چترال (نمائندہ چترال میل) چترال شہراور مضافات میں پنجاب اور ملک کے دوسرے علاقوں سے بھکاری چترال پہنچ کر انتظامیہ کی کارکردگی کے حوالے سے ایک بہت بڑا سوال کھڑا کردیا کہ یہ لواری ٹنل سے کیسے نکل کر چترال پہنچ گئے جبکہ غیر مقامی افراد کو یہاں پر داخلے کی اجازت بھی نہیں ہے اور یہ کہ قرنطینہ میں ڈالے بغیر ان کو کس نے اور کیسے چھوڑ دئیے۔ گزشتہ ڈھائی مہینے کی لاک ڈاؤن کے دوران چترال میں ڈاؤن ڈسٹرکٹ سے آئے ہوئے بھکاری بھی اپنے اپنے علاقوں کی طرف جاچکے تھے لیکن دو دن پہلے لاک ڈاؤن میں نرمی اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی کو ہٹانے کے ساتھ ہی بھکاریوں نے چترال کا رخ کرلیا اور ان کی پہلی کھیپ پابندی ہٹنے کے پہلے ہی دن یہاں پہنچ گئی جن میں نوجوان خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ عوامی حلقے اس بات پر حیرانگی کا اظہارکررہے ہیں کہ لواری ٹنل سے نکل کر چترال میں داخل ہونے کے بعد یہ چیکنگ کے عمل سے کیسے گزر گئے جبکہ دو دن پہلے بنائے گئے ایس او پیز کے مطابق کوئی بھی غیر مقامی باشندے کو چترال آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس کا یہاں ملازمت اور کاروبار نہ ہو۔ انہوں نے اس حدشے کا اظہار کیاہے کہ ٹیسٹ کے بغیر ان بھکاریوں کو شہر کے اندر کھلا چھوڑ نے سے یہاں کرونا وائرس کا پھیل جانے کے خطرات بڑھ جائیں گے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


