ضلع چترال کی خوش قسمتی یا بدقسمتی سمجھ لیں ضلع چترال میں پہاڑوں کے دامن میں چترالی عوام کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے گولین گول پاؤر اسٹیشن پرکام شروع ہوا۔چترالی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ پڑی کہ ہم بھی ترقی کی راہ پرگامزن ہونگے چترال میں کارخانے لگ جائینگے۔عوام کی معیار زندگی بدل جائیگی تو کئی سال PESCOکے ماہرین (انجینئرز) کی نگرانی میں بجلی گھر تکمیل کو پہنچا اور افتتاح کے موقع پرافوہ پھیل گئی کہ اپر چترال کو بجلی نہیں دی جائیگی۔تو اُس وقت بجلی کی فراہمی کے لئے تحریک حقوق کے پلیٹ فارم سے احتجاجی تحریک چلانے اور برنس تک لانگ مارچ کرنا پڑا جب کہ میں اس تحریک میں ایک اہم اورمظبوط کردار ادا کررہا تھا۔برنس پہنچنے پرسابق ڈی سی چترال،کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس،ڈی پی او چترال اور ڈسٹرکٹ ناظم رات کو موقع پر پہنچ کر پُرہجوم احتجاج کو اس وعدے کے ساتھ منتشر کیا کہ اپر چترال کو بجلی دی جائیگی اور موقع پر امیرایوب موردیر،عید علی پرواک،عبدالجان،محمد علی شاہ اور مجھے لیکر چترال پہنچایا گیا اوروعدے کے مطابق بجلی کی ترسیل شروع ہوئی۔چونکہ تین مہینے چترال جگمگاتا رہا اور اپر چترال کو 8میگاواٹ بجلی دینے کی یقین دہانی کی گئی۔تین مہینے کے بعد بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ شروع ہوئی۔جس کے وجہ سے اپر چترال کے لوگوں کو اندھیروں میں دھکیلا گیا۔
ابھی میں خیبر پختونخواہ کی حکومت اور وفاقی حکومت سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں
1۔کہ اپر چترال کی بجلی 8میگاواٹ سے کم ہوکر6میگاواٹ تک رہ چکی ہے۔جبکہ 108میگاواٹ پورے چترال کی بجلی کی ضروریات پوری کرکے لواری سے نیچے عوام کے ضروریات پوری کرسکتا ہے۔اب ایسی کونسی فالٹ آچکی ہے؟اگر کوئی فالٹ آچکی ہے تو اربوں روپے کے نقصان کا زمہ دار کون ہے؟
2۔اگربجلی گھر کے لئے یہ جگہ موزوں نہیں تھا تو اس کمپنی اور متعلقہ اسٹاف سے پوچھ گھچ کرکے عدالت کے کٹہرے میں کیوں نہیں لایا جاتا۔جبکہ حکومت کے اربوں روپے اس پراجیکٹ پر خرچ ہوئے؟
3۔بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے چترال کے بچوں کی تعلیم پر بڑا اثر پڑا،بچوں کی پڑھائی،مریضوں کے ایکسریے،ای سی جی اوردوسرے ٹیسٹ وغیرہ کے ساتھ ساتھ دفاتر میں بھی کام متاثرہوئے۔
4۔کیا چترال میں صوبائی یا قومی اسمبلی کا کوئی ممبر موجود نہیں جو ان مسائل کو صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے اعوانوں میں پہنچاکر اسکا حل نکال سکیں۔
5۔بجلی کی ناروا بلوں اور ساتھ مہنگائی سے غریب عوام کی زندگی اجیرن بن چکا ہے،جسکا زمہ دار کون؟
6۔کیا ہم بحیثیت پُرامن عوام اس کو برداشت کرینگے یا عوام سڑکوں پر احتجاج کرکے چترال کے پُرامن ماحول کو پریشانی سے دوچار کریں۔زمہ دار کون؟
7۔کیا یہ عوام عدالت کا دروازہ نہیں کٹکٹائینگے؟میں حکومت سے جواب چاہتا ہوں۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



