محمد جاوید حیات۔۔۔۔دھڑکنوں کی زبان۔۔۔”بچوں پر تشدد کی روک تھام کا بل“
”بچوں پر تشدد کی روک تھام کا بل“
اسمبلی میں بجوں پر تشدد روکنے کا بل پاس ہوا۔ساتھ اور بھی بل تھے ان کا تعلق بھی تشدد اور انسانوں کا انسانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے ساتھ تھا۔۔بل بڑے خلوص سے پیش کیے گے۔سکول میں استاد بچوں پر تشدد نہ کرے پیار سے پڑھائے۔مار پر پابندی ہو دنیا کے دوسرے ممالک میں مار اور جسمانی سزا پر پابندی لگی ہے۔بچے پیار سے اچھا سیکھتے ہیں۔یہ ساری باتیں سچی کھری ہیں ان پر کوئی کیا اعتراض کرے۔لیکن یہ سب لوگ اس حقیقت سے انکاری کیوں ہیں کہ استاد کے لئے اس کا شاگرد اس کے بچوں سے بھی اہم ہے استاد کو ہمہ وقت ان بچوں کی فکر رہتی ہے ان کی تربیت ان کی کامیابی اور ان کا روشن مستقبل استاد کی منزل ہو تی ہے یہ حقیقت ہے کہ اگر استاد سہی معنوں میں استاد ہو اگر راج مزدور ہو تو اس کو کوئی استاد بھی نہ کہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ آے دن سکولوں میں بچوں پر تشدد کے واقعات سننے کو ملتے ہیں لیکن اس استاد کے بارے میں تحقیق نہیں ہوتا نہ اس کو نشان عبرت بنایا جاتا ہے۔ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے ہزار اچھوں میں ایک برا ہو تو ہزار اچھوں کی کوئی بات نہیں کرتا۔سکولوں میں جسمانی سزاؤں پر پابندی ہونی چاہئے لیکن اس استاد کی بھی عزت نفس ہے۔بچوں سے برسرعام یہ کہا جاتا ہے کہ استاد تمہیں سزا نہیں دے سکتا سکولوں میں ایمرجنسی فون نمبر گیٹ پر دیواروں پر لکھے ہوئے ہوتے ہیں اگر کسی استاد نے بچے کو چانٹا رسید کیا تو اد نمبر پر اطلاع دینا۔۔استاد یہ دیکھ کر افسردہ ہوتا ہے اور اپنی حیثیت پر کڑھتا ہے پہلے تو یہ اس بچے کو اپنی منزل اور شناخت سمجھ رہا تھا اب سوچتا ہے کہ اس کی حیثیت بچے کی مربی کی نہیں ہے اگر ایسا ہے بس وہ واجبی سی پڑھائی کرے بچے کی مرضی ہے پڑھے نہ پڑھے۔بات سوچنے کی ہے کہ معاشرے میں کیا صرف استاد ہی رہتا ہے کیا صرف سکولوں میں بچوں پر تشدد ہوتا ہے باقی معاشرہ ستھرا ہوا ہے۔۔کہیں کوئی تشدد نہیں ہوتا۔گھروں میں کام کرنے والے بچے پیار کے ماحول میں یوتے ہیں۔ریپ کیسس کہیں نہیں ہوتے۔مزدور بچوں کا استحصال نہیں ہوتا اس فلاحی ریاست میں سب کو بنیادی حقوق مل رہے ہیں لہٰذا تشدد کی روک تھام کا بل پیش کیا جاتا ہے۔
ملک میں دو قسم کے بلکہ کئی قسم کے تعلیمی ادارے ہیں سب کا اپنا سسٹم ہے دارالعلوم میں سزا پر کوئی پابندی نہیں اس لئے ان کی نظم وضبط ٹھیک ٹھاک جارہی ہے۔بڑے بڑے غیر سرکاری اداروں میں استاد ویسے بھی بچے کا غلام ہے اس کے مزاج شاہانہ کے خلاف کچھ بول تک نہیں سکتا سزا کیا دے۔اب سرکاری سکولوں کی باری آئی ہے تو سارے قوانین اس پہ لاگو ہوتے ہیں۔یہاں پر وہ بچے آتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ان کے والدین کو اپنی مجبوریوں سے فرصت نہیں ہوتی بس ان کو سکول بھیجتے ہیں وہ بچے ہر لحاظ سے قابل توجہ ہوتے ہیں۔