پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلوں میں واقع چترال قدرتی وسائل اور حسنِ فطرت سے مالا مال خطہ ہے، مگر بدقسمتی سے یہ علاقہ ترقیاتی ترجیحات میں ہمیشہ پسِ پشت رہا ہے۔ یہ ایک ایسا تضاد پیش کرتا ہے جہاں وسائل کی فراوانی موجود ہے مگر ترقی کا فقدان نمایاں ہے۔
چترال کی سب سے بڑی قوت اس کے آبی وسائل اور پن بجلی کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ مختلف چھوٹے اور درمیانے درجے کے پن بجلی منصوبوں کے ذریعے یہاں تقریباً 115 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جو مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بجلی کی غیر یقینی فراہمی اور بلند نرخوں نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعمیر کے باوجود صرف چند علاقوں کو ہی اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ چترال کے کئی علاقے آج بھی اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف انتظامی کمزوریوں کی عکاسی کرتی ہے بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے چترال کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بھی ظاہر کرتی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں عدم توازن اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے اس خطے کے احساسِ محرومی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
سستی اور مستقل بجلی کی فراہمی نہ صرف معاشی بہتری کے لیے ضروری ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ بجلی کی کمی کے باعث لوگ آج بھی ایندھن کے طور پر لکڑی پر انحصار کرتے ہیں، جس سے جنگلات پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ اگر مقامی سطح پر پیدا ہونے والی پن بجلی کو مناسب انداز میں عوام تک پہنچایا جائے تو نہ صرف جنگلات کا تحفظ ممکن ہو گا بلکہ لوگوں کا معیارِ زندگی بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
انفراسٹرکچر، خصوصاً سڑکوں کی حالت، چترال کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ کئی علاقوں میں سڑکیں تنگ، خستہ حال اور غیر محفوظ ہیں، جو نہ صرف آمدورفت میں مشکلات پیدا کرتی ہیں بلکہ تجارتی سرگرمیوں کو بھی محدود کرتی ہیں۔ سڑکوں کی توسیع اور بحالی ناگزیر ہے تاکہ مقامی معیشت کو فروغ مل سکے اور لوگوں کو بنیادی سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہو۔
چترال دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی علاقوں میں شمار ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے دلکش مناظر، متنوع ثقافت اور پُرامن ماحول سیاحت کے فروغ کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جہاں دنیا کے دیگر سیاحتی علاقے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، وہیں پاکستان کا یہ حسین خطہ جدید دور میں بھی پسماندگی کا شکار ہے۔ مناسب سڑکوں، ہوٹلنگ، اور دیگر سہولیات کی کمی کے باعث سیاحت کا شعبہ اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر پا رہا۔
پالیسی کی سطح پر بھی ایک مربوط اور جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کو وقتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی وژن کے تحت ترتیب دیا جانا چاہیے۔ مقامی آبادی کو منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ترقی کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچ سکیں۔
چترال وسائل سے محروم نہیں، بلکہ توجہ سے محروم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اور صوبائی سطح پر ترجیحات کا ازسرنو تعین کیا جائے اور چترال کو ایک پسماندہ خطہ نہیں بلکہ پاکستان کے روشن مستقبل کا اہم حصہ سمجھا جائے۔
تازہ ترین
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد
- ہومریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ کا دورہ لوئر چترال
- ہومٹی ایم اے عملے کی کارکردگی پر انعامات تقسیم، ٹی ایم او کی قیادت کو سراہا گیا
- ہومٹیلینور کمپنی کے ان غریب ملازمین کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا نوٹس لیا جائے اور ان کی تنخواہیں سرکاری طور پر مقرر کردہ کم از کم اجرت کے مطابق کی جائیں۔۔ ملازمین کی پریس کانفرنس
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔۔محمد جاوید حیات ۔۔۔مسیحا کی ضد…ڈاکٹر فاروق احمد…
- ہومڈاکٹر فیض المرام کی بطور میڈیکل آفیسر ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال لوئر تعیناتی پر مبارکباد
- ہوملوئر چترال پولیس کی کم سن موٹرسائکلسٹ کے خلاف مہم جاری*
- ہوم*ڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردلی روم کا انعقاد
- ہومچترال: واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے اپنی سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے اقدام کے تحت چترال کے گاؤں کوغذی میں گولین گول ہائیڈل پاور اسٹیشن کی کالونی میں ایک پرائمری اسکول قائم کر دیا ہے


