چترال کے سینئر بیورو کریٹ غلام انبیاء کو چھپا رستم لکھنا مبا لغہ نہیں لو گ ان کو ایک نیک نا م اور بلند کر دار کے ما لک افسر کے طور پر جا نتے ہیں ان کا عملی مقام لو گوں کی نظروں سے پو شیدہ ہے اور چاہتے بھی نہیں کہ خا لق کے ساتھ ان کا تعلق مخلوق پر بھی آشکار ہ ہو انہیں تفسیر اور حدیث پر جو دسترس حا صل ہے وہ مخا طب کو حیرت زدہ کر دیتا ہے ادب، فقہ، استد را جات اور تفر دات پر ان کا عبور اللہ پا ک کے خا ص کرم کا نتیجہ ہے، وہ الکتاب پر گھنٹوں بولتا ہے اور تفسیری مبا حث میں اِدھر اُدھر کی باتیں شامل نہیں کر تا،اس کو مخبر صادق ﷺ کی حدیث یا سنت مطہرہ پر بولنے کا موقع دیا جا ئے تو علوم الحدیث، علوم الاسناد اور علوم الر جال کے دریا بہا تا ہے ان کا خیال بھٹکنے نہیں پا تا اُن کی زبان میں لغزش نہیں آتی، ان سے عرض کی جا ئے کہ علم کے یہ مو تی اپنے پا س نہ رکھیں، دائیں بائیں تقسیم کریں، زبان و قلم کی طاقت کو کام میں لائیں، انگریزی عربی میں اپنے عبور سے بھی کا م لے لیں، سمعی وبصری ایجا دات کا فائدہ اٹھا ئیں، نشرو اشاعت کے جدید ذرائع سے استفادہ کریں تو ایک ہی جواب دیگا، اس کا جواب یہ ہو گا یہ محراب و منبر کے سالکین اور مسجد و مدرسہ کے متعلقین کا کام ہے، جس کا کام اُس کو ساجھے مجھے پتہ ہے یہ ان کی عالی ظر فی اور منکسر مزاجی ہے ورنہ اللہ پا ک نے انہیں علم و عمل کی جس دولت سے نوازا ہے اس کا تقا ضا ہے کہ متلا شیاں حق کی رہنما ئی کے لئے اس کو تقسیم کیا جا ئے، ہماری جب ملا قات ہوتی ہے تب بھی گھنٹوں باتیں ہو تی ہیں، فون پر گفتگو کا موقع ہو تب بھی تشنگی کو رہنے نہیں دیتے، میرے ہم عمر ہیں 70سال کی سر حد عبور کر چکے ہیں 80تک پہنچنے کی نو بت نہیں آئی سٹیٹ اینگلو ور نیکو لر ہائی سکول چترال میں مجھ سے ایک سال جو نیر تھے 1971ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحا ن پا س کیا جس خاندان سے ان کو نسبت ہے اس خا ندان کو اعزاز حا صل ہے کہ چترال سے ان کے جد امجد وزیر عنا یت خان لال اور ان کے بھا ئی وفا دار خان ریا ستی حکمران کی طرف سے وزیر وزارت اور مسند سفارت پر ما مور ہو کر کشمیر اور ہندوستان جا یا کر تے تھے ان کی سفا رت کا ری سے ریا ست چترال کا تعلق مہا را جہ کشمیر اور 1870ء اور 1885کے درمیان استوار ہو کر مستحکم حیثیت اختیار کر گیا کا بل اور زار روس کی طرف سے استبداد کا خطرہ ٹل گیا، چترال کے نو جوان سری نگر، دہلی، آگرہ، دیو بند، علی گڑھ اور بھو پا ل تک جا کر تعلیم حا صل کر نے لگے، چترال کے سیا سی اور سما جی عما ئدین کو ہندوستان کے اندر سرا ٹھا نے والی علمی اور سیا سی تحریکوں میں حصہ ڈالنے کے موا قع ملے، آگے جا کر برٹش سرکار کے ساتھ دوستی کا معا ہدہ ہوا جس کے نتیجے میں 1906ء سے لیکر 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کا نگریس کی تحریکوں کا دائرہ چترال تک پھیل گیا جب پا کستان قائم ہوا تو چترال کی ریا ست نے پا کستان کے ساتھ الحاق کا با ضا بطہ اعلا ن کیا اس کے اولین سفیر غلا م انبیا ء کے اجداد ہی تھے وزیر عنا یت خان کی اولا میں محمد یعقوب خان نے علی گڑھ مسلم یو نیور سٹی سے تعلیم حا صل کی، محمد نجم خان اور محمد یو سف خا ن نے سما جی میدان میں شہرت حا صل کی محمد یو سف خان کو 1938ء میں سیا سی بنیا دوں پر جلا وطن کیا گیا انہوں نے1945ء تک سات سال کا عرصہ اہل و عیا ل کے ساتھ کا بل اور قند ہار میں گذارا بعد میں ریا ستی حکومت نے انہیں واپس بلا کر سابقہ عہدے پر بحا ل کیا جا گیر بھی واپس کر دی گئی، ان کے بیٹوں میں جا ن نواز خان کے ہاں غلا م انبیاء کی ولا دت ہوئی گریجو یشن کے بعدا نہوں نے سرکاری ملا زمت اختیار کی پرائیویٹ ایم اے کر کے سنٹرل سپر ئیر سروس کے امتحا نات کی تیا ری کی اور کسی بڑے تعلیمی ادارے میں داخلہ کے بغیر کرا چی گرا مر سکول، ایچسن کالج لا ہور، گور نمنٹ کا لج لا ہور اور دیگر مشہور اداروں میں پڑھے ہوئے اُمید واروں کے ساتھ مقا بلے کا امتحا ن پا س کیا سیٹوں کی تقسیم میں آپ کو آڈٹ اینڈ اکا ونٹس کا محکمہ مل گیا آپ سول اور ملٹری اکا ونٹس میں ڈپٹی اکاونٹنٹ جنرل اور ڈپٹی کمپٹرولر جنرل کی حیثیت سے شاندار سروس کا ریکارڈ قائم کیا آپ جہاں گئے، اصول پسند ی، نظم و ضبط، ایما نداری اور صداقت کے ساتھ سر کار کی خد مت کی مثا ل قائم کی مشہور دانش ور محمد اظہار الحق آپ کے حکام بالا میں شا مل تھے اور آپ کے بڑے مداح تھے، اس طرح ساتھی اور معا ون افیسروں میں بھی آپ کی علمی استعداد اور آپ کے کر دار کی عظمت کا بڑا چر چا ہے اگر آپ کسی سیا سی پارٹی کے ہم نوا ہوتے تور یٹائر منٹ کے بعد کسی بڑے عہدے پر دوبارہ فائز ہو کر سول سروسز اکیڈ یمی،پبلک سروس کمیشن یا وفا قی محتسب کے ادارے میں خد مات انجام دیتے مگر آپ کی غیر ت وحمیت نے گوارا نہیں کیا ریٹائر منٹ کے بعد خا نہ نشینی کو تر جیح دی، سول سروس، آڈٹ اینڈاکا ونٹس اور علوم القرآن کا حسین امتزاج بہت کم شخصیات میں دیکھنے کو ملتا ہے اور غلا م انبیا ء کی طرح جن معدودے چند شخصیات میں ایسی صفات یکجا ہو جائیں ان کو چھپا رستم کہا جا تا ہے ؎
غیر ت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہنا تی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



