پشاور(نمائندہ چترال میل)چترال سے جماعت اسلامی و متحدہ مجلس عمل کے نامزد امید وار برائے قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے جمعیت اتحاد العلما ء خیبر پختونخوا کے دفتر حدیقۃ العلوم المرکز الاسلامی پشاورسے جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ملا کنڈ ڈویژن بالخصوص چترال میں کٹ گاڑیوں کیخلاف کاروائی سے پہلے، حکومت اصل ذمہ داروں کو پکڑے کہ کٹ گاڑیاں کہاں بنیں؟ مارکیٹ میں کیسے پہنچیں؟ اور اس سب کچھ کے پیچھے اصل ہاتھ کس کا ہے جس پر ابھی تک ہاتھ نہیں ڈالا گیا؟ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے کٹ گاڑیوں کے خلاف کاروائی کا شوشہ چھوڑ رہی ہے جبکہ غریب اور مزدور طبقہ کے افراد نے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور حلال رزق کمانے کیلئے اپنی جمع پونجی اور زمینیں فروخت کر کے گاڑیاں خریدی ہیں اور اب ان کے خلاف کاروائی برائے سرکار ضبطگی کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں خاندانوں سے روزگار چھین لیا جائے اور ہزاروں خاندانوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا جائے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تما م کٹ گاڑیوں کی بلا تاخیر رجسٹریشن کرے ورنہ بصورت دیگر امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گا اور نوجوان طبقہ بے روزگار ہو کر غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ بنے گا جو اسلام اور پاکستان کیلئے نیک شگون ہر گز نہیں ہو سکتا۔
تازہ ترین
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔الھم لبیک
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال رفعت اللہ خان کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ کا انعقاد
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔محمد جاوید حیات۔۔چترال ماڈل کالج ایک معتبر تعلیمی اداره
- ہومچترال شہر میں سیزن کی پہلی برفباری، لواری ٹنل ایریا میں دس انچ برف، انتظامیہ کی احتیاطی ہدایات
- ہومدادبیداد۔ جنگ کے ترانے۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
- ہوملوئر چترال پولیس کا منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- مضامیندھڑکنوں کی زباں”سریر شفگتہ اور کالی وردی “۔۔محمد جاوید حیات
- ہومصوبہ بھر میں غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
- ہومموڑدہ آیون کے پاس دریا کا رخ تھوڑیاندہ اور درخناندہ کو براہ راست ہٹ کر رہا ہے، چینلائزیشن کرکے اس کی روانی کو سنٹر میں ڈالا جائے ، ورنہ شدید تباہی کے خطرے سے دوچار ہونگے۔ متاثرین ایون ویلی





