داد بیداد۔۔۔ نمکیات۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

Print Friendly, PDF & Email

نمکیات
سا بق صدر آصف علی زرداری نے اپنے تازہ ترین انٹر ویو میں ایوانِ صدر کی دعوتوں اور ضیافتوں کا ذکر چھیڑا ہے اور اس میں ہمارے ممدوح و مخدوم قبلہ شیخ رشید احمد فرزند راولپنڈی کا نام لیا ہے مرزا غالب نے کہا تھا
ذکر اُس پری و ش اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو راز داں اپنا
صدر زرداری کی توجہ شیخ رشید کے ایک بیان کی طرف دلائی گئی جس میں انہوں نے عمران خان کا لہجہ استعمال کرتے ہوئے سابق صدر اور ان کی پارٹی کو للکارا ہے اس پر زرداری نے شگفتہ اور زعفرانی لہجے میں ہلکا پھلکا تبصرہ کرتے ہوئے کہا میں نے ایوان صد ر میں شیخ رشید کو بھی ضیافت دی تھی شاید اُ س میں نمک کی کمی تھی بقول غالب ”خا مشی سے نکلے ہے جو بات چاہیے“اور بقول میر ببر علی انیس
خیال خاطر ِ احباب چاہیے ہردم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
تاہم سابق صدر کے ہلکے پھلکے جملے سے آبگینوں کو ٹھیس لگنے کا احتمال پیدا ہوا ہے یہ صرف شیخ رشید احمد پر منحصرنہیں نمک کی کمی کا شکوہ ڈاکٹر بابر اعوان کے حوالے سے بھی کیا جاسکتا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایوان صدر میں نمکیات کی شدید کمی ہے ایک اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اسی ایوان صدر میں اپنے منہ بولے بھائی امیر مقام او راپنے قریبی دوست کے بیٹے دانیال عزیز کو ضیافتوں پہ ضیافتیں دیں مشرف پر جب بُرا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ ایوان صدر کے باورچی خانے میں نمک تھا ہی نہیں خانسا ماں اور شیف نامی لوگوں کو بلایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ کھانے میں نمک ڈالنا بھول گئے تھے سابق صدر کے دوستوں نے مروت اوروضعد اری میں اس کا ذکر نہیں کیا وقت آنے پر معلوم ہوا کہ کھانے میں نمک نہیں تھا ایک سینئرصحافی نے اس پر تبصر ہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر میں ضیافتیں اُڑا نے والوں کو اگر کھیو ڑہ کے نمک کی پوری کان کھلائی جائے تب بھی فرق نہیں پڑے گا بعض پرندوں کو ہمیشہ نئے گھو نسلوں کی تلاش ہوتی ہے اور شاہین گھو نسلا بناتا ہی نہیں اس لئے اس کو ”زرد چشم“ کہا جاسکتا ہے عاملوں، جوتشیوں اور علم نجوم کے ماہرین نے سابق صدر کو مشورہ دیا ہے کہ 2018 ؁ء کے انتخابات میں ہاتھ ہولا رکھیں میاں نواز شریف کے ساتھ اتحاد کے مضبوط رشتے میں منسلک ہو کر خود وزیراعظم ہاؤس منتقل ہو جائیں رائیو ونڈ والی سرکار کو ایوان صدر کی زینت بنا ئیں 23 مارچ اور 14 اگست کی سلامی کے علاوہ سفیروں کے اسناد سفارت لینے کا کام اُن کے سپرد کریں ویسے بھی ان کی تصویر یں بہت خوبصورت آتی ہیں نیز پاکستانی سیاست کی تاریخ میں مقدر کے دو سکندر ایوان اقتدار میں یک جا ہوجائیں تو مزا آئے گا بقول شاعر ”خو ب گذر ے گی جو مل بیٹھینگے دیوانے دو“ ہر بات میں نقص اور کیڑے ڈھونڈنے والے دوستوں کو اس پر بھی شدید تحفظات ہیں احباب کا خیال بلکہ تجربہ یہ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں بھی نمکیات کی شدید کمی ہے سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے جنرل ضیا ء الحق کو کتنی ضیافتیں دیں؟کتنی دعوتیں کھلائیں آخر میں جاکر پتہ لگا کہ ان دعوتوں میں نمک بالکل استعمال نہیں ہوا تھا سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے سردار فاروق احمد خان لغاری کو وزیراعظم ہاؤس میں کتنی دعوتیں کھلائیں پھر ایک سہانی صبح کو پتہ چلا کہ کھانے میں نمک نہیں تھا قدیم حکا یتوں میں سے مشہور حکایت ہے ایک مالدار آدمی بہت بیمار ہوا بیماری میں اُس نے بیٹوں کو بلا یا پاس بٹھایا اور پوچھا مثال دے کر بتاؤ تمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے؟ چھوٹے بیٹے نے کہا شہد کے برابر منجھلے لڑکے نے کہا میں آپ کو اتنا چاہتا ہوں جتنا مجھے حلوہ پسند ہے بڑے بیٹے نے کہا میں آپ سے اتنی محبت کرتا ہوں جتنی محبت مجھے نمک سے ہے باپ نے آدھی جائیداد شہد والے بیٹے کو دیدی، بقیہ آدھی جائیداد حلوہ والے کو دیدی، نمک والے کو عاق کر کے گھر سے نکال دیا خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ باپ بیماری سے صحت یاب ہو گیا تو بڑا بیٹا پڑوسی ملک میں بادشاہ بن گیا اتفاق سے باد شا ہ مرگیا تھا لوگ شہر سے باہر جمع تھے یہ شہر میں سب سے پہلے داخل ہو اتو اس کو بادشاہ بنایا جشن تا جپو شی کا اعلان ہوا دو ر دورے لوگ مبارکبار دینے آئے اُس کا باپ بھی آگیا اُس نے حکم دیاکہ اس مالدار مہمان اور اس کے بیٹوں، ساتھیوں کو جو کھا نا دیا جائے اُس میں نمک بالکل نہ ملا یا جائے انہوں نے تین دنوں تک بے ذائقہ کھانے کھا ئے بادشاہ سے ملاقات ہوئی تو اس کا ذکر کیا بادشاہ نے کہا مجھے بتا یا گیا تھا کہ آپ کو نمک پسند نہیں ہے اسی نمک کی وجہ سے آپ نے اپنے بیٹے کو عاق کر دیا ہے اس وجہ سے آپ کے کھانے میں نمک نہیں ڈالا گیا مالدار شخص بہت شرمند ہ ہوا تو بادشاہ نے کہا ابا حضور!میں آپ کا وہی بیٹا ہوں، جوآپ سے نمک کے برابر محبت کرتا تھا سابق صدر زرداری اعلیٰ پایے کا حس مزاح رکھتے ہیں انہوں نے جیل میں میاں نوازشریف کو سالگر ہ کا جو کیک بھیجا تھا اس پر شیر کا تصویر تھی 40 پونڈ کے کیک کو کاٹنے کے لئے چاقو یا چھر ی کی جگہ تلوار بھیجا تھا جو کبھی پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان ہوا کرتا تھا زرداری کا ایک جملہ ”پاکستان کھپے“ ہماری تاریخ کا حصہ بن چکا ہے شیخ رشید کے حوالے سے ایوان صدر کے کھانوں میں نمک کی کمی کا شکو ہ بھی برسوں یادر ہے گا شاید زرداری نے امیر مینائی کی اردو شاعری کا بھی لطف اُٹھا یا ہوگا
امیر جمع ہیں احباب حال دل کہہ لے
پھر االتفات ِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے