پشاور (نمائندہ چترال میل)مالی سال 2017-18کے بجٹ میں شعبہ صحت کے لئے مجموعی طور پر 65.7 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو صوبے کی مجموعی بجٹ کا 11فیصدبنتا ہے۔نئے مالی سال کے صوبائی بجٹ میں صحت کے شعبے کے لئے تجویز کردہ رقم میں سے 51.9۱رب روپے صوبائی سطح کے لئے رکھے جائیں گے جبکہ 13.6ارب روپے محکمہ صحت کے ضلعی دفاتر کو منتقل کیے جائیں گے۔ پچھلے مالی سال کی نسبت اس سال محکمہ صحت کے مجوزہ بجٹ میں 20فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2107-18کے لئے صحت کے بجٹ میں مختلف نوعیت کے کل 1140نئی آسامیاں تخلیق کرنے کی تجویز دی گئی ہے جن میں سے 674اسامیاں صوبائی سطح پر جبکہ 466آسامیاں ضلعی سطح پر تخلیق کئے جائیں گے۔مالی سال 2017-18کے بجٹ تخمینہ جات میں کرنٹ ریونیو اخراجات کا تخمینہ 35.4ارب جبکہ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 16.4 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں صوبے کے تدریسی ہسپتالوں کے لئے گرانٹ ان ایڈ کی مد میں تقریباٌ چھ ارب روپے مختص کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔سالانہ ترقیاتی بجٹ میں شعبہ صحت کے 75 جاری اور 26 نئے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر 12ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جن میں بنیادی صحت کے 26، جنرل ہاسپٹلز کے33، میڈیکل ایجوکیشن اینڈٹریننگ کے 16، حفاظتی پروگرام کے 9، تدریسی ہسپتالوں کے 12منصوبے اور دیگر شامل ہیں۔ صحت کے شعبے کے منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ صحت کارڈ سکیم ہے جس کے لئے نئے مالی سال کے بجٹ میں 3.2ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں شامل شعبہ صحت کے مجوزہ نئے منصوبوں میں پشاور میں نو قائم شدہ ہیپاٹائٹس سنٹر کے طبی آلات کی خریداری، سوات، ایبٹ آباد اور ڈی آئی خان میں ڈویژنل فوڈاینڈڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا قیام، پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے لئے طبی آلات اور فرنیچرز کی خریداری، لیاقت میموریل ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کوہاٹ کی تعمیر نو، جہانگیرہ تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال کا قیام، تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال غازی آباد کوہستان کا قیام، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ حیات آباد کی نو تعمیر شدہ عمارت کے لئے سامان کی خریداری، گجو خان میڈیکل کالج صوابی کے لئے زمین کی خریداری،گجو خان میڈیکل کالج صوابی کی عمارت کی تعمیر،تیمرگرہ میڈیکل کالج کا قیام، انٹگریٹیڈ ڈیزیز سرویلنس رسپانس سسٹم کا منصوبہ،خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے نو تعمیر شدہ کیجویلٹی بلاک کے لے سامان کی خریداری،انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز حیات آباد کے لئے سامان کی خریداری،لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں تعمیر کرہ نئے اضافی وارڈز کے لے سامان کی خریداری، حیات آباد میڈیکل کمپلکس میں آرتھوپیڈک اینڈ سپائن سرجری بلاک کا قیام، سیدو گروپ آف ہاسپٹلز سوات کی نئی عمارت کیلئے سامان کی خریداری کے علاوہ متعدد بنیادی مراکز صحت کا قیام، مختلف درجے کے متعدد طبی مراکز کی اپ گریڈیشن وغیرہ شامل ہیں۔
مالی سال 2017-18 کے دوران شعبہ صحت کے بیس اہم جاری ترقیاتی منصوبے مکمل کئے جائیں گے جن کے لئے اس مالی سال کے بجٹ میں 7.6ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ان منصوبوں میں گومل میڈیکل کالج ڈی آئی خان کے لئے عمارت کی تعمیر، صوبے کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں اور پشاور کے تدریسی ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کی بہتری، خیبر کالج آف ڈینٹسٹری میں لیکچر ہالز اور آڈیٹوریم کی تعمیر، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اضافی وارڈز کی تعمیر، تدریسی مقاصد کے لئے سیدو گروپس آف ہاسپٹلز کی اپ گریڈیشن، سیدو ہسپتا ل میں لیبارٹریز،ہاسٹل اور لیکچر ہال کی تعمیر،اپ گریڈیشن آف آر ایچ سی یار حسین صوابی، پیراپلیجک سنٹر حیات آباد میں وارڈز اور جم کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



