صدابصحرا۔۔ انتخابات سے فرار۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

Print Friendly, PDF & Email

یہ اکتوبر 1977ء کا ایکشن ری پلے ہے میرے سامنے 26اکتوبر 1977 کا اخبار ہے جس میں الیکشن غیر معینہ مدت تک ملتوی ہونے کے حوالے سے ابراہیم جلیس کا کا لم ہے کالم میں لکھا ہے کہ اکتوبر 1977کے انتخابات کو ملتوی کرنے کے لئے چار سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا مطالبے میں کہا گیا کہ پہلے احتساب پھر انتخاب اس وجہ سے احتساب کو مقدم جان کر انتخابات ملتوی کر دیئے گئے ابراہیم جلیس کی تحریر پڑھنے کے بعد میں نے 22اکتوبر 2017کا انگریز ی اخبار اٹھایا صفحہ اول پر ایک کا لمی خبر ہے مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کے 2018ء میں انتخابات ہوئے تو خون خرابا ہوگا امیر جماعت پاکستان سنیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا ہے جب تک احتساب نہ ہو تب تک انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا الیکشن کمیشن نے رائے دی ہے کہ نئے حلقہ بندیوں کیلئے کم از کم 2سال کی مدت چاہئے یہ بارش کے پہلے دو چار قطرے ہیں بقول شاعر؎”اور کھول جائینگے دو چار ملاقاتوں کے بعد“اب بات آگے بڑھے گی اب مزید سیاسی جماعتیں سامنے آئینگی اور انتخابات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کرینگی کیونکہ انتخابات کی صورت میں انکی ”ناکامی“کے امکانات بہت روشن نظر آتے ہیں اور ناکامی سے بچنے کا مختصر ترین راستہ یہ ہے کہ انتخابات ہی نہ ہوں نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ایک خبر یہ بھی ہے کہ الیکشن کمیشن نے 300سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کر دیا ہے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 2لاکھ روپیہ رجسٹریشن فیس جمع کرو اور 2ہزار ارکان کی فہرست شناختی کارڈ نمبر،عمر اور دیگر تفصیلات کے سات مہیا کرو یہ 300 سیاسی جماعتیں وہ ہیں جو تانگہ پارٹیاں کہلاتی ہیں سیا سی جماعت تو ہے مگر اس کے ممبروں کو جمع کیا جائے توا یک تانگے کی سواریاں ہونگی 2013 ء کے انتخابا ت کے بعد اخبارات میں ملک کے سیا سی ڈھانچے اور پارلیمانی جمہوریت کے حوالے سے تین تجاویز اخبارات میں گردش کرنے لگیں مگر بہت جلد ان تجوایز کوردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا پہلی تجویز یہ تھی کہ آئینی ترامیم کے ذریعے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدل دیا جائے جو ہمارے ملکی حالات سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے دوسری تجویز یہ تھی کہ ایسا ممکن نہ ہو تو آئینی ترمیم کے ذریعے متنا سب نمائیندگی کا طریقہ رائج کیا جائے تیسری تجویز یہ تھی متناسب نمائیندگی ممکن نہ ہو تو انتخابات میں امیدواروں اور پارٹیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد صرف تین ہونی چاہیے تاکہ منتخب ہونے والا امیدوار لازمی طور پر اکثریت کا ووٹ لیکر آئے مگر انتخابی اصلاحات پر کام نہیں ہوا حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کی گردنوں میں ”سریا“بہت مظبوط طریقے سے فٹFit) (ہے یہ سریا نکلنے کا نام نہیں لے رہا نئی سوچ،نئی فکر اور نئی اوڑان ممکن ہی نہیں اُپر والے چند خاندانوں کا مفاد حالات موجودہ (Status que) کے ساتھ وابسطہ ہے اور یہ ایسی صورت حال ہے جو کبھی ہمیں راس نہیں آتی ہمارے ملک کو ہمارے قوم کوراس نہیں آتی موجودہ حا لت یہ ہے کہ وزیر اعظم وزرائے اعلیٰ،انکی کابینہ اخراجات قومی خزانے پر اضافی بوجھ کی حیثیت رکھتے ہیں ایوان صدر اور گورنر ہاؤس پر روزانہ 12لاکھ روپے جب وزیر اعظم ہاؤ س اور وزیر اعلیٰ سکرٹریٹ پر روزانہ 20 لاکھ روپے قومی خزانے سے خرچ کئے جاتے ہیں صدارتی نظا م میں نصف سے زیادہ کی بچت ہوگی سیاسی عدم استحکام ختم ہوگا افراتفر ی اور طوائف الملو کی کاخاتمہ ہو گا ملک اور قوم کا مستقبل محفوظ ہو گا متناسب نمائندگی میں اُمیدوار انتخاب نہیں لڑتا پارٹی انتخاب لٹرتی ہے پارٹی کے نشان کو ووٹ دیا جاتا ہے ووٹوں کے تناسب سے پارٹی کو نمائندگی ملتی ہے اور اس حساب سے پارٹی کے نامزد اُمیدوار منتخب قرار دیئے جاتے ہیں قابل لوگ اسمبلیوں میں آتے ہیں غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو بھی موقع ملتا ہے جاگیرداروں،سرمایہ داروں،اور طاقت ور طبقوں کی اجارہ داری نہیں ہوتی پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے اگریہ ممکن نہ ہو تو کم از کم جمہوری اصولوں کے مطابق اکثریت کے نمائندوں کو اسمبلی میں آنا چاہیے 2013ء کے انتخابات کا ریکاڈ نکال کر دیکھا جائے تو 85فیصد حلقوں میں کامیاب ہونے والے اُمیدواروں کے ووٹ 49فیصد سے کم تھے گو یا 51فیصد نے ان کو مسترد کردیا ان میں 70فیصد حلقے ایسے بھی ہیں جہاں کامیاب ہونے والے اُمیدوار کو کاسٹ شدہ ووٹوں کا 25فیصد بھی نہیں ملا مثلاََ این اے 32میں ایک لاکھ 30ہزار ووٹ کا سٹ ہوئے کامیاب اُمیدوار وں کو 29ہزار ووٹ ملے پی ایف 89میں ووٹوں کی کل تعداد 75ہزار تھی کامیاب اُمیدوار نے 12ہزار ووٹ لئے پی ایف 90میں کل ووٹ55ہزار تھے کامیاب اُمیدوار کو ان میں سے 10ہزار ووٹ ملے اب23فیصد یا 18فیصد ووٹ لینے والے حلقہء انتخاب کی نمائندگی کررہے ہیں وجہ یہ ہے کہ 10اُمیدوار میدان میں تھے ان میں سے جس نے زیادہ لیا وہ اندھوں میں ”کانا“راجہ بن گیا اُمیدواروں کی تعدادصرف دویا زیادہ سے زیادہ تین ہو تی تو لازماََ51فیصد سے زیادہ ووٹ لینے والا کامیاب ہو جاتا اور وہ عوام کا حقیقی نمائندہ ہوتا اکثریت کا اعتماد اس کو حاصل ہوتا اب بھی انتخابا ت سے فرار مناسب نہیں ہے اسمبلی موجودہے آئین میں ترمیم کے ذریعے انتخابی اصلاحات کا بل پاس کر کے عوام کے حقیقی نمائیندوں کی کامیابی کے لئے راہ ہموار کیا جاسکتا ہے۔