15اکتوبرہاتھ دھونے کاعالمی دن۔۔۔۔تحریر: سیدنذیرحسین شاہ نذیر
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہاتھ دھونے کا عالمی دن ہر سال 15 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد ہاتھ دھونے کی عادت سے مختلف بیماریوں سے محفوظ رہنے کی اہمیت کے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے۔ہاتھ دھونا خود کو اور اپنے خاندان کو بیمار ہونے سے بچانے کے بہترین طریقوں میں سے ایک ہے۔ صحت مند رہنے کے لیے آپ کو کب اور کس طرح اپنے ہاتھوں کو دھونا چاہیے۔ان چار مواقع پر ہاتھ دھونا بہت ضروری ہے کھانا پکانے سے پہلے، کھانا کھانے کے بعد،رفع حاجت کے بعد اور کھانسنے اور چھینکنے کے بعد۔اسلامی معاشرے میں صفائی کی بہت اہمیت ہے اور اسے نصف ایمان کہا جاتا ہے بلکہ سائنسی نقطہ نظر سے بھی ہاتھوں کی صفائی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے 15اکتوبرکو ہاتھ دھونے کا عالمی دن کے موقع پرملک بھرمیں سرکاری اورغیر سرکاری ادارے پروگرامات منعقد کرتی ہیں۔تعلیمی اداروں میں بھی ہاتھ دھونے کی اہمیت اور فوائد سے متعلق آگاہی دی جاتی ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں سالانہ لاکھوں افراد بالخصوص بچے جراثیم سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے متاثر ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ ہاتھ نہ دھونا ہے۔ باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنانے سے آپ مختلف جراثیم اور متعدی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔چترال میں اس سال ہاشو فاونڈیشن نے گورنمنٹ پرائمری سکول چترال میں اس دن کی مناسبت سے ایک تقریب کااہتمام کیاگیا جس میں ضلعی انتظامیہ،محکمہ تعلیم، محکمہ صحت اورہاشوفاونڈیشن چترال کے ذمہ داروں نے شرکت کی۔اس موقع پرڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرکے سینئرنرس نے سکول ہذا کے بچوں کوہاتھ دھونے کی اہمت بناتے ہوئے کہاکہ کروناجیسے مہک وباء سے اپنے اوراپنے گھروانوں کومحفوظ رکھنے کیلئے صابن کے ساتھ اچھی طرح ہاتھ دھولیں۔ہاتھ دھونے کا عالمی دن صرف سکولوں کے بچوں کیلئے منایا جاتا ہے لیکن ہر شخص صابن سے ہاتھ دھو کراس دن کے منانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اپنے ہاتھوں کو وائرس سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لئے، جلدی میں ہاتھ دھونے یا رگڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ موثر انداز میں ہاتھ دھونے کا مرحلہ تفصیل سے بتاتے ہوکہاکہپہلا۔بہتے ہوئے پانی سے اپنے ہاتھ گیلے کریں۔دوسرا۔ ہاتھوں پر اتنا صابن لگائیں کہ آپ کے گیلے ہاتھ پوری طرح صابن کی جھاگ میں چھپ جائیں۔
تیسرا۔ہاتھوں کی دونوں جانب سطح، انگلیوں کے درمیان اور ناخنوں کے اندرونی حصوں کو اپنے ہاتھوں سے اچھی طرح رگڑیں۔چوتھا۔ کم از کم 20 سیکنڈ تک رگڑیں۔
پانچواں۔یہ وقت ذہن میں رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ ہاتھ دھونے کے دوران دو مرتبہ سالگرہ مبارک (ہیپی برتھ ڈے) گیت گائیں۔
چھٹا۔بہتے ہوئے پانی سے اپنے ہاتھ اچھی طرح دھو لیں۔ساتویں۔ اپنے گیلے ہاتھ کسی صاف کپڑے یا ایسے تولیے سے صاف کرلیں جو صرف آپ کے استعمال میں ہو۔
اس عمل کوباربارکرکے کورونا وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہوں گے۔آپ اکثر اپنے ہاتھوں کو دھو کر صحت مند رہنے میں اپنی اور اپنے عزیزوں کی مدد کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان اہم اوقات کے دوران جب آپ کو جراثیم لگنے اور پھیلنے کا خطرہ ہوتے ہیں۔رش والے عوامی مقامات سے واپسی پر، پبلک سواری استعمال کرنے کے بعد، مارکیٹ سے واپس آنے پرگھر سے باہر چیزوں کی سطح پر ہاتھ لگانے کے بعد، حتیٰ کہ دروازے کے لاک چھونے کے بعدصابن اورپانی سے ہاتھوں کودھونااورہینڈسینیٹائزرکااستعمال کرنابہت ضروری ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں آن بیماریوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے،جو ہاتھ نہ دھونے کی وجہ سے جنم لے سکتی ہیں۔، وائرس کے پھیلاؤ کے عمل کو روکنے کا سب سے سستا، سب سے آسان اور سب سے اہم طریقہ اپنے ہاتھوں کو صاف پانی اور صابن سے بار بار دھونا ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


