دھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات۔۔عقیدت کا سفر

Print Friendly, PDF & Email

 

عقیدت کا سفر بیس دن کا تھا مگر اگلے پچھلے دنوں کو ملا کر تقریبا تئس دن بن گئے..پاسپورٹ بنانے سے لے کر جہاز میں سوار ہونے..پھر جہاز سے اتر کر جائے سکونت پہنچنے تک کم از کم دس دن لگے..عقیدت کا سفر قیمتی لمحات کا ایک خزانہ تھا.ہم عمروں کو سالوں، مہینوں، دنوں اور پہروں میں تقسیم کرتے ہیں لیکن اس سفر میں بیتے لمحے خود ایک عمرتھے.عقیدت کے سفر میں جو جس انداز سے ساتھ رہا اس کا ایسا مرتبہ دل میں بنتا رہا پاسپورٹ بناتے ہوئیڈائریکٹر کی شرافت اور مدد، ویزہ لگاتے ہوئے منیجر شندور ٹرئول ایجنسی کے نقیب کی کوشش، سفر کی تیاری میں بچوں کی مدد اور انتظامات، حجاز مقدس گئے ہوئے ساتھیوں خاص کر افسر غازی بھائی کا تجربہ اور رہنمائی سب قابل تعریف تھے.چترال کے دور افتادہ گاؤں سے صبح سات بجے ٹھٹھرتی سردی میں گھر سے نکلتے ہوئے رشتوں داروں کو دعا دینے کی گزارش کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنا، لمبے سفر کی صعوبتوں کا خوف عقیدت کی تشنہ لبی حاضری کا جنون یہ سب ذاد راہ تھے.چار دن پہلے لاواری کی دہشت کی وجہ سے پشاور پہنچنا رشتہ داروں کا احترام اور چند کی بے رخیاں..بیگم کی ڈانٹ اتنے دن پہلے کیوں آئے..یہ سب ناٹک تھا یا جنون کی بوقلمونیاں..مسافر کئی روز پہلے سے محو سفر تھا.سفر کی منزل کسی کو نہیں بتارہا تھا یا تعلی ہوجائے یا مسافر کی حیثیت گھٹ جائے سفر عقیدت کا تھا اس میں ہر پل عقیدت کے مقام تھے جب بچے مسافر کو ائر پورٹ پہ رخصت کر رہے تھے تو مسافر کو عقیدت کا یہ سفر تب بھی خواب لگ رہا تھا ماں بیٹوں کو گلے لگا کر رو رہی تھی مسافر سراپا عقیدت کھڑا تھا. مسافر کو پتہ تھا کہ عقیدت کا سفر قربانیاں مانگتا ہے.انس رض والدین کو ٹھکراتا ہے.مکہ کی امیر ترین خاتون خود سنگلاخ چٹانوں سے ہوتی ہوئی اپنے شوہر نامدار کو دشوار ترین غار کھانا پہنچاتی ہے..ایک ہاتھ میں سورچ دوسرے ہاتھ میں چاند قبول نہیں کیا جاتا.بازو کٹ کے لٹک جائے تو عالم تھوڑی اور گلے کے سہارے بلند کیا جاتا ہے.میدان جنگ میں کھجور کھاتے ہوئے کھجور پھینکے جاتے ہیں کیونکہ وقت کھجور کھانے میں ضائع ہورہا ہے.ماں کی ہدایت کے لئے دعا کرانے کے بعد گھر کی طرف دوڑا جاتا ہے کہ میں پہلے پہنچ جاؤں کہ رسول مہربان ص کی دعا پہلی پہنچ جائے..یہ عقیدت کا سفر ہے یہاں جب زخمی حالت میں دشمن کے پیچھے چلنے کا حکم ہوتا ہے تو اہ کراہ نعرہ تکبیر میں بدل جاتی ہیں.عقیدت کے سفر میں جس جس نے جیسا جیسا سلوک کیا وہ یادوں کے سکرین پہ سبط ہوگیا..عبید اللہ بونی نے بایو میٹرک میں مدد کی.بشیر حسین ازاد نے ریال اور سامان سفر کا بندوبست کیا.مکے میں وزیر گل جو چچا زاد ہیں روز ملتا رہا…کھانا کھلانے سے لے کر زیارت کرانے تک ساتھ رہا ان کا خلوص ان کے لئے دعا بن گئی.طاہر بھائی کو خدمت کرنے کا بڑا شوق ہے.ہم وطنوں کی خدمت اپنا فرض سمجھتے ہیں ہر شام خود چائے بنا کے لاتے پلاتے ڈھارس بندھاتے اور آخری شام ان سامان تک باندھ کر رخصت ہوئے.عبد منان ریچوی ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں تپاک سے مل کر ظہرانے کا بندوبست کیا ان سے مل کر دل کو سکون ملا کہ علاقے کا ہیرا ہے.مدینے کے حکیم بھائی حافظ شاکر اللہ خصوصی دعاؤں کے مستحق ٹہھرے.اپنا بھتیجا محمد حافظ اللہ،داماد بیٹے ریاض اور امتیاز اپنی خصوصی اور بے لوث محبت کے اظہار میں آگے رہے..عقیدت کے سفر میں پروفیسر فیاض،ماں جی اور بہن جی ساتھ تھیں ان کی محبتوں نے سفر کو یادگار بنا دیا.ارض حجاز کا زرہ زرہ دل میں اتر رہا تھا.