قرآن کی فریاد!
دنیا کی سب سے جامع ترین معتبر اور تجلیات سے پھر پور کتاب قرآن عظیم ہے۔یہ وہ کتاب ہے جو بے نور دلوں کو پرنوراور زنگ لگے دلوں کو پاک وصاف کردیتی ہے۔ اک نسخہء کیمیاء جوکہ ساری دنیاکے انسانوں کی ہدایت و کامر انی کے لئے نازل کیاگیا ہے۔ اس کا مخاطب جن وانس،دنیا کے مرد وخواتین سبھی کے لئے یکساں باعث ہدایت ہے صحیح اور حقیقی کامیابی کی ضامن اور فوز و فلاح کے لئے حتمی اورآخری شے ہے۔ ساراقرآن عربی زبان کی فصاحت وبلاغت کا شاہکارہے جو کہ مکمل عربی زبان میں اتار اگیا ہے۔ عربی زبان کے جامع ترین الفاظ کامجموعہ اور معجزات سے بھرا کلام الٰہی کا مظہر قرآن مجید، فرقان حمیدمیں عجز کرنے کی عجیب صلاحیت پائی جاتی ہے جسے اعجاز القرآن کا نام دیا جاتا ہے۔قرآن پاک میں غلطی اور نقص کی کوئی کنجائش موجود نہیں ہے۔ قرآن واضح الفاظ میں تمام انسانوں کو چیلینج کرتاہے کہ اگردنیا کے سارے انسان ایک دوسرے کے مددگاربن جائیں اہل علم،اہل دانش اور اہل زبان مل بیٹھیں اورقرآن جیسی کتاب بنا سکتے ہیں تو بنا کر دیکھائیں؟ یا کم از کم ایک سورۃ ہی بنا لیں یا ایک آیت ہی سہی۔ مگر کوئی بھی قرآن یا اس کے ہم مثل نہیں بنا سکتا یہ بات نا ممکن ہے کیونکہ قرآن کلام الہٰی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو اسمانوں اور زمین دونوں سے وزنی ہے اور ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ دنیا کے تمام علوم مثلا علم نفسیات،علم فلکیات،علم حیاتیات،علم طبیعات، سائنس وٹیکنالوجی سبھی اس کتاب کے اندر سموئی ہوئی ہیں یہ محض سائنس کی کوئی کتاب نہیں بلکہ کتاب ہدایت ہے۔ گر کو ئی طالب علم باقی علوم کو اک طرف رکھ کر صرف اسی کتاب کو مرکز علم ودانش وحکمت کے طور پر اپنائے یا سامنے رکھے اور اس میں غور وفکر کرے تو یہ کتاب عظیم اس کی علم تشنگی کے لئے کافی وشافی ہے۔ اس کتاب روشن کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک آیت حکمت و دانش سے بھرا ہوا ہے۔اس کے ایک ایک آیت کے اندر ایک الگ ہی دنیا سموئی ہو ئی ہے۔ انسانی دماغ کی پیچیدگیوں اور وسوسوں کا حل اسی کتاب میں پنہاں ہے۔ اس کتاب کے اندر اللہ رب العزت نے جو ارشاد فرمایا ہے وہ صرف آخرہے پتھر پہ لکیر ہے۔ کوئی بھی اس میں تحریف یاردوبدل نہیں کر سکتاہے۔ اس کی حفاظت کا وعدہ خو ذات باری تعالیٰ نے قیامت تک لے لیا ہے۔یہ انسانوں کی فلاح و بہبود کی خا طر اتارا گیا ہے۔ اس کا مضمون انسانوں کو اخری نجات اور رضاء الٰہی کی ترغیب اور گناہوں و نافرمانی سے اجتناب کی ترغیب دیتاہے۔ یہ زندگی گزانے کا ایک مکمل ضابطہ حیات ہے زندگی کے تمام پہلوچاہے وہ معاشی ہو،معاشرتی، سماجی، انفرادی اور اجتماعی پہلو ہی کیوں نہ ہویہ سبھی پہلووں کا احاطہ کرتی ہے۔ مگر ہم نے اسے کتاب ہدایت کے بجائے کتاب تعویز و برکت سمجھ لیا ہے۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ یہ کتاب برکت و شفاء ضرور ہے مگر صرف یہی کہنا ظلم عظیم ہے بلکہ یہ کتا ب باعث برکت بھی ہے شفابھی ہے اور خاص کر کتاب رشدو ہدایت ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارا روایہ اور سلوک اس عظیم کتاب کے سا تھ نہایت غلط اورغیر منصفانہ ہے۔ اور ہم نے محض برکت اور تعویز کے لئے اس کتاب کو ریشمی کپڑوں میں لپیٹ کر طاقوں میں سجھا رکھاہے۔۔
