تنظیمِ اساتذہ پاکستان چترال کی دو روزہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر، یکساں نظامِ تعلیم اور اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ
چترال (نمائندہ چترال میل) تنظیمِ اساتذہ پاکستان چترال لوئر و اپر کے زیرِ اہتمام دو روزہ تعلیمی کانفرنس علمی، فکری، تربیتی اور تنظیمی سرگرمیوں کے بعد اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں علماء کرام، اساتذہ، ماہرینِ تعلیم اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی علمی و فکری شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس کے دوران تعلیم و تربیت، اساتذہ کے مسائل، تنظیمی امور، جدید ٹیکنالوجی، اخلاقی و معاشرتی اقدار اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ و فکری تربیت سمیت مختلف اہم موضوعات پر مقررین نے اظہارِ خیال کیا۔
کانفرنس کا آغاز درسِ قرآن سے ہوا جس میں مولانا جمشید احمد نے اساتذہ کی ذمہ داریوں اور معاشرے کی اصلاح میں تعلیم و تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ صدر تنظیمِ اساتذہ پاکستان چترال اپر نور الہادی ناجی نے ’’نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے طویل سفر، جدوجہد اور اساتذہ کی خدمات کا تذکرہ کیا۔
سائنس ٹیچر گورنمنٹ ہائی سکول کاری و نگران شعبہ تحقیق تنظیمِ اساتذہ پاکستان چترال لوئر عبدالرؤف نے ’’تدبر و تفکرِ کائنات‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے تحقیق، علم اور کائنات کے مظاہر میں غوروفکر کی اہمیت اجاگر کی، جبکہ صدر تنظیمِ اساتذہ پاکستان چترال لوئر سفیراللہ نے ’’انفرادی احتساب‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی اور فرد کی اصلاح، احساسِ ذمہ داری اور اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس کے دوسرے روز کا آغاز درسِ حدیث سے ہوا، جو نگران تعلیم و تربیت تنظیمِ اساتذہ پاکستان چترال اپر مولانا محمد عثمان نے دیا۔ بعد ازاں نائب صدر تنظیمِ اساتذہ پاکستان خیبرپختونخوا بختیار زمین کی زیرِ نگرانی ورزش اور ضیاء الدین کی زیرِ نگرانی صبح کی واک کا اہتمام کیا گیا۔
بختیار زمین نے تنظیمِ اساتذہ پاکستان کے اغراض و مقاصد، اساتذہ کی فکری و تربیتی رہنمائی اور اجتماعی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر نظام الدین نے ’’جنریٹیو اے آئی اور طریقۂ تدریس‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے تدریسی عمل میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال، سبق کی منصوبہ بندی اور تعلیمی مواد کی تیاری کے حوالے سے اہم نکات بیان کیے۔
پرنسپل عبدالحمید ناصری نے ’’دستورِ نظم کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے نظم و ضبط، تنظیمی دستور کی پاسداری، ذمہ داریوں کی ادائیگی اور باہمی تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔ صاحبزادہ صادق جان نے ’’تہذیبِ عصر حاضر و معلم‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے موجودہ دور میں معلم کی ذمہ داریوں اور معاشرے کی تشکیل میں اساتذہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔
ریٹائرڈ پروفیسر اسرار الدین نے تنظیمِ اساتذہ پاکستان کے ساتھ وابستہ اپنی یادیں اور تجربات شرکاء کے ساتھ شیئر کیے۔ صدر پرائیویٹ سکول نیٹ ورک وجیہ الدین اور سید محمد شاہ بادشاہ نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور اساتذہ کے مسائل، تنظیم کی جدوجہد اور تعلیم و تدریس سے متعلق مختلف امور پر اظہارِ خیال کیا۔
کانفرنس میں آل ٹیچر ایسوسی ایشن (ATA) چترال لوئر کے صدر نثار احمد اور ان کی کابینہ جبکہ اگیگا (AGIGA) چترال کے صدر اور کابینہ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف اساتذہ تنظیموں کے نمائندوں نے بیرونِ چترال سے آئے ہوئے مہمانوں کو روایتی چترالی ٹوپیاں پہنا کر ان کا خیرمقدم کیا۔ مقررین نے اس عمل کو باہمی یکجہتی اور اساتذہ برادری کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔
کانفرنس میں پیش کی گئی مختلف تجاویز اور قراردادوں میں تعلیمی شعبے کی بہتری، اساتذہ کی فکری و پیشہ ورانہ ترقی اور ان کے جائز حقوق و مسائل کے حل پر زور دیا گیا۔
چار اہم قراردادیں منظور
کانفرنس کے اختتام پر منظور کی گئی قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں یکساں نظامِ تعلیم رائج کیا جائے۔ قومی وحدت کے قیام کے لیے اردو کو قومی زبان کی حیثیت سے تمام سرکاری و تعلیمی اداروں میں رائج کیا جائے جبکہ علاقائی زبانوں کو بھی تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔
قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ نصابِ تعلیم کو نظریۂ اسلام اور نظریۂ پاکستان سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ اس کے علاوہ نئی اصلاحات کے نام پر ملازمین، بالخصوص اساتذہ کی پنشن اور دیگر حقوق میں کمی یا خاتمہ ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملازمین کے جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور حقوق میں کی گئی کسی بھی کمی کو واپس لیا جائے۔
دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اساتذہ کی فکری و پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی معیار کی بہتری اور اساتذہ کے جائز حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔





