قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر دور کرنے کے لئے موجودہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ شام کی عدالتیں قائم کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اگلی حکومت میں جنرل مشرف یا آصف زرداری کی طرح طاقتور شخص آیا تو بل کو ایوان میں پیش کر کے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اکثریت سے پاس کیا جائے گا اور یہ ایکٹ کی صورت میں صدر مملکت کے دستخط کے بعد قانون بن جائے گا۔عدالتوں کی تعداد دگنی ہوجائے گی۔ ججوں کی تعداد دگنی ہوجائے گی۔ ایک دیوانی یا فوجداری مقدمے کے فیصلے پر اگر 25سال کا عرصہ لگتا ہے تو یہ مدت کم ہوکر دو سال تک آجائے گی۔ دو سال مقدمہ چلنے کے بعد بھی کسی سائل کو انصاف ملا تو اس کو موجودہ عدالتی نظام کے مقابلے میں فوری انصاف کہا جائے گا۔ عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور انصاف ملنے کی اُمید پیدا ہوجائے گی۔ موجودہ حکومت کے5سالوں میں قائمہ کمیٹی کے منظور کئے ہوئے 29بل ایسے ہیں جو ایوان میں پیش نہیں ہوئے۔ 145انکوائری رپورٹیں ایسی ہیں جن کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ ملی۔ سینیٹ کے دو سابق معتبر، لائق، ذہین اور انتہائی قابل اراکین فرحت اللہ بابر اور فیصل رضا عابدی نے گذشتہ ماہ اپنی الوداعی تقریروں میں پارلیمنٹ کی ایسی بے شمار کمزوریوں اور ناکامیوں کا ذکر کیا۔ دونوں تقریرں یو ٹیوب پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ مشرف اور زرداری کے دور میں کئی اہم قوانین منظور ہوئے تھے۔ یہ قیادت کی رہنمائی سے ممکن ہوئے تھے۔ مارچ 2014ء میں قائمہ کمیٹی نے لسانی مسئلے پر پاکستان کی علاقائی زبانوں کی ترقی کا بل منظور کیا تھا۔ 3 سال تک سپیکر کے چیمبر میں رکھنے کے بعد اس بل کو واپس وزارت کی راہ دکھائی گئی ہے۔ وزارت کے اندر اب یہ بل آنے والے قیادت کی رہنمائی کا منتظر ہے۔ جملہ معترضہ اپنی جگہ، شام کی عدالتوں کا بل بیحد اہم پیش رفت ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے انصاف کے چیئرمین چوہدری محمد اشرف نے بل کی منظوری کو ملک کے اندر انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ موجودہ حالات میں صرف سپریم کورٹ اور اس کو رجسٹریوں میں 19لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔ ہائی کورٹوں اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا ہندسہ ایک کروڑ سے اوپر ہے۔ مقدمات میں سے آئینی مقدمے کا خرچہ 20کروڑ روپے فوجداری مقدمے کا خرچہ دو کروڑ روپے اور دیوانی مقدمے کا خرچہ ایک کروڑ روپے تک لگایا جاتا ہے۔ دولت مند اپنا مقدمہ انجام تک لے جاتا ہے۔ غریب اپنے مقدمے کی پیروی نہیں کرسکتا۔ کچھ عرصہ سے عدالتی نظام کی اصلاح کیلئے دو تجاویز گردش میں ہیں۔ 2007ء میں چوہدری افتخار کے خلاف ججوں کی بغاوت اور جسٹس عبد الحمید ڈوگر کی الگ عدالت لگنے کے بعد تجویز آئی تھی کہ سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی مقدمات کیلئے الگ عدالت قائم کی جائے۔ دیوانی اور فوجداری عدالتیں موجودہ سپریم کورٹ کے پاس رہنی چاہیئں۔ تاکہ مقدمات کے فیصلے آسانی سے ہوسکیں اوردونوں چیفس کو کھپایا جاسکے۔ دوسری تجویز دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک سکول پرحملے کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام کا قانون منظور کرتے وقت سامنے آئی تھی۔ تجویز یہ تھی کہ سول جج کو ٹرائل جبکہ سینئر سول جج،، ایڈیشنل سیشن جج اورسیشن جج کو اپیل کی عدالت کا درجہ دیا جائے۔ دیوانی اور فوجداری مقدمات ماتحت عدالتوں میں نمٹائے جائیں گے۔ بین الصوبائی مقدمات اور سرکارکے خلاف مقدمات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جائیں گے۔ آئینی مقدمات کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سطح پر نمٹایا جائے گا۔ اگرچہ موجودہ حکومت اور موجودہ پارلیمنٹ میں شام کی عدالتوں کا ایکٹ منظور ہونا ممکن نہیں تاہم آنے والی حکومت نے بھی اس بل کو پاس کیا تو عوام کو انصاف فراہم کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ عدالتوں کے اوقات دگنے ہونگے۔ ججوں کی تعداد دگنی ہوگی۔ تو مقدمات نمٹانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اگر اس ایکٹ میں عدالتوں کے دائرہ کار کا بھی از سر نو تعین کیا گیا تو یہ مزید بہتر ہوگا۔ عام تجربے اور مشاہدے کی بات یہ ہے کہ فوجداری اور دیوانی مقدمات میں ماتحت عدالتیں انصاف پر مبنی فیصلے کرتی ہیں۔ اپیل کے مرحلے میں دولت مند جیت جاتا ہے۔ غریب شکست کھاتا ہے۔ اگر ایک سال کے اخبارات کا جائزہ لیا جائے یا عدالتی ریکارڈ پر تحقیق کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 70فیصد فوجداری مقدمات میں گھناؤنے جرائم کے مجرم ماتحت عدالتوں سے سزا پانے کے بعد اعلیٰ عدالتوں سے بری ہوجاتے ہیں کیونکہ اُس مرحلے پر غریب مقدمہ لڑنے کی سکت نہیں رکھتا صرف دولت مند مقدمہ لڑسکتا ہے۔ ایک سینئر قانون دان کا قول ہے کہ ماتحت عدالتوں میں ججوں کی بڑ ی تعداد مقابلے کے امتحان کے ذریعے آتی ہے۔ میرٹ پر آتی ہے۔ اس وجہ سے بھی عدالتوں میں فیصلوں کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ جنوری 2015ء میں فوجی عدالتوں کا بل پارلیمنٹ سے پاس ہوا تو سینئر وکیل اور پارلیمنٹیرین میاں رضا ربانی روپڑے تھے انہوں نے کہا تھا کہ سول عدالتوں سے انصاف نہ ملنے کی وجہ سے مجبورا فوجی عدالتوں کو اختیار دینے کا قانون منظور کیا جارہا ہے اور یہ پارلیمنٹ کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں اگر مستقبل قریب میں شام کی عدالتیں قائم ہوئیں اور ایپیلٹ کورٹ کے اختیارات ماتحت عدالتوں کو دیدیے گئے تو انصاف کی فراہمی میں آسانی ہوگی اور عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