ان کو مناسب تربیت کی ضرورت ہوتی ہے گھر میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اب استاد ہی ان کا سب کچھ ہے تعلیم تربیت کا بھی نام ہے ایک بچہ گھر میں بے توجہی کا شکار ہے کاپی نہیں لکھتا ہوم ورک نہیں کرتا ماں باپ کی نہیں سنتا وہ سکول آتا ہے اگر استاد اس کی تربیت پر توجہ نہ دے تو آگے جا کر وہ چور اچکا بن جائے گا پولیس اس کو پکڑے گی آپ انصاف سے بتایئں کہ کیا اس ملزم کے ساتھ پولیس پیار کرے گی۔اس کی بلائیں لے گی۔ جب تک وہ اپنے جرم کا اقرار نہ کرے۔ کیا وہ بے تربیت بچہ معاشرے کے لئے سود مند ہوگا۔اس پر کوئی نہیں سوچتا۔۔استاد کے پاس تربیت کا ہاتھ ہوتا ہے اس کو اگر روکا جائے تو یہ معاشرہ جنگل بن جائے گا۔۔انسا ن نما درندے دنداناتے پھریں گے۔استاد ہی ہے کہ وہ بچے کو انسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔۔اگر سکول میں کسی بچے پر بے جا تشدد یوا ہو تو اس کی تفتیش کرکے متعلقہ استاد کو قرار واقع سزا دی جائے عبرت کا نشانہ بنایا جائے تاکہ تشدد کی درست روک تھام ہو مگر ایسا نہیں ہوتا یہ بل خالی باتوں کی حد تک ہیں۔۔بچوں کے ریپ کیسس میں اگر ایک مجرم کو سرعام لٹکا یا جاتا تو تا قیامت ایسی کیس پھرنہ آتی ایسا نہیں ہوتا۔۔یہ بل بھی ایسا ہی ہے لیکن اس سے استاد جو بچے اور قوم کا صحیح معنی میں معمار ہے اس کے جذبے پر کاری ضرب ہے۔۔اس کے ہاتھ پاوں باندھنے کے مترادف ہے۔۔یہ تشدد لفظ ہی اس کے ساتھ توہین ہے۔۔استاد کا احترام کیا جائے اس کو کام کرنے دیا جائے اور اس سے صحیح معنی میں کام لیا جائے۔اس کے کام کی نگرانی کرنے کی بجائے اس کے بارے میں ایسی باتیں کی جا رہی ہیں جو اس کے ساتھ منسوب ہی نہیں ہیں۔۔استاد کا شاگرد اس کی زندگی ہے کوئی اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں کچل تو نہیں دے گا۔
تازہ ترین
- ہومماڈل یوناٸٹیڈ نینشنز کانفرنس Model United Nations Conference,(MUN) الخدمت فاٶنڈیشن اسکول قتیبہ کیمپس چترال میں (MUN) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا
- مضامینپھول جیسے بچپن پر ظلم: بچوں سے مشقت اور بھیک منگوانے کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد
- ہومضلع لوئر چترال پولیس میں 07 نئے جوان شامل، ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان (PSP) نے تقرر نامے تقسیم کر دیے۔
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومچترال اسکاؤٹس نے چترال لیویز کو 1 کے مقابلے میں 4 گول سے ہرا کر چیمپیئن شپ اپنے نام کر لی
- ہوم*پرنس رحیم آغا خان کے دورہ لوئر چترال کے سلسلے میں آر۔پی۔او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کا تھانہ لٹکوہ اور دیدار گاہ گرم چشمہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”یہ سسٹم کیا بلا ہے “
- ہومچترال لوئر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینئر کی سیٹ سات ماہ سے خالی، عوام و کنٹریکٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا
- ہومچترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی



