تازہ ترین
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول لوئر چترال کا آٹھواں بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل
اولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
۔ 1. صحبت کے اثرات اور اسلام کی تعلیمات انسان جس ماحول میں رہتا ہے اور جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، ان کے اثرات اس کی شخصیت پر لازمی پڑتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے “صحبتِ صالح” (نیک
رشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
۔ معاشرے میں جب اخلاقی اقدار زوال پذیر ہوتی ہیں، تو لوگ گناہوں کو خوبصورت نام دے کر اپنا ضمیر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج ہمارے دفاتر میں “شیرنی”یا “چائے پانی” کے نام
عالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
تحریر: بشیر حسین آزاد آج دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی نظر دوڑائیں، بے یقینی اور ہنگامی حالات کا غلبہ نظر آتا ہے۔ خاص طور پر پڑوس میں جاری جنگ نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا ہے بلکہ عالمی
حرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
انسان دنیا میں مال و دولت اس لیے جمع کرتا ہے کہ وہ اسے سکون اور وقار دے گی، مگر جب یہی دولت اپنوں کے درمیان دیوار بن جائے، تو وہ رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ
دو سفر نامے۔۔۔تحریر:بشیر حسین آزاد
ایک مصنف کے دو سفر نامے آج میرے ہاتھ میں ہیں ایک چین کا سفر نامہ ہے دوسرا تین ملکوں کا سفر نامہ ہے مصنف نے اٹلی، سپین اور قطر کی سیر کو ایک کتاب میں لاکر کوزے میں دریا کو بند کر دیا ہے
دھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات۔۔عقیدت کا سفر
عقیدت کا سفر بیس دن کا تھا مگر اگلے پچھلے دنوں کو ملا کر تقریبا تئس دن بن گئے..پاسپورٹ بنانے سے لے کر جہاز میں سوار ہونے..پھر جہاز سے اتر کر جائے سکونت پہنچنے تک کم از کم دس دن لگے..عقیدت
داد بیداد ۔ اُردو سما عت گاہ کی ایک سہانی دوپہر ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
اردو سما عت گاہ ادارہ فروغ قومی زبان کی عظیم الشان عما رت کا خو ب صورت اور اراستہ و پیراستہ آڈیٹوریم ہے جس کا شمار اسلا م اباد کے مقبول کانفرنس ہا لوں میں ہوتا ہے ایک سیا نی دوپہر کو ہم نے دیکھا
دھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔الھم لبیک
پتہ نہیں دل کو کچھ ہوگیا تھا۔۔پنشن پہ گیا تنخواہ بھی بند رہی پنشن فائل ڈائرکٹوریٹ میں کہین گم ہو گئی میں نے اپنے کلرک سے دست بستہ عرض کیا تھا کہ کچھ پیسے اکاونٹ میں أجائیں۔۔۔دیار رسول ص جانا
دھڑکنوں کی زبان۔۔محمد جاوید حیات۔۔چترال ماڈل کالج ایک معتبر تعلیمی اداره
چترال میں غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی ابتداء چترال پبلک سکول سے بوئی اشرف الدین مرحوم جنہوں نے کالج میں اپنی 17 گریٹ کی نوکری چھوڑ کر چترال میں چترال پبلک سکول کے نام سے ایک غیر سرکاری
دھڑکنوں کی زباں”سریر شفگتہ اور کالی وردی “۔۔محمد جاوید حیات
چھریرے لمبوترے بدن پہ کالی وردی سجتی بہت تھی مگر ودری کے اپنے تقاضے تھے شگفتہ دھن کی اپنی سخنوری تھی نہ یہ سب کچھ کالی وردی نے قبول کیا نہ خنک دھن نے اس کو اہمیت دی۔۔کالی وردی رزق کا زریعہ تھا بس

