جماعت اسلامی نے لاہور میں ایک بڑی کنونشن کاانعقاد کیا۔حاضرین متاثر ہیں گواہی دیتے ہیں کہ بڑأ کامیاب کنونشن تھا۔ملک بھر سے جماعت کے کارکن اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ حاضر تھے۔۔سب کچھ انقلابی تھا۔۔۔موضوعات سے لے کر مقررین تک اور ادب سے لے کر شاعری تک۔۔۔کہتے ہیں کہ ایک عزم کا اظہار تھا بیانیہ تھا “بدلو نظام “۔۔۔اس کے بعد لازم ہے کہ اعترازات آتے۔۔کہ نظام کون بدلے۔۔۔کیسے بدلے۔۔لازم ہے کہ یہ ناممکن لگتا ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔۔ایک شفاف نظام،ایک واضح قانون پھر اس کی حکمرانی کی بات ہے۔۔پھر مہاکام ان افراد کی تربیت ہے جن کو کارکن کہا جاتا ہے جو کسی پارٹی کے نظریے،بیانیہ اور اصول کو فالو کریں۔۔مثلا ایک پارٹی کا نام تحریک انصاف ہے۔۔اس کی کامیابی اور مقبولیت اس وقت ممکن ہے جب اس کا ہر کارکن انصاف کا چمپین ہو۔۔وہ اپنی زات میں منصف ہو وہ قانون کا رکھوالا ہو اگر ایسا نہیں تو پارٹی مقبول نہیں ہوسکتی اسی طرح اگر جماعت اسلامی نظأم بدلنے کا دعوی کرے تو اپنے ہر کارکن کو اس کے لیے تیار کرے۔جماعت کا ہر فرد معاشرے کے لیے مثال ہو۔۔فرض کریں جماعت میں صرف دس افسر ہیں یہ اتنے اصول پرست،صاف و شفاف ہوں کہ لوگ ان کی مثالیں دیں کسی سکول میں کوئی استاذجماعت سے تعلق رکھتا ہو تو اتنی جانفشانی سے بچوں کے ساتھ محنت کرے کہ دوسرے اساتذہ کے لیے مثال بن جاۓ۔ اس کے شاگرد اسی کو رہنما سمجھیں گے۔۔کوئی ٹھیکدار جماعت کا کارکن ہو وہ اپنا کام اتنی ایمانداری سے کرے کہ مثال بن جاۓ۔۔اسی طرح زندگی کے ہر طبقے کے افراد کی مثال ایسی ہو۔۔صحابہ کرام رض اس لیے فرماتے تھے کہ اگر مسلمان ہونا ہے ہمیں دیکھو ہماری طرح ہونا۔نظام افراد سیبدلتاہے۔افراد کی تعداد کی نہیں معیار کی ضرورت ہے معیار فرد بناتا ہے۔بس ایک فرد۔۔اس کا تعارف ہوتا ہے۔۔۔تعارف واٸرل ہوتا ہے لوگ اس کو فالو کرتے ہیں۔۔نظام بدلنے کی بات مذاق بھی نہیں اس کے لییقربانی چاہیے ہوتی ہے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو نظام حیات نہیں سمجھااس لیے اکثر ذہن یہ کہتے تھکتے نہیں کہ مذہب اور سیاست الگ الگ چیزیں ہیں یہی وہ بنیادی خرابی ہے جہان سے نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے اللہ کے دیے ہوۓ نظام کے مقابلے میں انسان کابنایا ہوا نظام ناقص ہی ہوسکتا ہے۔جاعت اسلامی کا نعرہ اگر عمل کی شروعات ہو تو نظام کا بدلنا یقینی ہے۔اس کا کوئی فرد،جس شعبے میں جاۓ وہاں پراس جماعت کا نمائندہ تصور ہو لوگ اس کے کردار سے اتنے مطمین ہوں کہ اس کو مسیحاسمجھیں۔۔انصاف اس کی پہچان ہوں۔کھراپن،پاکیزگی،امانت داری،سچائی اور قانون کی پاسداری اس کی شناخت ہو۔۔لالچ،تمع،دولت اور شہرت کی ہوس،جاٸیداد بنانے کا شوق،جائز ناجائز میں تمیز نہ کرنا،بدعنوانی،اقربا پروری،رشوت ان سب برایٸوں سے پاک ہو تب جاکے ایک فرد ہی نظام بدل سکتا ہے۔جو لوگ جماعت اسلامی کو لیبل کے طور پراستعمال کرتے ہیں۔زاتی مفاد کو اڑے لاتے ہیں دنیاوی سیاست اور اقتدار پر خالصاسلامی نظام کو قربان کرتے ہیں وہ لوگ نظام بدلنے کی بات کریں تو یہ بس نعرہ ہی رہے گا۔اگر خود احتسابی سیاپنے أپ کو گزارے اللہ ان کی مدد کرے گا۔۔قران نے کہا۔۔
تم اپنے آپ اپنینفسوں کو بھول جاتیہو حالاںکہ تم کتاب (قران) پڑھتے ہو ۔۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



