پیٹرولیم قیمتوں میں اتار چڑھاؤ: سیاسی حکمتِ عملی یا پالیسی ناکامی؟۔۔بشیر حسین آزاد

Print Friendly, PDF & Email

.
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور پھر اچانک نمایاں کمی نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ابتدا میں حکومت کی جانب سے پیٹرول اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ میڈیا، اپوزیشن جماعتوں اور حتیٰ کہ حکمران جماعت کے اندر سے بھی اس فیصلے پر تنقید کی گئی۔ اس دباؤ کے بعد وزیراعظم کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے کمی کا اعلان کیا گیا، جسے بظاہر عوامی ریلیف کے طور پر پیش کیا گیا۔

تاہم، اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ قیمت میں کمی لیوی (Levy) کی مد میں کی گئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت کو اسی سطح پر برقرار رکھا گیا۔ یہ بات عام فہم سے بالاتر ہے کیونکہ پاکستان جیسے ملک میں ڈیزل کا استعمال زیادہ تر ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتی شعبوں میں ہوتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت برقرار رہنے کا مطلب ہے کہ اشیائے خورد و نوش اور دیگر ضروریات کی قیمتوں میں کمی کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ یوں پیٹرول کی قیمت میں کمی کا فائدہ صرف محدود طبقے تک رہ جاتا ہے، جبکہ وسیع عوامی حلقہ بدستور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔

یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے: کیا حکومت پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے اور پھر عوامی دباؤ کے تحت جزوی کمی کرکے سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ ایک وقتی سیاسی چال تو ہو سکتی ہے، مگر طویل المدتی پالیسی نہیں۔ عوام اب پہلے سے زیادہ باشعور ہو چکے ہیں اور وہ ان اقدامات کو محض وقتی ریلیف کے بجائے ایک منظم حکمتِ عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

مزید برآں، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید، پریس کانفرنسز اور احتجاج کی کال اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاملہ محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکمران جماعت کے اندر سے بھی پالیسیوں پر اختلافی آوازیں اٹھ رہی ہیں، جو حکومتی صفوں میں عدم اطمینان کی نشاندہی کرتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی معیشت میں غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتی ہے۔ سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں، صنعتوں کی لاگت بڑھتی ہے اور عام آدمی کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان اٹھتا ہے جسے کنٹرول کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ قلیل المدتی سیاسی فائدے کے بجائے ایک جامع اور دیرپا پالیسی ترتیب دے۔ ایسی پالیسی جو نہ صرف مہنگائی کو کنٹرول کرے بلکہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صنعت کاروں، بڑے سرمایہ داروں اور ذخیرہ اندوزوں کو غیر ضروری مراعات دینے کے بجائے عام شہری کے مفاد کو ترجیح دی جائے۔

اگر حکومت نے فوری طور پر عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہ کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ مہنگائی سے تنگ عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف سیاسی عدم استحکام بڑھے گا بلکہ حکومتی رٹ بھی چیلنج ہو سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وقت آ گیا ہے کہ حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ محض اعلانات اور وقتی ریلیف سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ ایک شفاف، منصفانہ اور عوام دوست معاشی پالیسی ہی پاکستان کو موجودہ بحران سے نکال سکتی ہے۔