جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں، تو اس عمل کا اصل مقصد صرف اس کی مدد کرنا اور اس کی زندگی میں آسانی لانا ہوتا ہے، نہ کہ اس عمل کو سوشل میڈیا پر نمائش بنا کر شہرت حاصل کرنا۔ بدقسمتی سے، آج کل ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنی مدد کو سوشل میڈیا کی زینت بنا دیتے ہیں تاکہ دنیا انہیں داد دے اور ان کے اچھے کام کا جشن منائے۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی جاتا ہے کہ مدد کا مقصد خود غرضی ہے، نہ کہ انسانیت کی خدمت۔ اصل مدد وہ ہے جو دل سے کی جائے، بغیر کسی توقع کے، اور اس کا انعام صرف اللہ کی رضا میں ہو۔ اگر ہم اپنی مدد کو صرف اس مقصد کے لیے ظاہر کریں کہ ہمیں سراہا جائے، تو ہم اصل مقصد سے ہٹ کر جا رہے ہیں اور ہماری مدد کا مقصد بھی خالص نہیں رہتا۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر تشہیر کی بجائے، ہم اپنے اعمال کو اللہ کے سامنے پیش کریں، کیونکہ اس کی رضا ہی اصل انعام ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


