دوستی: ایک مخلصانہ رشتہ یا محض ضرورت؟۔۔بشیر حسین آزاد

Print Friendly, PDF & Email

۔۔۔۔
​دوستی انسانی زندگی کا وہ لازمی جز ہے جس کے بغیر سماجی زندگی ادھوری ہے۔ انسان فطرتاً تنہائی پسند نہیں ہے، اسے ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جس سے وہ اپنے دل کا حال کہہ سکے، خوشی میں مسکرا سکے اور غم میں کندھا تلاش کر سکے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اب “دوست” اور “مطلبی شناسا” کے درمیان فرق مٹ چکا ہے۔
​​مخلص دوست وہ ہوتا ہے جو آپ کی شخصیت، آپ کے اخلاق اور آپ کی روح سے محبت کرتا ہے۔ اس کے برعکس، مطلبی دوست آپ کے عہدے، آپ کی گاڑی یا آپ کے بینک بیلنس سے دوستی کرتا ہے۔
​مخلص دوست تنگی میں کام آتا ہے اور نصیحت کرتے وقت آئینہ دکھاتا ہے۔
​مطلبی دوست: صرف بہار کے موسم کا ساتھی ہوتا ہے، جیسے ہی خزاں (مشکل وقت) آتی ہے، وہ اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔
​قرآن کریم نے دوستی کے حوالے سے بہت واضح رہنمائی فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ قیامت کے دن صرف وہ دوستیاں کام آئیں گی جو تقویٰ اور نیکی کی بنیاد پر ہوں گی۔
​1. قیامت کے دن کی دشمنی
​قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
​”اس دن (گہرے) دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے بجز پرہیزگاروں کے۔” (سورۃ الزخرف: 67)
​یعنی وہ تمام دوستیاں جو دنیاوی مفادات، برائی یا گناہ پر مبنی تھیں، آخرت میں ایک دوسرے کے لیے وبال بن جائیں گی۔ صرف وہ دوست ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے جنہوں نے اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کی۔
​2. بری صحبت کا پچھتاوا
​برے دوستوں کے انتخاب پر انسان قیامت کے دن افسوس کرے گا۔ قرآن فرماتا ہے:
​”ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔” (سورۃ الفرقان: 28)
​سنتِ نبوی ﷺ اور دوستی کی اہمیت
​نبی کریم ﷺ نے دوستی کے معیار کو دین داری اور اخلاق سے جوڑا ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی سے ہمیں “خلوص” کا سب سے بڑا نمونہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی شکل میں ملتا ہے، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں آپ ﷺ کا ساتھ دیا۔
​1. انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے
​رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
​”آدمی اپنے دوست کے دین (طریقہ زندگی) پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔” (جامع ترمذی)
​2. اچھے اور برے دوست کی مثال
​آپ ﷺ نے ایک بہترین مثال کے ذریعے مخلص اور مطلبی (یا برے) دوست کا فرق سمجھایا:
​”اچھے اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے اور لوہار کی بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے۔ کستوری والا یا تو تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خرید لو گے (یعنی فائدہ ہی فائدہ ہے)۔ جبکہ لوہار کی بھٹی یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گی یا تمہیں وہاں سے ناگوار بدبو آئے گی۔” (صحیح بخاری)
​بہترین دوست کون ہیں؟
​رشتوں میں سب سے زیادہ مخلص والدین ہوتے ہیں جن کی محبت کسی غرض کی محتاج نہیں ہوتی۔ اس کے بعد وہ شریکِ حیات اور بچے ہیں جو آپ کے سکون کا باعث بنتے ہیں۔
​اگر آپ کو کوئی ایسا دوست مل جائے جو:
​آپ کی غیر موجودگی میں آپ کی عزت کی حفاظت کرے۔
​آپ کو غلط کام سے روکے اور نیکی کی تلقین کرے۔
​آپ کے عیبوں پر پردہ ڈالے۔
تو سمجھ لیں کہ آپ اس دور کے خوش نصیب ترین انسان ہیں۔
​دوستی کی بنیاد “لِلّٰہ” (اللہ کے لیے) ہونی چاہیے نہ کہ “لِلدنیا” (دنیا کے لیے)۔ مخلص دوست وہ نہیں جو آپ کے ساتھ صرف ہنستا ہو، بلکہ وہ ہے جو آپ کو کبھی اکیلا نہ چھوڑے، چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔
بزرگانِ دین اور دانشوروں نے دوستی کے فلسفے کو بہت خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے:
​حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے:
“تمہارا اصل بھائی (دوست) وہ ہے جو تمہارے ساتھ ہو، جو تمہارے نقصان کو اپنا نقصان سمجھے تاکہ تمہیں فائدہ پہنچا سکے، اور جو زمانے کی سختیوں میں تمہیں تنہا نہ چھوڑے۔”
​شیخ سعدی شیرازیؒ فرماتے ہیں:
“دوست وہ نہیں جو نعمت کے وقت ‘بھائی بھائی’ کہے، دوست وہ ہے جو پریشانی اور بدحالی میں اپنے دوست کا ہاتھ تھام لے۔”
​ایک عربی مقولہ ہے:
“کثیر دوستوں سے دھوکہ نہ کھاؤ، کیونکہ جب بادل چھٹ جاتے ہیں تو صرف وہی ستارے باقی رہتے ہیں جو اصل میں روشن ہوں۔”
اللہ پاک ہمیں مطلبی لوگوں کے شر سے بچائے اور ایسے ساتھی عطا فرمائے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بنیں۔