پشاور (نمائندہ چترال میل) خیبر پختونخوا بزنس کمیونٹی کے ایک وفد نے سنیٹر حاجی غلام علی کی قیادت میں پشاور میں آئی جی پی خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود سے اُن کے آفس میں ملاقات کی۔ وفد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس کے نائب صدر بشیر احمد پراچہ، چترال چیمبر آف کامرس کے صدر سرتاج احمد خان اور دلاور خان شامل تھے۔ وفد نے آئی جی کو اُس کی تعیناتی پر مبارکباد دی۔ اور خیبر پختونخوا بزنس کمیونٹی کو مشکلات کے حل کیلئے بزنس کمیونٹی کے ساتھ میٹنگ کی دعوت دی۔ وفد نے آئی جی سے گذشتہ روز چترال میں پیش آنے والے واقعے پر تفصیلی بات چیت کی۔ اور خطیب شاہی مسجد چترال اور چترال کے شہریوں کی طرف سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ اور کہا۔ کہ چترال کے علماء خصوصا خطیب شاہی مسجد چترال، علاقے کے عمائدین،سرکاری آفیسران، سیاسی قائدین اور چترال کے تمام اداروں نے امن قائم کرنے کیلئے جو اہم رول ادا کیا ہے۔ وہ دوسرے اضلاع کیلئے قابل تقلید ہے۔ وفد نے آئی جی پی سے یہ بھی مطالبہ کیا۔ کہ چترال کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے منظور شدہ چھ پولیس سٹیشنوں پر کام شروع کیا جائے۔ اور پولیس فورس کی تعداد بڑھائی جائے۔ تاکہ سیکیورٹی کے لئے مزید بہتر اقدامات کئے جا سکیں۔ انہوں نے آئی جی سے ضلع سے باہر خدمات انجام دینے والے چترال پولیس کے جوانوں اور آٖفیسران کو واپس چترال لانے کا بھی مطالبہ کیا۔ وفد نے چترال واقعے میں بے گناہ افراد کی گرفتاری پر لوگوں کی تشویش سے آئی جی پی کو آگاہ کیا۔ اور کہا۔ کہ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ اور مسلمانوں کی طرف سے جذبات کا اظہار فطری امر ہے۔ تاہم یہ بات خوش آیند ہے۔ کہ سب نے ذمہ داری کا رویہ اپنا یا۔ اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس لئے اس واقعے میں بے گناہ لوگوں کو ملوث نہ کیا جائے۔ سرتاج احمد خان نے آئی جی پی کو چترال آنے کی دعوت دی۔ اس موقع پر آئی جی پی نے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ چترال کے تمام تھانوں میں جو بھی کمی موجود ہیں۔ چھ مہینوں کے اندر وہ مسائل حل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ہم پولیس کو عوام کے قریب تر لانے اور عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کیلئے مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں۔ جن کی نگرانی ڈی آئی جی کریں گے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ناخوشگوار حالات رونما ہونے پر مقامی اکابرین کی ذمہ داری بنتی ہے۔ کہ وہ پولیس کے ساتھ تعان کریں۔ آئی جی نے کہا۔ کہ چترال واقعے میں ہم بے جا گرفتاری نہیں کر رہے۔ اور کئی افراد کو اُن کی بے گناہی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ہم عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کُرسی پر بیٹھے ہیں۔ اور ہمیں عوامی مسائل حل کرکے خوشی ہو گی۔ آئی جی نے سرتاج احمد خان کی طرف سے چترال آنے کی دعوت قبول کر لی۔
تازہ ترین
- ہوممعروف ماہرِ تعلیم اور کھوار زبان و ادب کے مایہ ناز قلمکار غلام عمر مرحوم کی یاد میں ایک پروقار ”محفلِ مذاکرہ” کا انعقاد کیا گیا
- ہوم“روز چترال”اپنے پارٹنر اداروں اور مخیر خواتین وحضرات کے تعاون سے چترالی نوجوانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں مصروف عمل ہے
- ہومکیلاش فیسٹیول اوچال کے موقع پر لوئر چترال پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے فل پروف انتظامات
- ہومدمیڑ کے علاقہ سریگل کے مقام پر گزشتہ شب گھریلو تنازع کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک خاتون زخمی ہوگئی۔
- ہومموڑکہو روڈ کے کلومیٹر 2 پر اسفالٹ بچھانے کے کام میں مبینہ طور پر 300 میٹر کمی کے خلاف مقامی عوام نے شدید احتجاج، کئی گھنٹوں تک ٹریفک نظام بند
- ہومژوغور میں گزشتہ دنوں غیرمعمولی اسکیل میں سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں کے بعد متاثرین کی بحالی ،، غیر سرکاری اداروں کی طرف سے خطیر رقم تقسیم
- ہومچترال گول کمیونٹی برائے تحفظ وترقی یسوسی ایشن نے چترال گول نیشنل پارک سے متصل دس دیہات میں خواتین وی سی سیز قائم کر دی
- ہومآغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ اور ’فوکس پاکستان کا کالاش ویلیز میں معذور افراد کے لیے عظیم خدمت۔۔۔ تحریر: فخر عالم
- ہومچترال کے حالیہ سیلاب متاثرین کے لیے بھیجا گیا 10 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان ہلالِ احمر پاکستان کے ذریعے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیا گیا
- ہومنیشنل بینک آف پاکستان (NBP) کی مین برانچ چترال میں یومِ آزادی 2026 کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد






