غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ
قدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد
پاکستان سمیت پوری دنیا میں پناہ گزینوں کا عالمی دن20جون کومنایاجاتاہے،اس دن کو منانے مقصد لوگوں کی توجہ ان لاکھوں مہاجرین یا پناہ گزینوں کی جانب مبذول کرانا ہے جوعلاقائی،نسلی تنازیات،تشدد، دہشت گردی جنگی تنازعات، ریاستی جبر سمیت دیگرکئی وجوہات کی بنا پربے گھرہوکر نقل مکانی کرتے ہیں اور دوسرے ممالک میں قائم کیمپوں میں زندگیاں گزارتے ہیں۔ اور ہمیں ان لاکھوں مہاجرین یا پناہ گزینوں کی حالت زار کا احساس ہوناچاہیے کہ جنہوں نے جنگ اور ظلم و ستم کے سبب اپنا گھربار چھوڑا ہے۔ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔جنہوں نے تشدد اور اختلافی خطرات کے باعث اپنا آبائی وطن چھوڑکرپردیس کی زندگی بسرکررہے ہیں۔.اس دن کو منانے کا مقصد عوام کی توجہ ان لاکھوں پناہ گزینوں کی طرف دلوانا ہے جوکئی وجوہات کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کردوسرے ملکوں میں پناہ گزینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اورمقامی لوگوں میں سوچ بیدار کرنے کی ضرورت کہ وہ ان مہاجرین یاپناہ گزین بھائیوں کی ضرورتوں اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔
مجھے بھی لمحہ ہجرت نے کر دیا تقسیم
نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف
ان بے بس لوگوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو بھی بھول جاتے ہیں حالانکہ ان پناہ گرین میں سے ایک ایک بچے، ایک ایک خاتون اور ایک ایک انسان کی الگ الگ داستان ہے۔ان پناہ گزینوں یا مہاجرین کے دکھ و درد کا داستان وہاں ہی سے شروع ہو جاتا جب یہ لوگ اپنی آبائی سرزمین کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بد قسمتی سے اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین یا پناہ گزین موجود ہونے کی وجہ ہم ان سب کے دکھ و درد کو قریب سے نہیں جان سکتے
”اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے ایک شائع شدہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جبری بے گھر کیے جانے والوں کی تعداد 70 ملین سے زیادہ ہو گئی ہے جو ایسے لوگوں کی اب تک سب سے بڑی تعداد ہے۔ شام سے افغانستان اور جنوبی سوڈان تک یہ صورتحال نمایاں ہے۔ آج دنیا میں مہاجرین کی نصف سے زیادہ تعداد کا تعلق انہی ممالک سے ہے۔ دنیا میں بے گھری کے اعتبار سے آج دوسرا بڑا بحران وینزویلا میں ہے جہاں چار ملین لوگوں کو اپنا گھر بار اور ملک چھوڑنا پڑا ہے۔ یوں مہاجرت کے مسائل پر موثر، کارگر اور جامع انداز میں ردعمل کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔“
مجھے تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی
وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا
20جون کویوم پناگزین کے طورپرقبول کیاجاتاہے لیکن ہمارے ساتھ ہی زندگی بسر کرنے والے ا نسانی نسل سے تعلق رکھنے ان افرادکے مسائل کو نظر اندازکیاجاتاہے۔ ہجرت دراصل انسان بہتر مستقبل بہتر حالات حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے۔ وہ اس کا فیصلہ انتہائی مشکل حالات میں کرتا ہے جب اس کے پاس کوئی اور چارہ کار باقی نہیں بچتا ہے۔
کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے
وہ دیکھتا تھا مجھے اشک بار ہوتے ہوئے
پرندے آئے تو گنبد پہ بیٹھ جائیں گے
نہیں شجر کی ضرورت مزار ہوتے ہوئے
وہ قید خانہ غنیمت تھا مجھ سے بے گھر کو
یہ ذہن ہی میں نہ آیا فرار ہوتے ہوئے
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



