دھڑکنوں کی زبان: ۔۔۔نظام ادھوری ہے۔۔۔تحریر: محمد جاوید حیات

Print Friendly, PDF & Email

 

​یہ کائناتِ رنگ و بو خالقِ حقیقی کی تخلیق کا شاہکار ہے اور اس کا ذرّہ ذرّہ ایک مکمل نظم کی صورت میں جلوہ گر ہے۔ وقت کی ہر بتیت گھڑی، روشنی کی ہر کرن اور صحرا کی ریت کا ہر ذرّہ ایک نظم ہے۔ کوئل کی کوکو، ہدہد کی حق حق، پرندوں کی چہچہاہٹ، سمندر کی سرکش لہریں، پہاڑوں کی شاندار بلندیاں اور وسعتِ صحرا—سب ایک عالمگیر نظم کے مختلف مصرعے ہیں۔
​آوازوں کا ترنم، الفاظ کی لے اور جملوں کی خوبصورت ساخت بھی نظم ہی ہے۔ رشتوں کا تقدس دیکھیے تو ماں کی ممتا، باپ کی عظمت، بھائی کا مان اور بہن کی بے لوث وفا بھی ایک مقدس نظم کا روپ ہیں۔ دوسری جانب سپاہی کی گولی، پولیس کا ڈنڈا اور استاد کی تربیتی ڈانٹ بھی اسی نظم کے مختلف رنگ ہیں۔ آنکھوں سے چھلکتے آنسو، ہونٹوں پر بکھری مسکراہٹیں، دلکش سراپا، غم کے سیاہ بادل اور سکون کے لمحات—یہ سب منظومات کا ہی مجموعہ ہیں۔
​حتیٰ کہ ظالم کا جفا جویانہ رویہ، عادل کا عدل اور مظلوم کی عرش ہلاتی آہ بھی اس کائیناتی نظم کا حصّہ ہیں۔ ان تمام مظاہر کا مجموعہ ہی یہ کائنات ہے، مگر ایک اداس حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام نظمیں ادھوری ہیں۔ اس فانی دنیا میں کسی شے کو دوام اور ثبات حاصل نہیں۔ ظلم بالآخر مٹتا ہے اور ظالم اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ نہ حسن کو بقا ہے اور نہ بدصورتی کو ثبات۔
​وقت کا پہیہ گھومتا ہے اور مناظر بدل جاتے ہیں۔ ہر عروج کے مقدر میں زوال ہے اور ہر وجود کی انتہا فنا۔ خلیل جبران نے اسی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا:
​”شکستہ قبروں سے پوچھو کہ کتنے ہی حسینوں کا حسن خاک میں مل چکا ہے۔”
​دراصل زندگی کا اصلی حسن اور اس کا توازن اس کے ادھورے پن ہی میں پنہاں ہے۔ دنیا کی رعنائی اس کے فانی ہونے سے ہے؛ عروج کی پہچان زوال سے اور زندگی کی معنویت موت سے ہے—اور بے وفائی ہی اصل میں وفا کی قدر سکھاتی ہے۔ اگر آخرت کی ابدی زندگی کا تصور نہ ہوتا تو خوفناک مظالم کا حساب اور نیکی کی جزا کا سامان کہاں ہوتا؟
​انسان کی آرزوئیں اور خواہشات کبھی مکمل نہیں ہوتیں۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فخرِ موجودات حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا:
​”تمام لذتوں کو منہدم کر دینے والی موت کو پیہم یاد کرو۔”
​تاریخ شاہد ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے جابر شہنشاہ اور فاتحین اپنے کرو فر کے باوجود خواہشات کی تنگی دامن اور منزل کی نا رسائی کے ساتھ خاک کا پیوند بن گئے۔ ان کی زندگی کی داستان بھی ادھوری ہی رہی:
​مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے
زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے
​یہ دنیا نظم کے مکمل ہونے کی جگہ ہی نہیں ہے۔ یونان، روم اور دیگر عظیم الشان سلطنتیں جن کے عروج کی داستانیں بکھری پڑی تھیں، سب مٹ گئیں۔ جب تاریخ کا دھارا بڑی بڑی تہذیبوں کو بہا لے گیا تو ہماری اور آپ کی نظم کیسے مکمل ہو سکتی ہے؟
​لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم عمل سے ہاتھ اٹھا لیں۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے حصے کا خوبصورت مصرع رقم کرتے جائیں، باقی آنے والی نسلیں لکھتی رہیں گی۔ اصل راز یہ ہے کہ انسان دوسروں کے لیے جینا سیکھے۔ اگر ہم اپنے کردار کا آغاز انصاف، خدمت، شرافت اور پاکیزہ اخلاق سے کریں گے تو زندگی خود بخود ایک آفاقی نظم کا روپ دھار لے گی۔ ہم تو اس جہان سے رخصت ہو جائیں گے، مگر ہمارے اچھے اعمال کی نظم کی خوشبو اور گونج سے زمان و مکان معطر رہیں گے۔ اگر یہ نظم ادھوری بھی رہ جائے تو تسلی رہے گی کہ ہم نے ایک با معنی شعر تو رقم کیا—اور یہی ادھورا پن اس نظم کا اصل حسن ہے۔