انسان دنیا میں مال و دولت اس لیے جمع کرتا ہے کہ وہ اسے سکون اور وقار دے گی، مگر جب یہی دولت اپنوں کے درمیان دیوار بن جائے، تو وہ رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ “وراثت میں حق تلفی” ہے، جس کی وجہ سے عدالتیں آباد اور گھر برباد ہو رہے ہیں۔
۱. قرآن حکیم کی وعید اور واضح احکامات
اللہ تعالیٰ نے وراثت کے احکامات کو محض مشورہ نہیں بلکہ “فرائض” قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی… اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا، وہ اسے آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے ذلت آمیز عذاب ہے۔” (سورۃ النساء: 13-14)
خاص طور پر بہنوں اور بیٹیوں کا حق مارنا ایک ایسی بدترین روایت بن چکی ہے جس پر قرآن نے سخت گرفت کی ہے۔ جائیداد پر قبضہ کرنا درحقیقت “آگ کے انگارے” کھانے کے مترادف ہے۔
۲. فرمانِ نبوی ﷺ: غصب شدہ زمین کا انجام
رسول اللہ ﷺ نے وراثت میں ناانصافی اور کسی کا حق چھیننے والوں کو سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
“جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ظلماً لی، قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔” (صحیح بخاری)
ایک اور جگہ فرمایا گیا کہ جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ دے گا۔
۳. وکیلوں کا فائدہ، خاندان کا نقصان۔۔۔
ضد اور انا کی وجہ سے جائیدادوں کے فیصلے نسلوں تک عدالتوں میں لٹکتے رہتے ہیں۔
مالی نقصان: جائیداد کی اصل قیمت سے زیادہ رقم وکیلوں کی فیسوں اور کچہری کے چکروں میں ضائع ہو جاتی ہے۔
نفسیاتی اذیت: باپ بیٹے کا دشمن اور بھائی بہن کا مخالف بن جاتا ہے، جس سے سکونِ قلب رخصت ہو جاتا ہے۔
بے برکتی: وہ مال جو حرام طریقے سے یا اپنوں کا دل دکھا کر حاصل کیا جائے، اس میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ وہ مال بیماریوں، حادثات اور ناخلف اولاد کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے۔
۴. حرص کا اندھیرا اور فراخ دلی کا اجالا
انسان کی حرص کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر انسان کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تمنا کرے گا، ابنِ آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔
اگر ہم اسلامی تقسیمِ وراثت پر عمل کریں تو:
معاشرے میں معاشی توازن پیدا ہوگا۔
عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا اور جائیداد واقعی “مفید” بنے گی۔
سب سے بڑھ کر، خون کے رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں گے۔
ایسی دولت کا کیا فائدہ جو آپ کو اپنوں کی نظر میں گرا دے اور اللہ کے حضور مجرم بنا دے؟ وارث مر جاتا ہے، جائیداد یہیں رہ جاتی ہے، مگر اس کے ساتھ جڑے ہوئے گناہ اور حق تلفیاں اس کے نامہ اعمال میں درج ہو جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم “انا” کو چھوڑ کر “حق” کو اپنائیں تاکہ دنیا میں بھی سرخرو ہوں اور آخرت میں بھی۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



