داد بیداد۔۔تعلیم سب کے لئے۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Print Friendly, PDF & Email

 

نگران کا بینہ نے خیبر پختونخوا کے میدانی، پہا ڑی اور ضم شدہ قبائلی اضلا ع میں تعلیم اور تدریس کا نیا منصو بہ منظور کیا ہے یہ ایک ہمہ جہت لا ئحہ عمل ہے اس پر عملدرآمد سے اُمید کی جا سکتی ہے کہ صوبے کا کوئی طالب علم تعلیمی سہو لیات سے محروم نہیں رہے گا اس سلسلے میں ضم شدہ اضلا ع کے لئے اگلے 5سالوں میں 10لا کھ طلباء اور طالبات کو سکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے منصو بے کی اہم بات یہ ہے کہ جہاں جہاں سر پلس سکول کی عمارتیں ہو نگی وہاں ٹیکنیکل ایجو کیشن یعنی فنی تعلیم کے ادارے قائم کیے جا ئینگے اس منصو بے میں برائے نا م سکولوں اور ڈیو ٹی کے بغیر تنخوا ہ لینے والے اساتذہ کی فوری طور پر نشان دہی کر کے ان کے خلا ف محکما نہ کاروائی عمل میں لائی جا ئیگی منصو بے کی بڑی بات یہ ہے سکولوں کے اساتذہ کو نیبر ہڈ کوسنل یا ویلیج کو نسل سے باہر نہیں بھیجا جا ئیگا اس طرح تعلیم کے لئے خو ش گوار ما حول مہیا کیا جا ئے گا صو بہ خیبر پختونخواکے سابق گور نر سید افتخار حسین شاہ نے بھی اپنے دور حکومت میں ایک انگریزی نعرے کے ساتھ سب کے لئے تعلیم کا اعلا ن کیا تھا اس اعلا ن کی روشنی میں ضلع چترال کے لئے انگریزی اور اردو کو ملا کر ایک دلچسپ نعرہ وضع کیا گیا تھا لواری ٹاپ پر اس نعرے کا سائن بورڈ بھی لگا یا گیا تھا ”ایجو کیشن فارآل پڑھا لکھا چترال“ نگران حکومت نے پشتو اور اردو میں ایک نعرہ وضع کیا ہے ”ٹو لو دپارہ تعلیم کا ادارہ“ صو بائی حکومت اس وقت تعلیم عام کرنے کے کئی منصو بوں کو عملی جا مہ پہنا رہی ہے یہ منصو بے روا یتی طریق کار سے ہٹ کر محروم طبقات کو فائدہ پہنچا رہے ہیں ان میں سے ایک منصو بہ ایلمنڑی اینڈ سیکنڈری ایجو کیشن فاونڈ یشن ہے اس کے تحت ایسے مقا مات پر سکول کھو لے جا رہے ہیں جہاں مو جو دہ معیار اور سٹینڈرڈ کی رو سے سکول کھولنے کی گنجا ئش نہیں مثلا ً مو جو دہ سکول سے فا صلہ معیار کے مطا بق 2کلو میٹر ہو نا چاہئیے، طالب علموں کی کم سے کم تعداد 40ہونی چاہئیے اگر کسی مقام کا فاصلہ مو جودہ سکول سے ایک کلو میٹر ہے اور طالب علموں کی تعداد 18ہے تو ایسی جگہ فاونڈیشن کا سکول کھولا جا تا ہے یہ ایک غیر روایتی طریقہ کار ہے جو لوگوں کو زیا دہ سے زیا دہ فائدہ پہنچا نے کے لئے وضع کیا گیا ہے اس طرح کا ایک الگ پرو گرام بھی اس وقت چل رہا ہے اس کا انگریزی نا م خا صا مشکل ہے جو خیبر پختونخوا ہیو من کیپٹل انوسمنٹ پروگرام (KPHCIP) کہلا تا ہے جیسا کہ نا م سے ظا ہر ہے اس کا مقصد افرادی قوت کی ترقی پر توجہ دینا ہے اس کے لئے ایسے اضلا ع کا چنا ؤ کیا گیا ہے جہاں سہو لیات کی شدید کمی محسوس کی جا تی ہے ایک اور منصو بہ بھی ہے جسے مختصر کر کے ASPIREکہا جا تا ہے پورا نا م ہے ایکشن ٹو سٹر ینگدن پر فارمنس فار انکلو سیو اینڈ رسپانسیو ایجو کیشن یعنی تعلیم کے عمل میں سب کو شامل کرنے کا مستعد اقدام اب نگران حکومت نے صو بائی سطح پر ”تعلیم سب کے لئے“ کے زیر عنوان جس منصو بے کی منظوری دی ہے یہ بھی محروم طبقات کو فائدہ پہنچا نے اور تعلیم کی سہو لتوں سے محروم بچوں یا بچیوں کو سکول میں داخل کر کے تعلیمی اداروں کے قومی دھا رے کا حصہ بنا نے کی طرف بڑا قدم ثا بت ہو سکتا ہے دنیا کے ترقی پذیر مما لک میں سکولوں سے با ہر رہنے والے بچوں بچیوں کے بارے میں جو تحقیق ہوئی ہے اور جتنے انفرادی سطح کے مطا لعے Case studiesشائع ہوئی ہیں ان میں والدین کی غربت کو سب سے بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے اس لئے جہاں بھی تعلیم کو عام کرنے اور ہر ایک کی رسائی میں لا نے کی بات ہوتی ہے وہاں گھر، اور کنبے کی سطح پرغربت کو ختم کرنے کی تدابیر اختیار کی جا تی ہیں اور ایسی تدابیر کا بہتر نتیجہ برآمد ہوتا ہے اگر نگران حکومت کے دور میں منظور ہونے والا بڑا تعلیمی منصو بہ انتخا بات کے بعد بھی جا رہی رہا آنے والی حکومت نے اس پر عمل کیا تو صو بے کا نہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم ہو گا نہ کوئی بچی سکول سے با ہر ہو گی۔