حدود حرم اور حدود مسجد نبوی میں ننگے پیر رہا کبھی بیگم ننگے پاؤں چلنے کا پوچھتیں تو میں خاموش رہتا.ان تپتی صحراؤں کی خاک سرما تھی آنکھیں چندھیا جاتیں مگر روح سیراب ہوجاتی.میدان بدر کو اکیلا نکلا.سردار دو جہان ص اور ان کے صحابہ رض کے پاؤں کی دھول لگتا ہے اب بھی باقی ہے وہی اونٹوں گھوڑوں کا کارواں وہی جمال مصطفوی وہی پاکیزہ روحوں کی جھرمٹ.یہ بے آب و گیاہ سرزمین رشک برین ہے.حسرت ہوئی کہ ان پہاڑیوں نے وہ منظر دیکھے ہیں جب دونوں جہانوں کا سردار ص اپنے اصحاب رض سمیت سفر پہ ہونگے وہ فضائیں کتنی معطر ہوتی ہوں گی وہ بادل وہ بارشیں، وہ ہوائیں وہ اندھیاں، وہ بہاریں وہ خزان، وہ چمکتا سورچ وہ چٹکی چاندنی،وہ پرندے چرندے درندے وہ بڑے خوش قسمت ہوئے ہوں گے یہ نیلا گگن اور بے آب و گیاہ صحرائیں اس کے گواہ ہیں کہ دنیا میں فخر موجودات ص کی آمد تھی اور وصال تھا.عقیدت کا سفر سراپا احساس تھا.جس نے جس انداز سے اپنے جذبات کو شیر کیا دعا کے مستحق ٹھہرے.ڈاکٹر فیضی صاحب نے ارٹئکل سراہ کر حوصلہ افزائی فرمائی.کتنے مہربانوں نے تبصرے کرکے دعاؤں میں شرکت کی استدعا کی وزیر گل اور طاہر مکے میں مسلسل ساتھ رہے.پروفیسر فیاض اور فیملی کا ساتھ رحمت سے کم نہ تھا ضمیر ایبٹ آباد بھانجی کو لے کر ملنے آیا ان کی شرافت دیدنی تھی.عقیدت کے سفر میں آخری صبح نمازیں پڑھنے کے بعد الوداعی طواف کے بعد دل عضب کا دھڑکا.اسی گھر کا واسطہ دے کر التجا کی گئی کہ پھر اپنے گھر بلانا پھر سے عرش سے نازک تر مقامات کی حاضری کاشرف عطا کر.آنکھیں حرم پہ ٹکی ہوئی تھیں بیگم نے جھنجھوڑا تو ہوش قیا..آنکھوں سے قطرے حرم کے پختہ فرش پہ گرے موتی بن گئے..
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے..
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے…
حرم سے نکل کر بوجھل قدم ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوئے.میں نے بیگم سے کہا کہ اپ ذرا پیکنگ کریں میں ایک چھوٹے سے کام پہ باہر جا رہا ہوں.کام بہت بڑا تھا زندگی کا مہا کام..عقیدت کی ایسی منزل جو واقع میں منزل تھی..سر جھکائے سوئے حرم روانہ ہوا سیدھا اس پختہ فرش پہ پہنچا جو سرکار دوجہان ص کے گھر کے سامنے تھا.انکھیں اس مکان رشک جنت پہ ٹکا دیا. یہ لو فخر موجودات ص کعبے کے لیے گھر سے نکلے ہیں یہ لو بڑھیا گھر کے خس و خاشاک جمع کرکے رکھی ہے کھڑکی سے ان کے اوپر پھینک رہی ہے سرور انبیاء ص خاموشی سے گزر رہے ہیں وہ دروازہ کعبہ شریف کا موجود ہے جہان ص سرکار دوجہان ص کعبے میں داخل ہوتے تھے.اپ گھر کے ارد گرد چچاؤں کے گھر ہیں خاندان والوں کے گھر ہیں..زمزم کا کنواں ہے صفاء مرواء کا منظر ہے دور دارالرقم ہے پھر وقت کی بے وفائی تھی جدہ کے لیے نکلنا تھا..اپنے بھائی وزیر بلایا رخصت لیا اور دل اس منظر کے حوالہ کرکے مٹی کا بت لے کے روانہ ہوا.ہوٹل میں سامان باندھا ہوا تھا.ظہر کی نماز ہوٹل کی مسجد میں پڑھی..سامان نیچے اتارا.سامان زیادہ تھے ایک بریف کیس فیاض کے حصے میں آیا..بس میں سوار ہو کر درد سے پکارا..رب کعبہ پھر بلانا…جدہ ائر پورٹ پہ امیگریش کے جھنجھٹ سے نکلے.ایک لمحہ ایسا آیا کہ جہاز کے ٹائر میری پاک سر زمین سے لگے.پشاور ائر پورٹ پہ افسر بھائی اپنے دو ماتختوں اور گاڑی لے کے آیا تھا.میری عقیدت میرا خواب تھا ان کے وجود میں افسری کا خبط تھا یہ بت توڑنا اسان کام نہیں..بھائی نے اپنی بھابی سے حال احوال پوچھا۔اس نے تڑپ کر کہا۔۔بھائی ادھر ضرورجانا۔دوڑ کر پہنچنا اور اپنی روح رحمت کے چشموں سے سیراب کرنا۔گاڑی میں بیٹھ کر ایسالگاکہ آسمان سے گر کر کجھور میں اٹکا ہوں..پھر میرا پشاور تھا.جمعہ کی نماز تھی پشاور کی جامع مسجد تھی..