بنا پر انتقام کا نشانہ بنے۔ کہ انہوں نے کیونکر پاکستان کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا۔ کہ اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ پرویز مشرف کی بات چیت اس لئے منطقی انجام تک نہ پہنچ سکی۔ کہ اُن کو گاندھی کی طرح اپنے قتل کئے جانے شبہ تھا ۔ انہوں نے کہا۔ کہ پاکستان پوری دُنیا کیلئے اہمیت والا ملک ہے۔ اور اس نے اپنے 70سالوں میں بہت کچھ سیکھا۔ افغانستان سے روس کی پسپائی، دہشت گردوں کو شکست دینے میں کامیابی سے یہ دنیا کی مضبوط دفاعی حیثیت والے ملک کے طور پر خود کو منو اچکا ہے۔ معظم بٹ نے کہا۔ کہ میں چترال کی سول سوسائٹی اور اداروں سے کشمیر کاز کے حوالے سے اعتماد حاصل کرنے آیا ہوں۔ اور مجھے نہایت خوشی ہے۔ کہ چترال کے تمام لوگوں نے اس سلسلے مجھے بھر پور اعتماد دیا ہے۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبرز اور سٹوڈنٹس کی طرف سے کشمیر مسئلے کے حل کے سلسلے میں سوالات اُٹھائے گئے۔ جن کا معظم بٹ نے انتہائی تسلی بخش جوابات دیے۔ اور کہا۔ کہ ہم کشمیر کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں لا رہے۔ بلکہ اس کے خون میں اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ چیر مین جموں اینڈ کشمیر کونسل نے بعد آزان ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا۔ کہ کشمیر کے مسئلے سمیت تمام مسائل کیلئے آواز اُٹھانے میں وکلاء برادری کا بہت بڑا کردار ہے۔ انہوں نے کشمیر کاز پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ صدر ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن ساجد اللہ ایڈوکیٹ نے اُنہیں خو ش آمدید کہا۔ اور چترال بار کی طرف سے بھر پور تعاون کی یقین دھانی۔ معظم بٹ نے پریذیڈنٹ اسماعیلی کونسل چترال محمد افضل سے اُن کے دفتر میں ملاقات کی اور اپنی آمد کے سلسلے میں اُنہیں آگاہ کیا۔ اور کہا۔ کہ قیام پاکستان میں اسماعیلی فرقے کے روحانی پیشوا سلطان محمد شاہ آغا خان کا بہت بڑا کردار ہے۔ اور وہ مسلم لیگ کے صدر رہے۔ جو کہ اسماعیلی کمیونٹی کی طرف سے پاکستان کے ساتھ محبت اور دلی وابستگی کی واضح مثال ہے۔ محمد افضل نے کشمیر کے سلسلے میں معظم بٹ کی کو ششوں کو سراہا۔ اور ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ چیرمین جموں اینڈ کشمیر کونسل نے ضلع نائب ناظم چترال مولانا عبد الشکور سے بھی ملاقات کی۔ اور کاز کے حوالے سے بات کی۔ مولانا عبد الشکور نے اُن کے کو ششوں کی تعریف کی۔ اور کہا۔ کہ ہم قانونی جنگ تو جیت چکے ہیں لیکن عملدر آمد باقی ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ حکومت پاکستان ابتدا ہی سے کشمیریوں کے ساتھ اپنی بھر پور مدد اور تعاون کرتا رہا ہے۔ اور آیندہ بھی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا۔ کہ پاکستان کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے جانی و مالی نقصان اُٹھا رہا ہے۔ اب اس مسئلے کا حل انتہائی ضروری ہے۔ معظم بٹ نے بعد آزان چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدہ داروں اتالیق حید علی شاہ اور محمد وزیر سے بھی ملاقات کی۔ جہاں اُنہیں ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا گیا۔