اپریل فول ایک غیر اسلامی تہوار ہے جو یکم اپریل کو منایا جاتا ہے جس کے تحت اس تاریخ میں جھوٹ بول کرکسی کو دھوکہ دینا نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے بلکہ اس غیر اخلاقی عمل کا ارتکاب کرنا ایک کمال قرار دیاجاتاہے۔ غیر مسلم اقوام کی نقالی پر اترانے اور مر مٹنے والی اس مسلم نسل کی غفلت پر ماتم کرنے کو جی جاہتا ہے۔ ہم نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا کہ اس دن کی تاریخی حقیقت کیا ہے؟ ایک صدی کی سیاسی و ذہنی غلامی کی وجہ سے مغرب کی کسی بھی اخلاقی پستی اور بے راہ روی کی تقلید کو باعث ترقی و صد افتخار سمجھتے ہیں۔ لہٰذا اس رسم بد کی برائیاں اور مفاسد کے بیان سے پہلے یہ مناسب ہوگا کہ ہم اس کی تاریخی حیثیت پر مختصر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں۔ اس دن کی تاریخی حیثیت سے متعلق تحقیقی مصادر و مراجع کے بیانات مختلف ہیں جن میں سے چند ایک ہدیہ نظر ہیں۔
انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا (Encyclopaedia Of Britannica) میں اس رسم کی ایک وجہ یہ بتائی گی ہے کہ ۱۲ مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوتی ہیں ان تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیا ھے کہ (معاذ اللہ) قدرت ہمارے ساتھ مذاق کرکے ہمیں بیوقوف بنارہی ہے لہٰذا لوگوں نے بھی اس موسم میں آپس میں مذاق کرکے ایک دوسرے کو بیوقوف بنانا شروع کیا۔
ایک دوسری وجہ مشہور انسائیکلوپیڈیالا روس (Larous)نے یہ بیان کیا ہے کہ عیسائی روایات کے مطابق یکم اپریل وہ دن جسمیں یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو گرفتار کرکے یہودی علماء کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے فیصلے کیلئے پیلاطس (Pontius Pilatus)کے پاس لے گئے پھر ان کو ہیروڈیس(Herod) کی عدالت میں لا یاگیا کہ أن کا فیصلہ وہاں ہوگا اس طرح آپ علیہ السلام کو مختلف عدالتوں میں پھرا کر آپ کا تمسخر اڑایاگیا۔ یہ واقعہ موجودہ نام نہاد انجیلوں میں بھی موجود ہے اور یہ سب کچھ یکم اپریل کو پیش آیا تو اپریل فول بھی اس شرم ناک واقعے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
اپریل فول سے متعلق یہ واقعہ بھی مشہور ہے کہ اسکی بنیاد اسلام اور مسلم دشمنی پر رکھی گی ہے وہ اسطرح کہ اسپین پر جب عیسائیوں نے دوبارہ قبضہ کیا تو مسلمانوں کا بے تحاشا خون بہایا۔ آئے روز قتل و غارت کا بازار گرم کیے۔ بالآخر تھک ہار کر بادشاہ فرڈینینڈ نے اعلان کروایا کہ مسلمانوں کی جان یہاں محفوظ نہیں ہم نے ان کو ایک اور اسلامی ملک میں بسانے کا فیصلہ کیا ہے جو مسلمان وہاں جانا چاہے ان کے لئے ایک بحری جہاز کا انتظام بھی کیاگیاہے جو انہیں ایک اسلامی سرزمین پر چھوڑ آئے گا۔ اس اعلان سے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد اس جہاز میں سوار ہوگئی۔جب جہاز سمندر کے عین درمیان میں پہنچا تو فرڈینینڈ کے فوجیوں نے بحری جہاز میں بزریعہ بارود سوراخ کردیا اور خود بحفاظت وہاں سے بھاگ نکلے، دیکھتے ہی دیکھتے پورا جہاز عرقاب ہوگیا۔ عیسائی دنیا اس پر بہت خوش ہو ئی اور فرڈینینڈ کو اس شرارت پر داد دی۔ یہ یکم اپریل کا دن تھا۔ آج یہ دن مغربی دنیا میں مسلمانوں کو ڈبونے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ رسم خواہ قدرت کامذاق ڑانے یا حضرت عیسی علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کے مذاق اڑانے کی یادرگار کے طورپر یا اسپین میں مسلمانوں کے ڈبونے کی یاد میں منایا جاتا ہو، ہر حال میں جائز نہیں ہے کیونکہ یہ کئی بدترین گناہوں کا مجموعہ ہے، مثلا جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، کسی کو اذیت دینا، ایک ایسے واقعے کی یادگار مناناجسمیں مسلمانوں کو دھوکہ دیکر قتل عام کیاگیا ہو۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اسمیں غیر مسلموں سے مشابہت پائی جاتی ہے حدیث شریف میں ہے کہ من تشبّہ بقوم فہو منہم(جس نے کسی قو م کی مشابہت اختیارکی وہ انہی میں سے ہے)
غرض یہ کہ اس رسم میں کئی قباحتیں اور مفاسد پائے جاتے ہیں لہٰذاہم بحیثیت مسلمان اس رسم بد سے خود بھی بچناچاہے اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دینی چاہیں.
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں پروموشن بیجز لگانے کی تقریب
- ہومچترال فٹ بال لیگ کا اختتام، جنگ بازار ایف سی نے پاکستان نیوی کو پنالٹیز پر شکست دے کر چیمپئن کا تاج اپنے سر سجا لیا
- مضامیندھڑکنوں کی زبان: ۔۔۔نظام ادھوری ہے۔۔۔تحریر: محمد جاوید حیات
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد
- ہومڈی پی او چترال اپر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ، منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات
- مضامیندادبیداد۔ مسائل کا حل۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پولیس لویر چترال کی طرف سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال تحصیل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- ہومنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ کی حوصلہ افزائی، ڈی پی او چترال اپر کی جانب سے کمنڈیشن سرٹیفکیٹ اور کیش ریوارڈ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔قناعت سب سے بڑی نعمت۔۔۔محمد جاوید حیات










