وفاقی حکومت نے ملک میں لازمی قرآن پڑھانے کے لئے قانون سازی کی ہے قومی اسمبلی سے پاس ہوکر بل ایوان بالا میں خصوصی کمیٹی کے پاس ہے ایوان بالا سے بھی پاس ہوجائے گا صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا میں قرآن ناظرہ اور ترجمہ کو پہلی جماعت سے رائج کرنے کا اعلان کیا تھا اعلان کے بعد صوبے کے اندر تمام پرائمری سکولوں میں قاری کی پوسٹوں کا منظور ہونا لازمی تھا قاری نہیں ہوگا تو قرآن ناظرہ کون پڑھائے گا2017-18کے بجٹ میں لیڈی ہیلتھ ورکر کی آسامیوں کا نام لیا گیا دیگر کیڈروں میں اساتذہ کی محدود آسامیاں پیدا کرنے کا ذکر کیا گیا مگر لازمی قرآن ناظرہ کے لئے قاری کی آسامیوں کا ذکر بجٹ میں گول کر دیا گیا اس طرح صوبائی حکومت کا اعلان دھرے کا دھرا رہ گیااس فیصلے پر مخلوط صوبائی حکومت میں شامل جماعت اسلامی ناراض ہے جماعت کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے حکومت سے علحیدہ ہونے کی دھمکی دی ہے اتحاد العلماء خیبر پختونخوا کے صدر اور سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترال نے شکایت کی ہے کہ علماء بورڈ کی طرف سے جماعت اول سے لیکر بارھویں جماعت تک قرآن لازمی کا نصاب بھی مرتب کرکے حکومت کو پیش کیا گیا اس نصاب کو تجوید اور عربی اصولوں کے مطابق پڑھانے کے لئے قاری اساتذہ کی ضرورت ہے اس مقصد کے لئے 2017-18کے بجٹ میں قراء، حفاظ اور مجودّدین کے لئے کم از کم 8000آسامیوں کی گنجائش رکھی جانی چاہیے تھی مخلوط حکومت میں ساجھے دار ہونے کی وجہ سے یقینا جماعت اسلامی نے قرآن لازمی کے اجراء میں دلچسپی دکھائی ہوگی اگر سال 2017-18کے دوران 8ہزار قراء اور حفاظ کی بھرتی ہوتی تو یہ جمعیتہ العلمائے اسلام کے لئے بہت بڑا دھچکا ہوتا مگر جیسا کہ تجربے سے ثابت ہوا ہے پی ٹی آئی کی مرکزی اور صوبائی قیادت کوئی بھی کام منصوبہ بندی کے ساتھ کرنے کی عادی نہیں ہے عملدرآمد کی باری آنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بنی گالہ میں اس کا بلیو پرنٹ تیار نہیں ہوا جہانگیر ترین کو اعتمادمیں نہیں لیا گیا اس لئے منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا سیاسی محاذ پر جمعیتہ العلمائے اسلام کے کارکنوں کی بڑی تعداد سرکاری ملازمت لیکر پی ٹی ائی کے کیمپ میں جانے سے بچ گئی یا کم از کم سرکاری ملازمت کی پابندیوں کی بناء پر الیکشن مہم میں غیر جانبدار یا غیر فعال ہونے کے خطرے محفوظ رہی جماعت اسلامی ایک اہم اسلامی کام کا کریڈٹ لینے میں ناکام ہوئی پی ٹی آئی کی ناکامیوں کے کھاتے میں ایک اور ناکامی کا اضافہ ہوا اندازہ یہی ہے کہ اس دوڑ میں عمران خان کی جماعت آگے جاکر ائیر مارشل اصغر خان کی جماعت کا ریکارڈ توڑ دے گی ائیر مارشل اصغرخان بھی عمران خان کی طرح قومی ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں درانتی کے انتخابی نشان کے ساتھ انہوں نے تحریک استقلال کو محنت کشوں اور مزدورں کی پارٹی بنانے کا عزم کیا انہوں نے بہت محنت کی مگر ان کی پارٹی خیبر پختونخوا تک محدود رہی پنجاب سندھ اور بلوچستان بھی کوئی مقام نہ بنا سکی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سکہ نہ بٹھا سکی ائیر مارشل اصغر خان متبادل قیادت قوم کو نہ دے سکے۔ جہاں تک قرآن لازمی کی تعلیم کا تعلق ہے ملاکنڈ ڈویژن کی تین سابق ریاستوں میں قرآن لازمی کی تعلیم و تدریس کا قانون موجود تھا ہر مردانہ اور زنانہ پرائمری سکول میں معلم دینیات (TT)کی پوسٹ ہوتی تھی ریاستوں کے انضمام (Merger)کے وقت 1969میں پوسٹوں کو برقرار رکھا گیا 1990ء میں مسلم لیگ (ن) کی پہلی حکومت آئی میر افضل خان صوبے کے وزیر اعلیٰ بن گئے اور پرائمری ایجوکیشن کے لئے ورلڈ بینک سے پراجیکٹ لیا گیا تو ورلڈ بینک کے مشیروں نے قرآن لازمی کی تعلیم ختم کرنے کا مشورہ دیا مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پرائمری سکولوں میں قرآن ناظرہ پڑھانے والے اساتذہ کی آسامیوں کو ختم کرکے ورلڈ بینک کے مشیروں کو خوش کیا پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے قرآن کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کے بعد یقینا ورلڈ بینک کے مشیروں کی نیندیں حرام ہوچکی ہونگی سابق وزیر اعلیٰ میرافضل خان کی روح قبر میں بے قرار ہوچکی ہوگی 6مہینے کی تگ دَو اور کوششوں کے بعد دوست احباب نے صوبائی حکومت کو قائل کرلیا ہوگا کہ قرآن کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہاتھ ہولا رکھو ہوسکتا ہے کل کلان وزیر اعلیٰ وضاحت کریں کہ میں نے قرآن کی تعلیم کو لازمی قرار دینے اور اس کے لئے اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان ہی نہیں کیا تھا ہمیں اس بات کا دکھ ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو ایک سعادت ملنے والی تھی اس سعادت سے ہمارئے صوبے کی حکومت محروم ہوگئی۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