قرآن بنی نوع انسان سے کیا کہہ رہاہے کیا قرآن پاک کی فریاد ہمیں سنائی دے رہاہے؟ قرآن پاک کہہ رہاہے کہ میں سمجھنے کے لیے نہایت ہی آسان ہوں۔مجھے پڑھوں مجھ میں غور و فکر کرو مجھے سمجھنے کی کوشش کرو۔ میں کتاب ہدایت ہوں میں دلوں کا سکون ہو۔ میں اُخری نجات اور رضاالٰہی کا صحیح اور مستند ذریعہ ہوں۔کیوں مجھے چھوڑ کر اوروں کے پاس جاتے ہوں۔ عربی نہیں آتی کوئی بات نہیں کم از کم قرآن ترجمے کے ساتھ تو پڑھوں۔کیوں شرک وبدعات کی زنجیروں میں خود کو جھکڑ دیا ہے خود کو ان زنجیروں سے آزاد کرو اور وحدانیت کی جانب آؤ!سلامتی کی جانب آؤ! ََ
ہم بحیثیت مسلمان قرآن پاک کا صحیح حق ادا نہیں کرپارہے ہیں۔ بروز قیامت قرآن پاک ہمارے خلاف آواز اٹھائے گا۔ آج کل کے دور میں بعض خود ساختہ مولوی حضرات اور روشن خیال جدید اسکالرز ذاتی اغراض و مقاصد اور نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے قرآن پاک کی من پسند تشریح و تفسیر کرتے ہیں جو کہ علمی خیانت ہے۔ اس عمل کے پیچھے شیطانی فعل کارفرما ہے جو کہ غلط اورصریح گمراہی کے سوا کچھ بھی نہیں قرآن کی صحیح تشریح و تفسیر احادیث رسول ﷺکی صورت ہمارے پاس موجود ہے۔
یہ کتاب حاکمیت الہٰی،آسمان و زمین میں ایک ذات کی حکمرانی وحدانیت کا درس دیتی ہے اور شرک وبدعت کی نفی کرتی ہے۔ جب تک ہم اس کتاب ِعظیم پر عمل نہیں کریں گے اور اس کتاب کو عام نہیں کریں گے۔ اس معانی و مطالب کو ساری دنیا تک نہیں پہنچائیں گے تب تک ہم نجات نہیں پا سکتے ہیں۔۔۔۔۔
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویز بنایاجاتا ہوں، دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں
جس طرح سے طوطا مینا کو، کچھ بول سیکھائے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں، اس طرح سیکھایا جاتا ہوں
کس بزم میں مجھ کو بار نہیں،کس عرس میں میری دھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں پروموشن بیجز لگانے کی تقریب
- ہومچترال فٹ بال لیگ کا اختتام، جنگ بازار ایف سی نے پاکستان نیوی کو پنالٹیز پر شکست دے کر چیمپئن کا تاج اپنے سر سجا لیا
- مضامیندھڑکنوں کی زبان: ۔۔۔نظام ادھوری ہے۔۔۔تحریر: محمد جاوید حیات
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد
- ہومڈی پی او چترال اپر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ، منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات
- مضامیندادبیداد۔ مسائل کا حل۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پولیس لویر چترال کی طرف سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال تحصیل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- ہومنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ کی حوصلہ افزائی، ڈی پی او چترال اپر کی جانب سے کمنڈیشن سرٹیفکیٹ اور کیش ریوارڈ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔قناعت سب سے بڑی نعمت۔۔۔محمد جاوید حیات










