راولپنڈی / جہلم(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم نواز شریف کا قافلہ رات راولپنڈی میں قیام کے بعد لاہور جانے کے لیے جی ٹی روڈ پر رواں دواں ہے۔کارکنوں نے اپنی گاڑیوں کو بینرز، پینا فلیکس اور شیر کے ماڈلز سے سجا رکھا ہے۔ نواز شریف کی گاڑی کے گرد کارکنوں کا خاصا ہجوم تھا جو ڈھول کی تھام پر بھنگڑے اور نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کررہے تھیمختلف مقامات پر کارکنوں سے خطاب کے دوران نواز شریف نے کہا کہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی اور نہ ہی سرکاری فنڈ کھایا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کک بیک یا کمیشن وصول کیا ہے لیکن مجھے صرف اور صرف بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیج دیا گیا ہے،کوئی بتائے کیا بیٹے سے بھی تنخواہ لی جاتی ہے کیا؟ یہ ایک وزیراعظم کی نہیں،بلکہ عوام کے ووٹوں کی توہین ہے۔ ووٹ دے کر وزیر اعظم بناتے ہیں کوئی ڈکٹیٹر یا جج آکر ووٹ کی پرچی پھاڑ دیتا ہے، میں آپ کی نااہلی کامقدمہ لے کر نکلا ہوں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ 5 معزز ججوں نے مجھے نااہل کیا، لیکن انہوں نے مجھے نہیں بلکہ 20 کروڑ عوام کو نااہل کیا۔جہلم میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ میرے پاس آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں جبکہ 2013 میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ سے کہا تھا ملک بڑی مشکل میں ہے، معیشت تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے، ملک اندھیروں میں ڈوب چکا تھا، مزدور طبقہ پریشان تھا، لیکن میں نے وعدہ کیا تھا کہ اس ملک سے اندھیروں کو ختم کردوں گا اور روشنیوں کو واپس لے کر آؤں گا اور آج روشنیاں واپس آچکی ہیں، لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے جو اگلے سال مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔نواز شریف نے کہا کہ 70 سالوں سے اس ملک کے ساتھ مذاق ہوتا آرہا ہے اور قوم کا استحصال کیا جارہاہے، آج تک کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرسکا جبکہ آپ ووٹ بنا کر حکومتیں بناتے ہیں لیکن آپ کی توہین کی جاتی ہے، کیا یہ سب آپ کو برداشت ہے، کیا آپ اس کا حساب نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اقتدار کی کوئی پروا نہیں اور میں آپ کے پاس ووٹوں کے لیے نہیں آیا، بلکہ میں اسلام آباد سے لاہور اپنے گھر جارہا ہوں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئین کو ڈکٹیٹرتوڑتے ہیں اور پھر 10،10 سال حکومت کرتے ہیں، کیا اس ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے، جو آمروں کا انصاف کرے جو کمر کی تکلیف کا بہانہ کرکے ملک سے بھاگ جاتے ہیں، لیکن کبھی ڈکٹیٹر، تو کبھی جج آکرآپ کے ووٹ کی پرچی پھاڑ کر ہاتھ میں دے دیتا ہے اور اوسطاً ڈیڑھ سال میں ہروزیراعظم گھر چلاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے جانے کے بعد دھرنے والے میدان میں آگئے اورمولوی کینیڈا سے آگئے، مولوی صاحب کوہرتین ماہ بعد پاکستان کا درد جاگتا ہے جبکہ مولوی صاحب برطانیہ میں رہتے ہیں پاسپورٹ بھی وہی کا ہے۔نوازشریف کا کہنا تھا کہ آج پاکستان دنیا کی پست ترین قوموں میں شامل ہوتا ہے لیکن آج نہیں کہنے والا مجھے بحال کردو، ہمیں پاکستان کے مستقبل سے متعلق سوچنا ہے لیکن یہ قوم اس ملک کی ترقی کے لیے تمام آمروں اور ان لوگوں سے حساب لیں گے جنہوں نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



