ہمارے سامنے دنیا کی تاریخ عیان پڑی ہے۔۔تجربات ہیں۔۔حکایات ہیں۔عروج و زوال کی داستانیں ہیں۔۔۔ان کی وجوہات ہیں۔۔۔عروج کیسے، کب،کس طرح آتا ہے۔۔۔زوال کیوں، کیسے، کس طرح آتا ہے۔۔دنیا میں قوموں کی تاریح کی روشن مثالیں ہیں۔۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے قوموں پر جو عتاب آۓ وہ اخلاقی گراوٹ معاملات کی بگاڑ فحاشی عریانی اور ظلم کی وجہ سے آیا ہے۔۔ناپ تول میں کمی بظاہر معمولی لگتا ہے مگر ایک قوم اس وجہ سے اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی۔۔فحاشی ایک حیوانیت ہے بظاہر انفرادی فعل لگتا ہے مگر ایک قوم اس گناہ کی وجہ سے زمین سے اٹھا کر پھر زمین پہ پٹخ دی گئی۔۔نافرمانی اور جہالت یہودیت کے ساتھ لازم و ملزوم ٹھری تو ان کو بار بار قہر خداوندی کا شکار ہونا پڑا مگر باز نہ آۓ۔۔تکبر غرور نے ایک قوم کو دریابرد کیا۔۔قران کی رو سے زمین میں فساد لوگوں کے کرتادھرتا ہیں۔۔ہم سب کچھ جانتے ہوۓ بھی انہی گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں اور مطمین ہیں کہ ہم کسی عتاب کا شکار نہیں ہونگے۔ہمارے سامنے ظلم ہورہا ہے ہم مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوۓ ہیں۔وہ فعل جو ہمارے ہاں سے ظلم کے خلاف سرزد ہوجاۓ تو دہشت گردی ہے اور کسی دوسرے کی طرف سے ہوجاۓ تو انصاف ہے۔۔افغانستان، عراق،شام، فلسطین اور کشمیر میں اغیار کی بربریت جاٸز ہے ہماری طرف سے مزاحمت دہشت ہے یہ اس لیے کہ ہم نے اپناوہ سب کچھ کھو دیا ہے جس کی بنا ہمارا وجود برقرار اور مقام قاٸم تھا۔ہمارا تاجر، ہمارا کارخانہ دار،ہمارا ڈرائیور، ہمارا انجینئر،ہمارا استاد، ہمارا سی ایس ایس آفیسر بدعنوانی کو حق سمجھتے ہیں۔کارخانہ دار دو نمبر کامال مارکیٹ میں لاۓ گا پوچھنے والا کوٸی نہیں ہوگا۔۔ڈاکٹر گھی کو مضر صحت کہے گا مگر بازار سے وہی گھی خریدے گا۔پولیس ڈرائیور کو زیادہ کرایہ لینے پہ ملامت کریگا لیکن اس کے سامنے وہی ڈرائیور اپنی مرضی سے کرایہ لیگا۔عدالت میں جھوٹی گواہی ہوگی۔۔یہ گوہی ایک تکڑا وکیل موکل کو سیکھاۓ گا کیس جیتے گا انصاف کا جنازہ نکل جاۓ گا کوٸی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔دفتروں میں بیٹھے بڑے بڑے آفیسرز کواپنی من مانیوں اور عیاشیوں سے فرصت نہیں ہوگی ملک کا نظام درہم برہم ہوجاۓ پوچھنے والا کوٸی نہ ہوگا۔۔قرضے پہ قرضے چھڑیں گے۔۔اشرافیہ کی عیاشیوں میں کمی نہیں آۓ گی کوٸی سوچنے والا نہ ہوگا۔۔کیا یہ سب کوتاہیاں ان قوموں سے سرزد نہیں ہوٸیں جو تباہ ہوۓ۔۔برصغیر میں مسلم حکمرانوں کو زوال کیوں آیا؟۔۔سپین کی سات سو سالہ عظیم سلطنت کو کیوں زوال آیا؟۔فلسطین دو دفعہ ہاتھ سے کیوں گیا؟۔سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کیوں ہوئے؟۔۔عباسی اور اموی سلطنتوں کے نام نشان کیوں مٹ گۓ آخر کوٸی وجہ تو تھی۔اگر کوٸی فکرمند دل یہ سوچے کہ ہماری موجودہ حالت کس نہج پہ ہے تو کڑھ جاۓ گا۔لرزہ براندام ہو جاۓ گا۔۔جہاں ہم کھڑے ہیں یہ زوال کی دہلیز ہے۔ہمارے کارتوت ہمارے منہ پہ طمانچے ہیں۔ہمارے عدلیہ کے معیار پر غور کریں۔۔ہماراالیکشن دیکھیں ہماری لیڈرشپ کا معیار دیکھیں ہمارے پارلیمنٹ کے اندر ہمارا اخلاق دیکھیں۔کیا ایسی قوم آگے بڑھنے کے لاٸق ہے۔کیا یہ قوم ملک مضبوط کر سکتی ہے۔کیا یہ عروج کے قابل ہے۔ہمیں سبق سیکھنا چاہیۓ۔۔ہمیں تاریخ پڑھنا چاہیۓ ہمیں اپنے کارتوتوں پر غور کرنا چاہیۓ اگر ہم سبق سیکھنے کے قابل ہو جاٸیں تب کہیں جاکے اپنے آپ کو سنبھالنے کی فکر کر سکیں گے۔۔۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



