ہم چند ہم عصر سفید ریش ساتھی اتفاقی ملاقات پر سر راہ محو گفتگو تھے ایک نوجوان قریب سے گزرتے ہوئے ہم پر نظر دوڑاتے ہوئے “گلشن چترال کے خزان رسیدہ پھول “کہکر مسکرا دئیے۔ میں نے فوری طور پر اس خوبصورت تمثیل پرا ن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے۔ کہا کہ اگر ہمیں انسانیت کے ٹمٹاتے ہوئے چرا غ سے بھی نسبت دیں گے تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ نوجوان بے شک کہتے ہوئے چلے گئے ان الفاظ کو اگر حقیقت کی کسوٹی میں پرکھ کر دیکھا جائے تو ان کی صداقت خود بخود نمایاں ہوگی۔ کیونکہ ایک زمانہ تھا کہ کھوار بولنے والوں کا مسکن چترال قدرتی حسن سے مزیں ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کے مکینوں کی باہمی خلوص رواداری اور ہر قسم کی انسانی وصف کی مہک سے معطر تھی۔ جیب پیسے اور پیٹ خوراک سے خالی ہونے کے باوجود دلوں کی دنیا میں ہر وقت بہار کی کیفیت رہتی تھی۔ یہاں کا نوجوان نسل اخلاق حمیدہ، شرافت اور بڑوں کی قدردانی کے اوصاف کے حامل اور بڑے اولاد کی تربیت کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ خواتین شرو حیا کا پیکر ہوتی تھیں۔ اپنوں کے سامنے بھی آنکھ ملا کر بات کرنے سے شرماتی تھیں۔ یہاں کی پوری معاشرتی زندگی اپنی نوعیت کے اعتبار سے لطف و سرور سے لبریز ہوتی تھی نہ غیروں کی زبان دانی سے لگاو نہ انکی لباس کی خواہش نہ اوروں کی ثقافت اورتہذیب سے متاثر اپنی ذات سے لگن، محبت اور خود داری کی دولت فاخرہ میں مگن زندگی کے شب وروز گزارتے تھے۔ مگر وقت کے کروٹ لینے کی عادت نے آخیر کار اس مثالی معاشرے کو بھی دبوچ لیا۔ یکایک وہ رُت بدل گئی وہ سماں ہی معدوم ہوا معاشرتی زندگی کا حسن بگڑ تا گیا۔ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے والے دلوں کومادہ پرستی، خود غرضی اور بعض و حسد کے امرا ض لا حق ہوئے۔ دوسروں کے رنگ و روپ دل کو لبھانے لگے۔ مادری زبان اغیار کی زبان کا منہ تگنے لگی۔ شعرو شاعری میں استعمال ہونے والی دوسری زبانوں کے الفاظ کی بہتات سے کھوار زبان کے دامن کی تنگی کا احساس ہونے لگا۔ یہاں تک کہ چترالی ستار جو کھوار ثقافت کی علامت اور ترجمان کی حیثیت رکھتا تھا۔ معصوم سٹوڈیو کے اندر پیانو کی غیر مانوس ساز میں گم ہوگیا۔ کھوار نعموں کے دھنوں کے لئے اردو، پشتو اور دیگر زبانوں کی موسیقی سے مستعار لئے جانے لگے۔ سر زمین چترال کی حقیقی زینت اور بیش قیمت سرمایہ یعنی شرم و حیا سر بازار نیلام ہونے لگی۔ نوجوان نسل باہمی رشتوں ناطوں سے ٹوٹ کر آلات جدیدہ سے جڑھ گئے۔ ان حالات سے واسطہ پڑنے کے بعد نئی دنیا میں نئے خیالات، ترجیحات اور خواہشات کیلئے تڑپنے والا دل ہر قسم کی نعمتوں سے مستفید بدن کے اندر سکون کے لئے تڑپتا ہے اور بے ساختہ لب پر دعا بن کے یہ تمنا آتی ہے کہ
” کوئی لوٹا دے مجھے میر اپرانا چترال”
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد
- ہومڈی پی او چترال اپر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ، منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات
- مضامیندادبیداد۔ مسائل کا حل۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پولیس لویر چترال کی طرف سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال تحصیل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- ہومنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ کی حوصلہ افزائی، ڈی پی او چترال اپر کی جانب سے کمنڈیشن سرٹیفکیٹ اور کیش ریوارڈ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔قناعت سب سے بڑی نعمت۔۔۔محمد جاوید حیات
- مضامیندادبیداد – نظم و نسق کی کامیابی۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
- ہومڈی پی او لوئر چترال کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد،،یہ کھلی کچہری بروزِ بدھ، شام 4:00 بجے پولیس سہولت مرکز زرگراندہ، لوئر چترال میں منعقد ہوگی
- ہومڈی پی او چترال اپر کی جانب سے ڈپٹی کمشنر محمد عمران خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب
- ہومچترال کے خوبصورت سیاحتی مقام گرم چشمہ کے نوجوان آرٹسٹ شیر احمد المعروف شیرو کی یاد میں علاقے کے ممتاز درسگاہ پامیر پبلک سکول اینڈ کالج میں ایک روزہ آرٹ ایگزبیشن کا انعقاد ک










