خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت صوبے میں فوڈ ا تھارٹی قا ئم کی ہے جو اشیائے خوراک کے معیار کا جائزہ لیگی اور عوام کو صحت بخش خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اس طرح ٹورزم کو اپریٹیو سو سائٹی کے قیام کا فیصلہ ہوا ہے جو سیا حت کے شعبے میں ہو ٹل اور گیسٹ ہاوس،ٹرانسپورٹ وغیرہ کے سلسلے میں خواہشمند کاروباری لو گوں کو قرضے فراہم کریگی دونوں خوش آئند چیزیں ہیں دونوں اداروں کے ذریعے گریڈ20کی آسامیاں پیدا کی جائینگی گریڈ 19اور اس سے نچلی سطح کی ملازمتیں پیدا کی جائینگی مختلف مقامات پر چند بنگلے اور کو ٹھیاں کرائے پر لی جائینگی اس طرح نئے اداروں کے قیام سے لوگوں کو بہت فوائد حا صل ہونگے اشیائے خوراک میں حفضان صحت کے اصولوں کا خیال رکھنا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور محکمہ خوراک کے ضلعی حکام کی ذمہ داری ہے ڈپٹی کمشنر چھاپہ مار کر گھی، تیل،مٹھائی،جیم اور دیگر اشیائے خوراک کے نمونے حاصل کر کے فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو بھیج دیتا ہے اور دفتری کاموں میں مصروف ہوتا ہے وہ دو چار لاکھ روپے جیب میں رکھ کر فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے دروازے پر پڑا نہیں رہتا ہے کہ”پڑے ہیں رہ گزر پہ کوئی ہمیں اٹھائے کیوں“جس کے کا رخانے یا دکانوں پر چھاپہ مارا گیا تھا وہ دو چار لاکھ روپے لیکر فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری پہنچ جاتا ہے اور دو نمبر مال پر ایک نمبر کی مہر لگا کر واپس آتا ہے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا چھاپہ مارنا بیکار شغل بن جا تا ہے اشیائے خوراک میں ملاوٹ کرنے والا پہلے سے زیا دہ بہادر بن جاتا ہے فوڈ اتھارٹی قائم ہونے کے بعد اتنا فرق پڑے گا کہ ملاوٹ کرنے والا صرف لیبارٹری والوں کوبھتہ نہیں دے گاوہ فوڈ اتھارٹی والوں کو الگ بھتہ دیگا کراچی میں چند سال بھتہ خوروں کی لعنت عام ہوئی تو ذوالفقار مرزا کو بھتہ خوروں کے خلاف کاروائی کا اختیا ر دیدیا گیا انہوں نے ایک بھتہ خور گروہ کے مقابلے میں دوسرا بھتہ خور گروہ بنا لیا اس کی دیکھا دیکھی تیسرا بھتہ خور گروہ آگیا اور 3مہینوں کے اندر بھتہ خور گروہوں کی تعداد ایک کی جگہ تین ہو گئی بھتہ کم نہیں ہوا لوگوں کی زندگی مزید اجیرن ہوگئی یہاں تک کہ فوج آگئی،رینجرز نے اپریشن کر کے تینوں بھتہ خوروں کو دبوچ لیا ایک کی چیخ نکل گئی تو دوسرے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ گئے،”ایمان بچ گیا میرے مولا نے خیر کی“قدیم کہانی میں آتا ہے بادشاہ نے گھوڑا پالا اور 200درہم ماہانہ خرچ مقرر کیا گھوڑا لاغر ہو ا تو سائیں کے اوپر داروغہ رکھا گھوڑا مزید لا غر ہوا تو داروغہ کے اوپر محتسب رکھا گھوڑا مر گیا تو تحقیقات کا حکم دیا تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ سائیں 50درہم چراتا تھاداروغہ آیا تو 50درہم اس کو دیامحتسب آیا تو50درہم اس کو دیا 150درہم بھتہ خوری کی نذر ہو گئی گھوڑے کے لئے 50درہم بچ گئے جو اس کو اگلے جہاں کا راستہ دکھانے کے کام آ گئے ہمارے ہاں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر میں کیا نقص ہے کہ اس کے اوپر فوڈ اتھارٹی مسلط کی جا رہی ہے ہمارے کواپریٹیو سو سائٹیوں کے محکمے میں کیا کمی ہے کہ اس کی جگہ ٹورزم کی نئی کواپریٹیو سو سائٹی قا ئم کی جا رہی ہے؟یادش بخیر! جنرل مشرف کی حکومت تھی2005کا تباہ کن زلزلہ آیا دنیا بھر سے امداد ملنے لگی ضلعی انتظامیہ امداد تقسیم کرنے لگی تو بعض لوگو ں کو برا لگاانہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (NDMA)اور پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(PDMA)کے نام سے بڑے بڑے ادارے قائم کئے اس کے بعد چرا غوں میں روشنی نہ رہی ڈپٹی کمشنر کا دفتر لوگو ں کے لئے آسان تھا NDMAاورPDMAکے دفاتر آسمانوں پر قائم ہوئے قدرتی آفت آنے پر سب سے پہلے نائب تحصیلدار اور ایس ایچ او وہا ں پہنچ جاتا ہے ان کے پاس پھوٹی کوڑی کا اختیار نہیں رہا نائب تحصیلدار اور ایس ایچ او کی رپورٹ ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کی وساطت سے NDMAاور PDMAتک پہنچتے پہنچتے 6مہینے لگ جاتے ہیں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سیلاب کے بعدواٹر سپلائی سکیم تباہ ہو گئی ہے ڈونر کا نمائندہ واٹر سپلائی سکیم کو بحال کرنا چاہتا ہے مگر اس کام کے لئے NDMAکی طرف سے نو ابجکشن سرٹیفکیٹ(NOC)چاہئے NOCلینے میں دو سال لگتے ہیں آگ لگنے سے دکان اور گھر جل کر خاکستر ہوئے،مقامی حکام کے پاس متاثرین کی امداد کا اختیار نہیں NDMAسے رجوع کیا جاتا ہے ڈیڑھ سال بعد جواب آتا ہے کہ آگ لگنے کا واقعہ قدرتی آفت کے زمرے میں نہیں آتا اس معاملے میں ہم کچھ نہیں کر سکتے سابق بیو رو کریٹ عکسی مفتی نے کتاب لکھی ہے ”کاٖغذ کا گھوڑا“ کتاب میں نئے اداروں کا بھی ایک باب رکھا گیا ہے اس باب میں بڑے پتے کی ایک بات لکھی ہے عکسی مفتی لکھتے ہیں کہ ادارے بناتے وقت بڑی خوب صورت باتیں کی جاتی ہیں اداروں کے نام بھی خوب صورت رکھے جاتے ہیں چند سال بعد کام اور مقاصدکا پتہ نہیں چلتا صرف تنخواہ اور پنشن کے معاملات زیر غور رہتے ہیں فوڈ اتھارٹی اور ٹورزم کواپریٹیو سو سائٹی کا ایسا ہی حال ہوگا مسئلے کا حل یہ نہیں کہ پرانے دفتر پر عدم اعتماد کر کے نیا دفتر بناؤ، مسئلے کا حل یہ ہے کہ پرانے دفتر کو استحکام دو، اختیارات دو فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی ماتحتی میں دیدو کواپریٹیو سوسائٹیوں کو سیا حتی بزنس کے لئے فنڈ مہیا کرو اگر تم بہتری چاہتے ہو تو بہتری آجا ئیگی خواہ مخواہ نئے ادارے بنانے سے مزید بگاڑآئے گا بہتری نہیں آئیگی
قفس ہے بس میں تمہارے،تمہارے بس میں نہیں ÷ چمن میں نگہت گُل کے نکھار کا موسم
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



