دروش ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کی تعیناتی نہ ہوسکی، محکمہ صحت کی کارکردگی سوالیہ نشان

Print Friendly, PDF & Email

دروش (نما یندہ چترال میل) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گذشتہ چند مہینوں سے لیڈی ڈاکٹر کی خدمات میسر نہیں جسکی وجہ سے یہاں کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چند ہفتے قبل عوامی احتجاج پر محکمہ صحت کی طرف سے ایک لیڈی ڈاکٹر کا تبادلہ کرایا گیا مگر مذکورہ لیڈی ڈاکٹر چند ہی دنوں میں اپنا تبادلہ منسوخ کروا بیٹھی جسکے بعد معلوم ہوا ہے کہ ایک اور لیڈی ڈاکٹر کا دروش تبادلہ کیا جا چکا ہے مگر وہ بھی دروش ہسپتال میں ڈیوٹی پر ابھی تک نہیں آئیں، سننے میں آرہا کہ مذکورہ لیڈی ڈاکٹر بھی اپنا تبادلہ منسوخ کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ درایں اثناء دروش میں لیڈی ڈاکٹرکی عدم دستیابی کی وجہ سے عوامی تشویش میں اضافہ ہو رہاہے کیونکہ ایک لاکھ سے زیادہ آبادی والے اس حساس علاقے کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں اسوقت لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے۔ اس قبل اس ہسپتال مں تین لیڈی ڈاکٹرز تعینات تھیں جنہیں نا معلوم وجوہات کی بناء پر یہاں سے تبدیل کیا گیا مگر انکے متبادل ڈاکٹرز کا بندوبست نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے یہاں کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ یہاں یہ امر باعث تعجب ہے کہ محکمہ کی طرف سے ایک لیڈی ڈاکٹر کی تعیناتی ہوتی ہے مگر چند ہی دنوں کے اندر سیاسی اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے سرکاری اہلکار اپنا تبادلہ منسوخ کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور مذکورہ واقعہ نہ صرف محکمہ صحت کے لئے سوالیہ نشان ہے بلکہ صوبائی حکومت کے عوامی خدمات کے دعوؤں کی بھی مکمل نفی کرتی ہے۔ علاقے کے سماجی و سیاسی حلقوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر دروش ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹروں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے اور سیاسی بنیادوں پر اپنا تبادلہ منسوخ کرانے والے ڈاکٹرو ں کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