اکثر بابا جانی کو کسی گہری سوچ میں دیکھ کر تجسس کا شکا ر ہوجاتی تھی اور جب ان سے پوچھتی تو کہتے بیٹا!تنگ علاقہ اور چھوٹا گاؤں تمہاری صلاحتیں ختم کر دیتے ہیں کبھی کبھار تو بات مذاق میں ٹل جاتی لیکن ہر بار نہیں یہ الفاظ میری سوچ کی وادی میں گردش کر تے جس کی وجہ سے میں اس مثال کی تلاش میں نکل پڑی ویسے علاقہ تو یہ بھی تنگ ہے جہاں میں رہتی ہوں البتہ گاؤں چھوٹا نہیں ہے ایسے ماحول اور با صلاحیت لوگوں کے بیچ رہ کر میرے اندر کی جہالت بھی کافی کم ہوگئی ہے بہر حال یہ بات میرے اندر بیٹھ گئی تھی اور میں اس کی تلاش میں ایک جگہ جا پہنچی تنگ علاقہ اور چھوٹا گاؤں اگر آ پ اپنا مصلیٰ لے کر نماز کیلئے بیٹھ جائیں گے تو آپ الجھن کا شکا ر ہوجائیں گے کہ قبلہ کس طرف ہے؟ سیاحت کے لحاظ سے یہ علاقہ بہت اچھا سمجھا جاتا ہے قدرت کے ایسے شہکار مو جود ہیں کہ دل بے اختیار اس کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے اخروٹ کے لمبے اور تناور درخت کے سائے میں بیٹھنے کا ایک الگ ہی مزہ ہے اور اس سے بھی مزے کی بات یہ ہے کہ یہ اخروٹ کسی انسان نے نہیں بلکہ یہاں کے پرندے (کرگس)لگاتے ہیں جو کہ ایک قدرتی عمل ہے یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش اخروٹ اور آلو کی پیداوار ہے جس کیلئے وہ بہت زیادہ محنت کرتے ہیں لیکن ان کی تعلیم میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے اور جو علم سے محبت رکھتے ہیں وہ یہاں سے ہجرت کر گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں آبادی کم ہے بچے اکثر سکول سے غیر حاضر ہوتے ہیں اور پوچھنے پر بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ مویشیوں کے ساتھ مصروف تھا یا پھر کھیتوں پر گلی ڈنڈا کھیلتے ہوئے دیکھائی دیں گے اور واپس آنے پر ماں باپ کا م پرلگا دیتے ہیں اب بات ایسی نہیں کہ یہاں کے لوگ تعلیم یافتہ نہیں ہیں آپ کو بہت سے ایسے نوجواں ملیں گے جو اعلیٰ یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل ہونگے بظاہر تو ان کے لباس سے لگے کا کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں لیکن جب آپ ان سے بات کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ تعلیم یافتہ نہیں صرف خواندہ ہیں اس علاقے میں تعلیم تو ہے لیکن تعلیم یافتہ لوگ نہیں جہالت کے اندھیروں نے انھیں اس قدر گھیرا ہے کہ اگر اب بھی ایک ماں ایک بیٹی کو جنم دیتی ہے تو وہ اس کیلئے طعنہ بن جاتا ہے اب یہ ان کی جہالت ہے یا سادہ لوح مزاج کہ ان کا جنات پر بڑا یقین ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کا یہ باقاعدہ ایک بڑا کاروبار ہے بھلا اب جنات آپ کے مسائل کیسے حل کر سکتے ہیں؟میرا ہر گز مطلب کسی کی دل ازاری کرنا نہیں ہے میر اکام تو معاشرے کی اصلاح ہے اور بھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں تعلیم تو ہے لیکن تعلم یافتہ لوگوں کے بجائے صرف خواندہ ہیں جن کی اصلاح بے حد ضروری ہے با با جانی نے غلط نہیں کہا تنگ علاقہ اور چھوٹا گاؤں انسان کی صلاحیتوں کو ضائع کردیتا ہے اور پھر ذراسوچئے۔۔۔صرف ڈگری ہاتھ میں لینے سے کوئی تعلیم یافتہ نہیں کہلاتا لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ ذہانت کی ترقی بھی تعلیم کہلاتی ہے۔
تازہ ترین
- ہومماڈل یوناٸٹیڈ نینشنز کانفرنس Model United Nations Conference,(MUN) الخدمت فاٶنڈیشن اسکول قتیبہ کیمپس چترال میں (MUN) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا
- مضامینپھول جیسے بچپن پر ظلم: بچوں سے مشقت اور بھیک منگوانے کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد
- ہومضلع لوئر چترال پولیس میں 07 نئے جوان شامل، ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان (PSP) نے تقرر نامے تقسیم کر دیے۔
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومچترال اسکاؤٹس نے چترال لیویز کو 1 کے مقابلے میں 4 گول سے ہرا کر چیمپیئن شپ اپنے نام کر لی
- ہوم*پرنس رحیم آغا خان کے دورہ لوئر چترال کے سلسلے میں آر۔پی۔او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کا تھانہ لٹکوہ اور دیدار گاہ گرم چشمہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”یہ سسٹم کیا بلا ہے “
- ہومچترال لوئر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینئر کی سیٹ سات ماہ سے خالی، عوام و کنٹریکٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا
- ہومچترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی



