تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردلی روم کا انعقاد
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
مکتوب ِ چترال۔۔گولین گول بجلی گھر کی ناکامی اور چترال میں بجلی کی بریک ڈاون۔۔بشیر حسین آزاد
گولین گول بجلی گھر کی ناکامی اور چترال میں بجلی کے غیر معینہ مدت کے لئے بریک ڈاون کی وجہ سے عوام میں بے چینی پھیل گئی ہے۔گولین گول پراجیکٹ اور پیسکوکے حکام ریڈیو پر آکر ٹاون کے عوام کو مزید
مذاق کس نے شروع کیا۔۔شمس الرحمن تاجک
عام آدمی کو احتساب تماشا کیوں لگتا ہے؟ اس کی وجہ وہی پرانی تھیوری ہے۔ نبی آخرالزمان ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں ان کا بھی ہاتھ کاٹنے میں دیر نہیں کروں گا“ یہ ہوتی ہے
داد بیداد۔۔قو موں کی پہچان۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ افیضی
انگریزی میں محاورہ ہے ”آدمی اپنے ہم نشین کے ذریعے پہچا نا جا تاہے“ نپو لین کا قول ہے کہ قو میں اپنے طرز عمل کے ذریعے پہچا نی جا تی ہیں طرز عمل کا اظہار نپو لین کے دور میں صدیوں کی تاریخ اور امن
داد بیداد۔۔حکومت کا دوسرا پہیہ۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
حزب اقتدار کے ساتھ اپوزیشن یا حزب اختلاف کو حکومت کا دوسرا پہیہ کہا جا تا ہے دونوں پہیئے درست کام کریں تو حکومت عوامی توقعات کے مطا بق کام کرتی ہے دوسرا پہیہ کام نہ کرے تو صرف حزب اقتدار ایک
صدابصحرا۔۔یکساں نظام تعلیم۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
حکومت نے یکے بعد دیگرے تین بڑے فیصلے کئے ایک حکم کے تحت تمام دفتروں میں نماز ظہر کے لئے 30منٹ اور نماز جمعہ کے لئے ڈھائی گھنٹے چھٹی کا مراسلہ جاری کیا ہے ایک دوسرے حکم میں کہا گیا ہے کہ ملک میں
داد بیداد۔۔ریڑھ کی ہڈی۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
بیورو کریسی یا افسرشاہی کو ملکی نظام میں ریڑھ کی ہڈی تصوّر کیا جاتا ہے با بائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے ستمبر 1947ء میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سول سروس کے
دل کوفراق کے صدموں سے چھٹکارہ نہ ملا۔۔ ظفراللہ پروازؔ بونی
چترال میں کھو ادب و ثقافت کی آسمان سے متواتر ادبی ستاروں کی جدائی خصوصاً عزیزم خالد بن ولی کے بے وقت فراق کی آنسوئیں خشک نہیں ہوئے تھے کہ یکے بعد دیگرے انورالدین انورؔ اور بعد میں۔۔۵ جنوری
داد بیداد۔۔ایک یاد گار نشست۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
نقطہ نگاہ کے شاعر مولانگاہ کے ساتھ ایک یاد گار نشست ٹھہر ٹھہر کر یاد آ رہی ہے نشست میں محمد عرفان،شہزادہ تنو یر اور شہزادہ مد ثر بھی شر یک تھے محبوب الحق حقی اور ظہورالحق دانش خدمت پر کمر بستہ
رموز شادؔ۔۔ مولا نگاہ نگاہ صاحب مرحوم۔۔وہ نجم بصیرت تھا، خورشید نوا تھا۔۔۔ ارشاد اللہ شادؔ
راقم الحروف کو جن چند لوگوں کے رشحات قلم نے متاثر کیا ان میں ایک نام منفرد لب و لہجہ کے ممتاز شاعر و ہر دلعزیز شخصیت، مخلص ترین استاذ اور سادہ ترین انسان جناب مولا نگاہ نگاہ صاحب مرحوم کا ہے۔ آپ
دھڑکنوں کی زبان۔۔معلمی عہدہ نہیں پیشہ ہے۔۔محمد جاوید حیات
معلمی کسی بھی زمانے میں عہدہ نہیں رہا۔معلم پیشوا رہا ہے اور درس و تدریس ایک معزز پیشہ رہا ہے۔۔لیکن یہ معیار مانگتا ہے۔۔اگر معلم زمامنے کے معیار پہ پورا اُترا ہے تو دور کے فرعون تک اس کے آگے


