(چترال میل رپورٹ)تمباکو نوشی کے امتناع اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے تحفظ کے آرڈی نینس 2002 اور تمام عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی پر پابندی لگائے جانے کے پیش نظر ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز‘ سرکاری گاڑیوں میں اور محکمہ صحت کے ہسپتالوں اور ذیلی دفاتر کی حدود کے اندر بھی تمباکونوشی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مذکورہ بالا قانون کی دفعہ 11 اور 12 کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ جبکہ سیکشن 5 ‘ 6 یا 10 کے مندرجات کی خلاف ورزی کے مرتکب کسی بھی فرد کو ایک ہزار روپے تک جرمانہ کی سزا دی جائے گی جبکہ دوسری بار اور بعد ازاں خلاف ورزی کی صورت میں ایک ہزار روپے سے کم نہیں ہوگی اور ایک لاکھ روپے تک بھی ہوسکتی ہے۔ اس امر کا اعلان ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز پشاور کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


